ایک استانی کی لڑکیوں کے ماں باپ کو نصیحت

مس باتھ روم میں ایک لڑکی موبائل پربات کررہی ہے ہمارے ادارے میں موبائل فون لانے پر پابندی ہے، لہذا جیسے ہی چند طالبات نے مجھے یہ اطلاع دی، میں بڑی سرعت سے جائے وقوع پر پہنچی،،،

ایک سیدھی سادی سی بچی تولیے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باتھ روم سے باہر نکلی!!

”موبائل نکالیے“
مجھے اس پر شک نہیں تھا، وہ تو اسے باتھ روم سے باہر آتے دیکھ کر ایسے ہی پوچھ لیا تھا،،،
”میرے پاس نہیں ،مس میرے پاس نہیں ہے موبائل“چہرےپر بلا کی معصومیت تھی۔ اس کے معصوم چہرے سے نگاہ ہٹی اور براہ راست ادارے مونوگرام والی جیب پر پڑگئی!!

”یہ کیا ہے“ اگلے ہی لمحے چپس کا پیکٹ میرے ہاتھ میں تھا، جس کے اندر حرکت ہورہی تھی،،
”میں نے استعمال نہیں کیا۔“ اس نے میرے ہاتھ سے چپس کے پیکٹ میں لپٹا ہوا موبائل فون جھپٹنا چاہا!!

”اول تو ادارے میں موبائل فون لانے کی اجازت نہیں، پھر….“ میری بات مکمل ہونے سے قبل اس نے کہا::
”مس! کیا بیگ میں رکھتی، چوری نہ ہوجاتا؟“

”کل پرنسپل سے لے لینا، آج تو وہ میٹنگ میں گئی ہوئی ہیں۔“
میں نے اتنا کہا اور اگلا قدم بڑھانا چاہا جو اس نے بڑھنے نہیں دیا۔”پلیز…. میرا موبائل دے دیجئے۔“
وہ برے طریقے سے جھپٹی۔”میں نے کہا ناں،
کل والدین کو بھیج دینا، مل جائے گا۔“ اسی وقت موبائل فون پر کال آرہی تھی!!

”نہیں مجھے ابھی چاہیے، اسی وقت“ اس کا انداز نہایت جارحانہ اور جاہلانہ ہوگیا تھا۔ مجھ پر حملہ کرنے کی لمحے بھر کی دیر تھی کہ سینئر ٹیچر نے آکر اسے ڈانٹا، مگر وہ قابو میں آنے والوں میں سے نہ تھی۔ حتیٰ کہ ادارے کی چھٹی ہوگئی اور وہ تڑپ تڑپ کر روتی رہی۔ موبائل فون پوشیدہ مقام پر رکھنے سے قبل لاتعداد آنے والے ایس ایم ایس چیک کیے گئے تو معلوم ہوا آگ دوسری جانب بھی برابر لگی ہوئی تھی۔ ایک لڑکا ایس ایم ایس کے جواب نہ ملنے پر بے قرار تھا!!!

اگلے دن نہ وہ بچی آئی نہ کوئی موبائل فون لینے، لیکن اس کے گھر سے کوئی اس کا فون سیٹ لینے آتا بھی تو کیا ہوتا۔ ہم جتنے بھی اس کے ایس ایم ایس پڑھو ادیتے ماں باپ کو ٹیچرز ہی کو برا بھلا کہنے پر اکتفا کرنا تھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عموماً مائیں آتی ہیں تو ٹیچرز کو دقیانوسی اور اپنی بیٹی کو کھلا ذہن رکھنے والی قرار دیتی ہیں اور اکثر دوبارہ جب ملاقات کاشرف بخشتی ہیں تو بیٹی کسی کے ساتھ فرار ہو چکی ہوتی ہے اور اس آس پر آتی ہیں کہ شاید بھولے بھٹکے ادارے میں آجائے کسی کام سے، مگر اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے اور ان کی آس، آس ہی رہ جاتی ہے۔ کچھ والدین تو بے عزتی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ”اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“””

میں ایک گورنمنٹ ادارے میں ٹیچر ہوں۔ میری ملازمت میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اکثر ایسا هوتا ہے،،،

میں یہ نہیں کہتی کہ میرے دور میں ماحول سو فی صد پاکیزہ تھا، لیکن آج کی طرح کی صورت حال بھی نهیں تھی۔ زیاده تر اس قسم کا تعلق رشتہ ازدواج میں تبدیل هو جاتا!!!

میں اس کا ذمے دارنہ میڈیا کو گردانتی ہوں اور نہ ہی موبائل فون کو، میں اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی ذمے داری برملا والدین پر ڈالتی ہوں۔ انتہائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات جن کے لاغر وجود چیخ چیخ کر باور کروارہے ہوتے ہیں کہ انہیں کئی روز سے پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوئی ہے، فیس جمع کروانے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے!!!

لیکن ان کے پاس موجود موبائل سیٹ قابل دید ہوتے ہیں۔ یہ سیٹ کہاں سے آیا، اگر آبھی گیا تو بیلنس کے لیے پیسے کہاں سے آرہے ہیں، یہ نت نئے نام کی دوستیاں کہاں سے ہو گئیں، موبائل فون سائلنٹ پر کیوں رکھا جانے لگا۔ وہ بچی جو رات کو کسی کمرے میں اکیلے سونے سے ڈرتی تھی، موبائل سیٹ آنے کے بعد اتنی بہادر کیسے ہوگئی۔ اسے فون سرہانے رکھے بغیر نیند کیوں نہیں آتی۔ یہ سوالات ماؤں کے اذہان میں کیوں نہیں کلبلاتے؟؟؟

یہ صرف کالج طالبات ہی کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا شکار تمام نوجوان نسل ہے۔ لڑکے، لڑکیاں سب ہی اس بلاکا شکار ہیں۔ آپ کوچنگ سینٹرز کا دورہ کریں، وہاں مزید کم عمر اسکول کے بچے ہیں۔ اندر بچیوں کی کلاس ختم، باہر لڑکے ایس ایم ایس پڑھ رہے ہیں۔ ”میں آرہی ہوں۔“

دو گھنٹے کی کوچنگ کلاس اکثر چار گھنٹے پر محیط ہو جاتی ہے۔ مائیں بچیوں کی زبانی سن کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ بلا شبہ اکثر سچ بھی ہوتا ہے، مگر ماؤں کو از خود تصدیق کرنی چاہیے۔ بچیوں کو انہتائی قیمتی تحائف مل رہے ہوتے ہیں۔ مائیں بہ آسانی بچیوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔ یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی کہ یہ کون سی سہیلی ہے۔ اگر بچی انجانا نام لیتی ہے تو اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جاتی؟؟؟

مائیں کیوں نہیں سوچتیں کہ بیٹی کی نئی دوست جس کا جمعہ جمعہ آٹھ دن سے نام سن رہی ہیں، بھلا وہ کیوں اتنے قیمتی تحائف دے گی۔ بچی کو کیوں اچانک ہی سجنے سنور نے کا شوق چڑایا۔ کیوں وہ گھر سے سنور کر نکلنے لگی؟؟؟

ماؤں کوکوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ خود محلے کی تانک جھانک میں اس قدر مگن رہتی ہیں کہ عزت کے محل میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا، البتہ محل ڈھے جانے کے بعد واویلا مچاتی ہیں!!!

میری ماؤں سے التجا ہے خدارا اپنی بچیوں پر توجہ دیں۔ یہ نازک کلیاں ہیں، ان کی اچھی آبیاری کریں گی تو یہ آپ کے گلشن کی رونق ہیں، ورنہ مسلی، مرجھائی کلیاں گلشن کا حسن ماند کردیتی ہیں!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں