ڈاکٹروں نے خاتون کے ہاتھ کے اندر ایک ایسی چیز لگادی کہ زندگی ہی بدل گئی، اب کوئی چابی ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے نہ پاس ورڈ یاد رکھنے کی، ایسی چیز کہ تفصیلات جان کر یقین کرنا مشکل ہوجائے

سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت کے باعث ”سپرہیومن“ کا مفروضہ حقیقت کا روپ دھارنے لگا ہے اورسائنسدان اس میں بہت حد تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔اب انسانوں کے ہاتھوں میں ایسی مائیکروچپس (Microchips)لگائی جانے لگی ہیں

جن کے ذریعے وہ بغیرچابی کے تالہ کھول سکتے ہیں اور اپنے کمپیوٹر کو بغیر پاس ورڈ ان لاک کر سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی ایک خاتون شانتی کورپورال نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں میں ڈاکٹروں سے یہ مائیکروچپس لگوالی ہیں، جس کے بعد اس میں سپرہیومن جیسی طاقت آ گئی ہے۔

اب وہ بغیرچابی کے اپنے گھر کے تالے کھول سکتی ہے اور اپنے کمپیوٹر کو بھی پاس ورڈ کے بغیر سٹارٹ کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق شانتی کورپورال اس ٹیکنالوجی میں مزید اضافہ چاہتی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ اس کے ہاتھوں میں ایسی طاقت آ جائے کہ اسے اپنے ساتھ پرس اور کارڈز وغیرہ رکھنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے اور وہ اس سے بھی جدید زندگی سے لطف اندوز ہو سکے۔

شانتی کا کہنا ہے کہ ”آپ اپنی زندگی اس طرح بنا سکتے ہیں جس میں آپ کو پاس ورڈز اور پن کوڈز کی بالکل ضرورت نہ ہو۔ یہ ٹیکنالوجی بالکل ”بائی پاس“ کی طرح کی ہے، لہٰذا مجھے امید ہے کہ جلد اس ٹیکنالوجی کو رقم کی ادائیگی میں بھی استعمال کیا جا سکے گا، تاکہ شاپنگ کے وقت ہمیں پرس اور کارڈز ساتھ نہ رکھنے پڑیں

، بلکہ یہ کام بھی محض ہاتھوں سے ہی ہو جائے۔“شانتی کا مزید کہنا تھا کہ ”اس ٹیکنالوجی میں آپ کے اندر لگائی جانے والی مائیکرو چپس میں ایک منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے۔ جو دروازہ بھی سوائپ کارڈ کے ذریعے کھلتا ہووہ اس چپ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹروغیرہ کے پاس ورڈز بھی اس چپ کی مدد سے محض ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ان لاک کیے جا سکتے ہیں۔

اب مجھے یہ پاس ورڈز یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ “ رپورٹ کے مطابق یہ مائیکروچپس شانتی کی ہاتھوں میں انگوٹھوں اور شہادت کی انگلیوں کے درمیان جلد میں نصب کی گئی ہیں۔ اوپر سے جلد میں ان چپس کو محسوس کرنا ناممکن ہے کیونکہ ان کا سائز چاول کے ایک دانے کے برابر ہے۔ یہ چپس سمارٹ فون کی طرح استعمال کی جا سکتی ہیں اور ان میں ڈیٹا بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں