ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے دنیا کے امیر ترین افراداس چیز کا خون دھڑا دھڑ اپنے آپ کو لگوارہے ہیں

صدا بہار جوانی اور لامتناہی زندگی کا راز پانے کی کوشش ہر دور میں کی جاتی رہی ہے لیکن آج کے امریکا میں اس خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام ہو رہا ہے کہ جس کا انکشاف سامنے آتے ہی عالمی میڈیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہر سان فرانسسکو میں ایک ایسا کلینک کام کر رہا ہے جہاں دنیا کے امیر ترین افراد آتے ہیں اور ان کے جسم میں نوجوانوں کے خون سے حاصل کیا گیا پلازمہ منتقل کیا جاتا ہے۔ اب تک 100 افراداس کلینک کی خدمات سے مستفید ہوچکے ہیں۔ اڑھائی لٹر پلازمہ اپنے جسم میں منتقل کروانے والے گاہک سے 8ہزار ڈالر (تقریباً 8لاکھ پاکستانی روپے) فیس لی جاتی ہے۔ پلازمہ خون کا مائع حصہ ہوتا ہے جو دیگر خلیات کو الگ کرنے کے بعد حاصل کیا جاتا ہے۔

اس کلینک میں آنے والے لوگوں کی اوسط عمر 60 سال ہے جو خود کو پھر سے جوان کرنے کیلئے نوجوانون کے خون کا پلازمہ اپنے جسم میں منتقل کرواتے ہیں۔ کلینک کی بنیاد رکھنے والے سائنسدان جیس کرامازین کا کہنا ہے کہ ”ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ جن معمر افراد نے نوجوانوں کا خون اپنے جسم میں منتقل کروایا ہے ان کی صحت پہلے سے بہت بہتر نظر آتی ہے اور ان میں ذیا بیطس اور دل کی بیماری کے مسائل بھی کم ہورہے ہیں، جبکہ یادداشت بھی بہتر ہوئی ہے۔“

واضح رہے کہ بوڑھوں کو جوان کرنے کا دعوٰی کرنے والے کلینک کے بانی سائنسدان کا کہنا ہے کہ اس کے طریقہ علاج کی بنیاد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیقات پر ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ اس طریقے سے معمر افراد کے اعضائ، پٹھوں اور بنیادی خلیات کو پھر سے صحت مند اور توانا حالت میں لایا جاسکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سٹینفرڈ یونیورسٹی کے ہی ایک ممتاز سائنسدان ٹونی وائس کورے اس متنازع طریقہ علاج کے سخت خلاف ہیں اور اسے بے فائدہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اخلاقی پہلوﺅں کے علاوہ خون کی منتقلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں اور انفیکشن کی جانب بھی توجہ دلائی ہے اور اس کام کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں