نُکتۂ فقاہت

ایک دفعہ حضرت عمرؓ مکہ تشریف لے گئے اور اپنی چادر ایک شخص پر جو خانۂ کعبہ میں کھڑا ہوا تھا ڈال دی. اتفاق سے اس پر ایک کبوتر بیٹھ گیا. انہوں نے اس خیال سے

کہ چادر کو اپنی بیٹ سے گندہ نہ کر دے اس کو اڑا دیا. کبوتر اُڑ کردوسری جگہ جا بیٹھا. وہاں اس کو ایک سانپ نے کاٹ لیا اور وہ اسی وقت مر گیا. حضرت عثمانؓ کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے کفارہ کا فتویٰ دیا کیونکہ

وہ اس کبوتر کو ایک محفوظ مقام سے غیرمحفوظ مقام میں پہنچانے کاباعث ہوئے تھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں