بیربل

بیربل اکبر اعظم کے نورتنوں میں شامل تھا‘ اکبر ان پڑھ تھا‘ وہ اپنے والد ہمایوں کی جلاوطنی کے دوران سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں پیدا ہوا‘ وہ ہمایوں کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکا‘ وہ ایران‘ افغانستان اور ترکی کے علاقوں میں مارا مارا پھرتا رہا‘اکبر کا بچپن ان حالات میں گزرا لہٰذا وہ تعلیم حاصل نہ کر سکا‘ وہ 13 سال کی عمر میں ہندوستان جیسی بڑی سلطنت کا بادشاہ بھی بن گیا‘ وہ بادشاہت کے ابتدائی برسوں میں سلطنت کے استحکام میں مصروف رہا‘ ہندوستان جب پوری طرح اکبر کے کنٹرول میں آ گیا تو اسے
اپنے ان پڑھ ہونے کا احساس ہونے لگا‘ اس نے اپنی کم علمی کا عجیب حل تلاش کیا‘ اس نے آگرہ سے لے کر سمرقند تک کروڑوں لوگوں میں سے 9 انتہائی پڑھے لکھے‘ ذہین‘ عالم اور ماہر لوگ اکٹھے کئے‘ ان لوگوں کو اپنے اردگرد بٹھایا اور پوری زندگی ان لوگوں کے ساتھ گفتگو میں گزار دی‘ اکبر ان نو لوگوں کو اپنے رتن کہتا تھا‘ بیربل بھی اکبر کے ان نورتنوں میں شامل تھا‘ یہ ذات کا بھانڈ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے حاضر جوابی‘ معاملہ فہمی‘ انسانی نفسیات کو سمجھنے اور حسن ذوق کی دولت سے نواز رکھا تھا‘ اکبر بیربل کی صلاحیتوں کا معترف تھا اور وہ ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھتا تھا‘ اکبر ہندوستانی تاریخ کا عظیم سپہ سالار بھی تھا‘ ملک کے کسی نہ کسی کونے میں اپنی فوجیں بھجواتا رہتا تھا‘ وہ روز صبح کے وقت فتوحات کی رپورٹ پڑھتا تھا اور ہر فتح کی خبر سن کر خوش ہوتا تھا‘ بیربل بادشاہ کی یہ خوشی روز دیکھتا تھا‘ ایک دن اس کے دماغ میں خیال آیا کاش میں بھی کوئی جنگ لڑوں‘ میں بھی کوئی فتح حاصل کروں اور میری فتح کی خبر سن کر بھی بادشاہ اسی طرح خوش ہو‘ یہ خیال آنے کی دیر تھی‘ بیربل نے بادشاہ سے لشکر کی قیادت کا مطالبہ کر دیا‘ بادشاہ نے انکار کر دیا مگر بیربل اڑ گیا‘ بادشاہ انکار کرتا رہا‘ بیربل اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ بادشاہ نے ہار مان لی‘ یہ وہ دور تھا جس میں اکبر نے دین اکبری کے نام سے نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی‘ ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں نے اکبر کا مذہب تسلیم کر لیا لیکن افغانستان کی سرحد پر موجود یوسف زئی قبیلے نے دین اکبری کوتسلیم کرنے سے انکار کر دیا‘
اکبر نے لشکر تیار کیا‘ بیربل کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا اور اسے یوسف زئی قبیلے کی سرکوبی کیلئے آج کے فاٹا کی طرف روانہ کر دیا‘ یہ لشکر جب رخصت ہوا تو اکبر کو بیربل کی جان کی فکر ہو گئی چنانچہ اس نے بیربل کے لشکر کی حفاظت کیلئے ایک اور لشکر تیار کیا اور یہ لشکر اپنے سب سے جری کمانڈر مان سنگھ کے حوالے کر کے اسے بھی فاٹا روانہ کر دیا‘ یہ دونوں لشکر آج کے قبائلی علاقوں میں پہنچے‘ قبائلیوں کے ساتھ ان کی لڑائی ہوئی‘ ان دونوں لشکروں کو شکست ہوئی‘ بیربل اس جنگ میں مارا گیا جبکہ مان سنگھ بھاگ کر ایبٹ آباد کے علاقے میں پناہ گزین ہو گیا‘ یہ جس جگہ پناہ گزین ہوا وہاں ایک شہر آباد ہو گیا‘ وہ شہر شروع میں مان سنگھ کی مناسبت سے مان سرائے مشہور ہوا اور وہ بعد ازاں مانسہرہ ہو گیا۔۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں