بھارت میں 2100 مسلمان لڑکیوں کی ہندوﺅں سے شادی کروانے کا فیصلہ، ایسی خبر آگئی کہ جان کر پاکستانی شکر کریں گے کہ ہمیں علیحدہ ملک مل گیا

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہندوانتہاءپسند جو سلوک روا رکھے ہوئے ہیں وہی ہم پاکستانیوں کو نصیحت کے لیے کافی ہے، لیکن اب ایک ایسی خبر آ گئی ہے کہ سن کر علیحدہ ملک ملنے پر پاکستانی اللہ کے حضور سجدہ¿ شکر بجا لائیں گے۔

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہندوانتہاءپسند جماعت راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کی ذیلی جماعت ’ہندو جگران منچھ‘ کے ریاست اترپردیش یونٹ نے 2100مسلمان لڑکیوں کی ہندو لڑکوں کے ساتھ شادیاں کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان شادیوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا۔

شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ ”یہ شادیاں تنظیم کے نئے پروگرام ”بیٹی بچاﺅ، بہو لاﺅ“ پروگرام کے تحت کروائی جارہی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نوبیاہتا جوڑوں کو مالی و سماجی تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ شادیاں ہندومذہب کی رسومات کے مطابق کروائی جائیں گی۔ہندوجگران منچھ اترپردیش یونٹ کے سربراہ اجو چوہان کا کہنا تھا کہ ”ہم جو یہ کام کرنے جا رہے ہیں یہ ’لَو جہاد‘ (Love Jihad)کا الٹ ہے۔“

لَو جہاد ہندو انتہاءپسندوں کی ایجاد کردہ ایک اصطلاح ہے جس کے مطابق مسلمان نوجوان مبینہ طور پر ہندولڑکیوں کو ورغلا کر ان سے شادیاں کرتے ہیں۔اجو چوہان کا کہنا تھا کہ ”لَو جہاد میں صرف ہندو لڑکیاں ہی مسلمان لڑکوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔اب ہم انہیں انہی کی زبان میں سبق سکھائیں گے۔

مسلمان لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے شادیاں کروانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ملک کی آبادی کم ہو گی، بالخصوص مسلمانوں کی۔ اگر کوئی مسلمان لڑکی مسلمان لڑکے سے شادی کرتی ہے تو وہ 10بچے پیدا کرتی ہے جو بڑے ہو کر ہندوﺅں کے خلاف بولتے ہیں۔ اگر ہم مسلمان لڑکیوں کی ہندولڑکوں سے شادی کروائیں گے تو انہیں زیادہ بچے پیدا نہیں کرنے پڑیں گے اور یہ بچے پیدا کرکے ہندوﺅں کی آبادی میں اضافہ کریںگی،

کیونکہ ان کے بچے ہندو ہوں گے۔“رپورٹ کے مطابق ہندوجگران منچھ نے 2016ءسے اترپردیش میں ’ہندولڑکیاں بچاﺅ‘تحریک بھی چلارکھی ہے جس میں ہندولڑکیوں کو سکولوں میں مسلمان لڑکوں سے نفرت سکھائی جاتی ہے۔انہیں بتایا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے سے شادی کرنے کے کیا نقصانات ہیں۔ اس مہم میں تنظیم کے کارندے سکولوں اور کالجوں میں پمفلٹ بھی تقسیم کرتے ہیں جن پر ایسا ہی مواد تحریر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں