’ میں پاک ہوں مجھے نہانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘ سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کو جس رات تختہ دار پر لے جانا تھا ،اس رات کیا کچھ ہوا؟انتہائی سنسنی خیز تفصیلات

پیپلزپارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بارے میں اب تک کئی طرح کی روایات بیان کی جاچکی ہیں ،کسی نے دعویٰ کیا کہ تختہ دار تک پہنچنے سے پہلے ان پر تشدد کیا گیا ،

کسی نے کہا کہ زہر دے کر ماراگیااور کوئی کہتا رہا کہ وہ آخری وقت میں چیخ و پکار کرتے رہے ،اس پر اگرچہ بھٹو کے آخری ایام کے سکیورٹی انچارج کرنل رفیع الدین بھی اپنی کتاب میں وضاحت کرچکے ہیں کہ انکی زندگی کی آخری رات کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا لیکن پاکستان کے ممتاز صحافی ادیب جاودانی مرحوم نے بھٹو مرحوم کے آخری ایام اور بالخصوص آخری رات پر کافی تحقیق کرکے جو مواد شائع کیا

اس نے تہلکہ مچادیا تھا ۔ ادیب جاودانی مرحوم پاکستان کی سیاسی وصحافتی تاریخ کا انسائیکلو پیڈیا تھے ۔انہوں نے اپنے مؤقر ڈائجسٹ بہت سے تاریخی مضامین شائع کئے اور اپنے حافظیکی مدد سے وہ تاریخ کے ورق الٹ کر یاداشتیں تازہ کئے کرتے تھے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے آخری ایام پر انہوں نے جو خاص نمبر شائع کیااس کی پاداش میں انہیں مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا ،

ان سے راقم کی جب بھی ملاقات ہوئی ،کوئی نہ کوئی تاریخی ورق سنا دیتے۔جس رات بھٹو کو پھانسی دی جانی تھی ،اسکی مکمل کہانی اور واقعات پر انہوں نے باقاعدہ تحقیق کی اور اسکے کرداروں سے انٹرویو بھی کئے تھے ۔

انہوں نے اپنے مضامین میں بھی اسکی تفصیلات شائع کیں،ادیب جاودانی مرحوم نے اپنی یادداشتوں کے حوالہ سے ایک مضمون میں اس رات کو جزئیات کے ساتھ کیسے بیان کیا ۔انہوں نے لکھا تھا کہ ’’ 4 اپریل 8 بجے شام کو فوجی حکام کی طرف سے سپرنٹنڈنٹ جیل یار محمد کو حتمی طور پر ہدایت کر دی گئی تھی کہ وہ بھٹو کو الصبح دو بجے پھانسی پر لٹکا دیئے جانے کی اطلاع دے دیں ۔

اگر وہ وصیت لکھنا چاہتے ہوں تو اس کے لکھنے کی ہدایت کر دیں۔ یار محمد خان نے اپنے دو ماتحت افسروں کاظم بلوچ اور مجید قریشی کو یہ ناگوار فریضہ ادا کرنے کیلئے بھیج دیا۔ مجید قریشی بھٹو کی کال کوٹھری پہنچے اور سوگوار لہجے میں کہا۔

’’سر مجھے افسوس ہے آپ کی زندگی کا آخر وقت آن پہنچا ہے‘‘۔ بھٹو نے بے یقینی کے انداز میں مجید قریشی کی طرف دیکھا، چند لمحے ان کے چہرے پر پریشانی رہی۔ ’’what are you saying‘‘
بھٹو نے نہایت نحیف لہجے میں پوچھا۔

مجید قریشی نے جواباً کہا۔ ’’I am very Sorry sir, the news is correct اس مرحلے پر بھٹو چند لمحے خاموش رہے پھر مجید قریشی سے سوال کیا۔ ’’کیا بیگم نصرت کی ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی؟‘‘

’’نہیں جناب، براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا‘‘ مجید قریشی کے ان الفاظ پر بھٹو چند لمحے پژمردہ سے رہے، پھر بولے ’’ Are you Sure, They will do, that‘‘
’’مجھے یہ کہا گیا ہے کہ میں آپ کو وصیت لکھنے کیلئے کاغذ قلم پہنچا دوں‘‘ مجید قریشی نے کاغذ اور قلم بھٹو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا اور خود انہیں خدا حافظ کہہ کر کوٹھڑی سے باہر نکل آیا۔ بھٹو گھنٹہ بھر کاغذوں پر کچھ لکھتے رہے، پھر انہوں نے یہ سب کاغذ پھاڑ ڈالے، اور لیٹ گئے۔

ایک بجے کے قریب دوبارہ مجید قریشی کو بھٹو کے پاس بھیجا گیا۔ مجید قریشی نے دیکھا بھٹو بالکل بے حس پڑے تھے ، مجید قریشی گھبرا کر کوٹھڑی سے باہر آ گئے اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو صورت حال سے آگاہ کیا، جیل حکام شدید پریشان ہو گئے۔

مجید قریشی کی پریشان کن اطلاع پر سپرنٹنڈنٹ جیل یار محمد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خواجہ غلام رسول، ڈاکٹر اصغر علی شاہ سمیت بھٹو کی کوٹھڑی کی طرف لپکے، مجید قریشی بدستور ان کے آگے آگے تھا، ان کے پیچھے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات چودھری نذیر احمد اور کرنل رفیع عالم بھی بھٹو کے سیل کی طرف دوڑ پڑے۔

ان سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ان سب نے دیکھا بھٹو گہری اور پرسکون نیند سو رہے تھے، بلب کی روشنی میں ان کا پروقار چہرہ دمک رہا تھا، ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے سوتے میں ان کی نبض دیکھی اور باقی لوگوں کو سر کے اشارے سے ان کے زندہ سلامت ہونے کی نوید دے دی، یار محمد خان سپرنٹنڈنٹ جیل نے مجید قریشی کو اشارہ کر کے کہا ’’صاحب کو اٹھا دو‘‘

مجید قریشی نے بھٹو مرحوم کو آہستہ آہستہ جھنجھوڑا، نیند سے بیدار ہو کر بھٹو اٹھ کر بیٹھ گئے، مجید قریشی نے انہیں کہا کہ وہ اٹھ کر نہا لیں، ان کے آخری غسل کیلئے پانی تیار ہے، بھٹو چند لمحے خاموش رہے پھر بولے’’ میں پاک ہوں نہانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
انہوں نے بھٹو کو موت کے وارنٹ کی عبارت پڑھ کر سنائی اور پوچھا’’ سر آپ پھانسی گھاٹ تک چل کر جانا پسند کریں گے یا آپ کی سہولت کیلئے اسٹریچر منگوا لیا جائے‘‘

’’مجھے وصیت نہیں لکھنے دیتے تو پھر میں آپ لوگوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتا‘‘ یہ کہہ کر بھٹو دوبارہ لیٹ گئے۔ کرنل رفیع عالم نے برہم ہو کر کہا ’’سٹریچر منگواو، جلدی کرو‘‘ چار سپاہی سٹریچر لے کر آ گئے اور بھٹو کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا دی اور ایک فوجی افسر نے آگے بڑھ کر بھٹو کو اٹھا کر سٹریچر پر بٹھا دیا اور سپاہیوں نے اسٹریچر اٹھا لی۔

بھٹو نے ایک حسرت بھری نظر اپنی کال کوٹھڑی کی دیواروں پر ڈالی، جیسے ان دیواروں کو خدا حافظ کہا ہو۔ یہ چھوٹا سا قافلہ تقریباً پونے دو بجے بھٹو کی آخری قیام گاہ میں سے اس طرح نکلا کہ تمام بڑے افسر آگے آگے تھے، جیل کے چھوٹے افسر سٹریچر کے ساتھ کچھ فاصلے پر چل رہے تھے۔بھٹو انتہائی مدھم لہجے میں بولے۔

I am sorry for my county, she will be left alone without its leader.
انہوں نے یہ جملہ چونکہ بہت ہی مدھم لہجے میں کہا تھا، جیل اور فوج کے جن افسران نے یہ جملہ فاصلے سے سنا تھا وہ یہ سمجھے کہ بھٹو نے اپنی بیوی کیلئے یہ کہا ہے کہ وہ اکیلی رہ گئی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کیا وہ خود پھانسی کا چبوترا چڑھ سکیں گے، وہ نہایت خود اعتمادی کے ساتھ چبوترے کے زینے چڑھ گئے۔ انہوں نے آخری چبوترے پر پہنچ کر اپنا پاوں زور سے چبوترے پر مارا جیسے یہ دیکھا چاہتے ہوں کہ یہ واقعی تختہ ہے یا کسی ڈرامے کا حصہ۔

تارا مسیح نے ان کے چہرے پر نقاب چڑھایا گلے میں رسی ڈال کر گرہ لگا دی۔
ابھی پھانسی کا لیور نہیں کھینچا گیا تھا کہ انہوں نے تقریباً چیخنے کے انداز میں کہا ’’Finish‘‘ ۔یہ آخری الفاظ تھے جو ان کے منہ سے نکلے تھے۔ اس وقت دو بج کر پانچ منٹ ہو چکے تھے۔ سپرنٹنڈنٹ نے اشارہ کیا اور پھانسی کا لیور گرا دیا گیا۔ تختے نیچے گر گئے اور پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر 11 فٹ گہرے گڑھے میں معلق ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں