آہ ہم گدھے! …. ڈھیں چوں ڈھیں چوں

بھیڑئیے نے بوڑھے گدھے کی پشت میں ایک پنجہ گاڑ دیا۔ گدھا سہم گیا اور بھیڑئیے سے کہنے لگا: ”میں جانتا ہوں بھائی خوب جانتا ہوں کہ تم بھیڑیے نہیں ہو۔ میری پیٹھ پر ہاتھ مت رکھو، کیونکہ مجھے بڑی گدگدی ہورہی ہے۔ ویسے بھی مجھے مذاق بالکل اچھا نہیں لگتا۔“بھیڑئیے نے اپنے لمبے لمبے تیز دانت بوڑھے گدھے کی پیٹھ میں گاڑ دیئے اور گوشت کا ایک بڑا سا ٹکڑا نوچ لیا۔پھر بھیڑئیے نے اس کی گردن پر وار کیا۔گدھے کے سارے جسم سے خون کی دھاریں بہنے لگیں۔اپنی یہ حالت دیکھ کر اسے اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ
گدھیالی زبان بالکل بھول گیا۔ اس کے منھ سے صرف یہ الفاظ نکل سکے۔”ڈھیں چوں ڈھیں چوں۔“ (گدھیالی زبان میں اس کا مطلب ہے، بھیڑیا ہی ہے ، بھیڑیا ہی ہے۔)۔بھیڑیا بوڑھے گدھے کو چیرتا پھاڑتا رہا اور گدھا آخری دم تک ڈھیں چوں ڈھیں چوں کرتا رہا۔ ان اندوہناک حالات میں بھیڑئیے کے ہاتھوں جان گنوانے والے بوڑھے گدھے کی ان دو ہجوں والی آخری فریاد پہاڑوں اور چٹانوں نے سنی تو ان کے بھی دل پگھل گئے…. پہاڑوں اور چٹانوں سے ٹکرا کر یہی الفاظ پوری وادی میں گونج اٹھے۔ ہم گدھوں کی ساری قوم نے سنے۔ڈھیں چوں ڈھیں چوں۔وہ دن اور آج کا دن ہماری قوم گفتار کی نعمت سے محروم ہے۔ اس معذوری کی وجہ سے اب ہم اپنے تمام خیالات، جذبات اور احساسات کا اظہار رینک رینک کر ہی کرتے ہیں۔ وہ بوڑھا گدھا آخری دم تک حقیقت کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دے کر انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ خطرہ اس کے سر پر آگیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا، تو ہمیں اپنی پیاری زبان سے ہاتھ نہ دھونے پڑتے۔ آج ہم بھی آپ سب کی طرح اہل زبان ہوتے۔آہ ہم گدھے! آہ ہماری یہ مظلوم قوم! …. ڈھیں چوں ڈھیں چوں

اپنا تبصرہ بھیجیں