افسران شاہی اور دیہاتی لڑاکے

نواب حافظ رحمت خاں ہندوستان کے اُن نیک اور نامور حکمرانوں میں سے تھے جو اپنی بہادری اور انصاف پروری میں اپنی مثال آپ تھے. نواب صاحب کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ اُن کی حکومت میں سارے کام خداترسی کے ساتھ شریعت کے مطابق ہوں.

جن لوگوں نے نواب صاحب کی تاریخ لکھی ہے وہ سب گواہ ہیں کہ حافظ صاحب کے عہدِحکومت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے.ایک روز حافظ صاحب کے صاحبزادے حافظ محمدیارخان پبلی بصیت کے جنگل میں شکار کو گئے. جنگل کے قریب پہنچے تو اپنے ساتھیوں اور ہاتھی گھوڑوں کو تو گائوں میں چھوڑا.

صرف محمدخاں خلجی کو ساتھ لیا. یہ سردار شکار میں بڑا ماہر تھا. ابھی جنگل میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ کچھ ہرن دکھائی دیے. ان کا پیچھا کیا. قریب پہنچے تو حافظ محمدیارخاں ایک جگہ گھات میں بیٹھے اور محمدخاں خلجی کو حکم دیا کہ ہرنوں کو گھیر کر سامنے لائو. محمدخاں خلجی چلا تو اُس وقت گائوں کا ایک شخص اُس طرف آنکلا.

محمدخاں نے اُسے ہرنوں کی طرف جانے سے منع کیا لیکن وہ نہ مانا. آگے بڑھتا چلا گیا. اُس کے پائوں کی آہٹ پا کر ہرن بھاگ گئے اور آن کی آن میں نظروں سے اوجھل ہوگئے. محمدخاں کو بڑا غصہ آیا. اس نے گنوار کو گالی دی اور کہا ‘‘تجھ کو کیا ہوگیا تھا کہ تو نے میری بات نہیں سنی اور میرا شکار نکال دیا’’.

گالی کے جواب میں گنوار نے بھی گالی دی اور بولا ‘‘میں تیرے واسطے اپنا راستہ کیوں چھوڑ دیتا؟’’ اس جواب پر محمدخاں نے اُس کے منہ پر طمانچہ مارا. وہ طمانچہ کھا کر بھاگا اور اپنے سات آدمیوں کو بلالایا اور ان کی کمک پا کر محمدخاں کے سر پر لاٹھی دے ماری. محمدخاں فوجی سردار اور بڑا قوی آدمی تھا.

زخم کھا کر اس سے لپٹ گیا اور دے پٹکا. اُسی وقت حافظ محمدیار خاں بھی آگئے. لڑائی کا یہ رنگ دیکھا تو چھری محمدخاں کے ہاتھ میں تھما دی.محمدخاں کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر دوسرے دیہاتی لاٹھیاں لے کر پل پڑے اور لڑنے لگے. یہ دونوں بہترین سپاہی تھے. سات آٹھ آدمیوں کو خاطر میں کیا لاتے لیکن لاٹھیوں کی چوٹوں سے نہ بچ سکے.

لڑ ہی رہے تھے کہ حافظ محمدخاں کے سوار اور پیادے اُن کو ڈھونڈتے ہوئے آگئے. گائوں والوں نے لشکری آدمیوں کو دیکھا تو سمجھے کہ یہ دونوں یا تو شہزادے ہیں یا بڑے آفیسر. اب وہ سر پر پائوں رکھ کر بھاگے. جنگل میں گھس کر اِدھر اُدھر چھپ گئے. حافظ محمدیارخاں نے اپنے آدمیوں کی مدد سے ان کو تلاش کرایا مگر ایک بھی ہاتھ نہ لگا.

مجبور ہو کر ساتوں دیہاتیوں کی بیل گاڑیاں جو قریب ہی تھیں اور ایندھن سے لدھی تھیں. کھینچ کر پبلی بصیت لے گئے. تیسرے چوتھے دن دیہاتی ملک سیرخاں گورنر پبلی بصیت کے پاس پہنچے اور درخواست دی کہ کوئی شخص ہماری گاڑیاں جنگل سے ہانک کر پبلی بصیت لے آیا ہے. گورنر نے پوچھا تم پہچانتے ہو؟ بولے ’’جی ہاں.زخم کھا کر اس سے لپٹ گیا اور دے پٹکا. اُسی وقت حافظ محمدیار خاں بھی آگئے. لڑائی کا یہ رنگ دیکھا تو چھری محمدخاں کے ہاتھ میں تھما دی.محمدخاں کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر دوسرے دیہاتی لاٹھیاں لے کر پل پڑے اور لڑنے لگے. یہ دونوں بہترین سپاہی تھے. سات آٹھ آدمیوں کو خاطر میں کیا لاتے لیکن لاٹھیوں کی چوٹوں سے نہ بچ سکے.

لڑ ہی رہے تھے کہ حافظ محمدخاں کے سوار اور پیادے اُن کو ڈھونڈتے ہوئے آگئے. گائوں والوں نے لشکری آدمیوں کو دیکھا تو سمجھے کہ یہ دونوں یا تو شہزادے ہیں یا بڑے آفیسر. اب وہ سر پر پائوں رکھ کر بھاگے. جنگل میں گھس کر اِدھر اُدھر چھپ گئے. حافظ محمدیارخاں نے اپنے آدمیوں کی مدد سے ان کو تلاش کرایا مگر ایک بھی ہاتھ نہ لگا.

مجبور ہو کر ساتوں دیہاتیوں کی بیل گاڑیاں جو قریب ہی تھیں اور ایندھن سے لدھی تھیں. کھینچ کر پبلی بصیت لے گئے. تیسرے چوتھے دن دیہاتی ملک سیرخاں گورنر پبلی بصیت کے پاس پہنچے اور درخواست دی کہ کوئی شخص ہماری گاڑیاں جنگل سے ہانک کر پبلی بصیت لے آیا ہے. گورنر نے پوچھا تم پہچانتے ہو؟ بولے ’’جی ہاں.

مگر ہم ملزموں کے بارے میں نواب صاحب کے سامنے کچھ عرض کریں گے.‘‘ ملک صاحب نے مقدمہ درج کرکے نواب صاحب کی خدمت میں بھیج دیا. وہاں سے ان سب کی طلبی ہوئی تو فریاد کی کہ حضور کے صاحبزادوں میں سے کوئی ہماری گاڑیاں اور بیل جنگل سے لے آیا ہے.

نواب صاحب نے وجہ پوچھی تو دیہاتی گھبرائے اور سوچا کہ قصور تو اپنا ہے وہ کچھ کہہ نہ سکے. نواب صاحب نے اطمینان دلایا کہ پورا پورا انصاف کیا جائے گا. گھبرائو نہیں.مگر دیہاتی انصاف کا نام سُن کر بوکھلا گئے تو جان بخشی کی درخواست کے بعد پورا حال سچ سچ کہہ دیا. نواب صاحب نے حکم دیا کہ بیل گاڑیاں معہ سامان اور ملزم حاضر کیا جائے.

اس حکم کے بموجب حافظ محمدیار خاں عدالت میں حاضر ہوئے تو نواب صاحب نے بیٹے کو ڈانٹا اور کہا تم ان بے گناہوں کا مال کیوں چھین لائے؟ بیٹے نے عرض کیا ’’حضور! اس کا سبب ان سب سے پوچھ لیا جائے .‘‘ اور پھر اپنے زخم دکھائے. محمدخاں خلجی نے بھی اپنا سر اور کندھا کھول کر دکھایا.

دیہاتیوں کی زیادتی ثابت ہوگئی لیکن نواب صاحب نے فیصلہ سنایا: ’’ان بے چارے بے خبر لوگوں کا کوئی قصور نہیں. تم خود اس کے ذمہ دار ہو. خبردار پھر کبھی ایسی جرأت نہ کرنا. چونکہ یہ دیہاتی بے خبر تھے اس لیے ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہوسکتا.

جائو ان کی بیل گاڑیاں اور سامان واپس کردو اور انہیں راضی کرکے خوش کرو.‘‘ حافظ محمدیارخاں اور محمد خاں خلجی نے یہ فیصلہ غنیمت سمجھا اور بہت کچھ دے دلا کر راضی نامہ داخل کردیا. دیہاتی خوشی خوشی لوٹ گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں