’ہمیں یہ 4سالہ بچی ریلوے سٹیشن پر ملی تھی‘ نوجوان میاں بیوی پولیس کے پاس پہنچ گئے، لیکن جب پولیس نے اس بچی کو دیکھا تو جسم پر ایسی چیز نظر آگئی کہ ہوش اُڑگئے، میاں بیوی کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ۔۔۔

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) اولاد کے لئے ماں سراپا محبت اور تحفظ کی علامت ہوتی ہے لیکن بھارت میں ایک نوجوان خاتون کا دل ایسا پتھر ہوا کہ اپنی ہی ننھی بیٹی کو تپتے ہوئے فرائنگ پین پر بٹھا کر اس کا نازک جسم بری طرح جلا ڈالا. ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 25 سالہ للیتا مہاپترا اور اس کا آشنا 28 سالہ پرکاش چار سالہ بچی کو لے کر ایک مقامی فلاحی سینٹر گئے اور سٹاف سے کہا کہ انہیں یہ بچی سکندر آباد ریلوے سٹیشن پر ملی تھی.

فلاحی مرکز کے سٹاف نے شکوک و شبہات پر للیتا

اور اس کے ساتھی مرد سے پوچھ گچھ کی تو یہ بھیانک انکشاف سامنے آیا کہ یہ بچی للیتا کی بیٹی تھی اور اسی نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر گرم فرائنگ پین سے اس کے جسم کو جلایا تھا. بدبخت خاتون نے متاثرہ بچی کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے کے بعد بھی جھوٹ بولا کہ وہ اتفاقاً گرم فرائینگ پین پر گر کر جل گئی تھی، تاہم بعدا زاں سب کچھ مان لیا. پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ للیتا ایک ہاسٹل میں باورچن کے طور پر کام کرتی ہے جبکہ پرکاش اسی ہاسٹل میں چوکیدار ہے. بچی نے ہاسٹل میں مقیم ایک

شخص کے لیپ ٹاپ کو نقصان پہنچایا تھا جس پر للیتا نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعدازاں اپنے آشنا کی موجودگی میں اسے گرم فرائنگ پین پر بٹھادیا. ملزمہ اپنے آشنا کے ساتھ رہائش پذیر ہے، جبکہ تاحال اس نے اپنے شوہر سے طلاق نہیں لی. انسانی حقوق کے ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ للیتا اپنی بچی سے جان چھڑانا چاہتی ہے. وہ اسے پہلے بھی بدترین تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہے اور بچی کے جسم پر اس سے پہلے جلنے کے باعث لگنے والے زخموں کے نشانات بھی دیکھے جاسکتے ہیں. پولیس نے للیتا اور اس کے آشنا کے خلاف تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں