بیوٹی کوئین

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتیہیں کہ جرمنی میں ایک شہر ہے ’’ہیمبرگ‘‘ یہاں سب سے پہلے قرآن مجید پرنٹ ہوا، ایک رشیا میں ہوا، سن پیٹربرگ میں، اور ایک جرمنی میں ہوا، جب چھاپہ خانے بنے تو پہلا قرآن مجید ان جگہوں سے چھپا، اس شہر میں ایک دفعہ جانا ہوا، وہاں بیان ہوا، بیان کے بعد ایک پاکستانی انجینئر مجھے ملنے آئے، دیکھنے میں بہت خوبصورت، رنگ بڑا صاف، پرسنلٹی بہت اچھی،کہنے لگے کہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں؟ میں نے کہا بتائیے، کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ داڑھی والوں کا بڑا
فیور کرتے ہیں، میں نے کہا ہاں بات تو بالکل ٹھیک ہے مگر تمہیں کیسے پتہ چلا کہنے لگا کہ مجھ پر جو بیتی ہے وہ کسی کو بتا نہیں سکتا، لیکن آپ کو میں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا بہت اچھا۔کہنے لگا کہ میں پاکستانی انجینئر ہوں، جس دفتر میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک جرمن لڑکی کام کرتی ہے، جو حسن اور جمال میں اپنی مثال آپ ہے، لوگ اس کو بیوٹی کوئین یعنی ملکۂ حسن کہتے ہیں، وہ بھی انجینئر ہے، مگر اتنی سمجھ دار ہے کہ وہ کسی بندے کو ضرورت سے زائد بات کرنے نہیں دیتی، دفتر کے جتنے نوجوان ہیں ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس سے میری شادی ہو جاتی، کوئی کسی ڈھنگ سے مخاطب کرتا، توکوئی کسی ڈھنگ سے، لیکن وہ اتنا رعب رکھتی کہ دوسری کوئی بات کرنے کی ہمت نہ ہوتی، نوجوان آپس میں بیٹھتے تو اسی کا ذکر ہوتا کہ پتہ نہیں یہ کس قسمت والے کو ملے گی؟ پتہ نہیں یہ کس کی بات سنے گی؟ایک دن دوپہر کے کھانے کا وقفہ تھا لوگوں نے کھانا کھایا، میں نے کھانا نہیں کھایا، وہ لڑکی قریب سے گزری، مجھ سے پوچھنے لگی کہ آپ نے کھانا نہیں کھایا، میں نے کہا مجھے آج کھانا نہیں کھانا ہے، کہنے لگی طبیعت ٹھیک ہے؟ میں نے کہا رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے، میں نے روزہ رکھا ہے، کہنے لگی رمضان کیا ہوتا ہے،
میں نے اسے بتایا،اس کو دلچسپی پیدا ہو گئی، چنانچہ اگلے دن پھر اس نے روزے کے بارے میں پوچھا مجھے تو بات کرنے کا موقع مل گیا، اب اسی ٹوپک (Topic) کو میں لمبا کرتا گیا، اور روزہ وغیرہ کے متعلق باتیں بتلانے لگا، جب کئی دنوں تک ہماری بات چیت اس ٹوپک پر ہونے لگی تو وہ کہنے لگی کہ کوئی اہم جگہ بتا دو جس سے میں اور باتیں معلوم کرسکوں، میں نے ایک اسلامک سینٹر کا پتہ بتا دیا کہ وہاں کے امام سے رابطہ کرو،وہ عالم ہیں وہ تمہیں بتائیں گے، اس لڑکی نے وہاں رابطہ کیا اور اس کا امام کے ساتھ مستقل رابطہ ہوگیا، دینی باتیں معلوم کرنے لگی۔چند دن کے بعد ایک دن دفتر آئی تو دیکھا کہ وہ سر پر حجاب یعنی پردہ ڈال کر آئی ہے، ہم بڑے حیران، کسی نے پوچھا کیا ہوا، اس نے بتایا کہ میں مسلمان ہو گئی ہوں، اور میں نے امام صاحب کے پاس جا کر کلمہ پڑھ لیا ہے، کہنے لگے کہ میں بڑا خوش ہوا کہ پورے دفتر میں،میں ایک مسلمان ہوں اب میرا کام بن گیا، اب تو یہ میرے ساتھ رشتہ کرے گی، کسی سے تو کر ہی نہیں سکتی، جس دن یہ ہوگا اس دن میں تو نوکری ڈے مناؤں گا، کہنے لگے اب میں نے اس سے کھل کر اسلام کے متعلق باتیں کرنی شروع کر دیں، وہ بھی میری باتیں خوب سنتی۔جب چھٹیوں کا زمانہ آ گیا، چھٹیوں میں پہلے پروگرام بناتی تھی کہ کہیں ساحل سمندر چلی جاؤں، میں نے اس سے کہا تم مسلمان ہو چکی ہو، کیسے جاؤ گی؟وہ کہنے لگی میں خود بھی جانا نہیں چاہتی، میں نے پوچھا پھرکیا کرو گی؟ کہنے لگی کہ میں ترکی جاؤں گی مسلمان ملک ہے، وہاں جا کر اسلام کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کروں گی، میں نے اس کو کہا کہ ترکی میں کیا ہے؟
اصل اسلام تو پاکستان میں ہے تم میرے ساتھ پاکستان چلو، تمہیں وہاں اسلام نظر آئے گا، عالم وہاں ملیں گے، کتابیں وہاں ملیں گی، مدرسے وہاں ملیں گے،اندر سے میرا دل کہہ رہا تھا کہ اللہ کرے یہ پاکستان ایک دفعہ آ جائے، کہنے لگی میں سوچوں گی چنانچہ اس نے دوسرے دن کہا کہ میں پاکستان جاؤں گی، اپنی ٹکٹ خود بک کروں گی اور وہاں ہوٹل بک کرا کر ہوٹل میں رہوں گی، میں نے کہا نہیں نہیں، میرے گھر رہنا، میری والدہ ہے، میری بہن ہے، میری بہن ایم اے ہے، میری والدہ بھی پڑھی لکھی ہے وہ دین کی بہت باتیں آپ کو بتائیں گی،اس نے کہا کہ تم ان کو میرے ہوٹل میں لے آنا، میں ان سے بات چیت کروں گی، اگر میں مناسب سمجھوں گی تو تمہارے گھر ایک دن کے لیے آؤں گی۔ میں نے کہا چلو یہی بہتر ہے، میں نے اپنی بہن اور والدہ کو فون کیا، تیار رہو، منگیتر کو لے کر آ رہا ہوں، اور آتے ہی آپ لوگ اس کو تیار کرکے میری شادی کر دینا، اب جو باقی دس دن تھے وہ کٹتے ہی نہیں تھے، لوگوں کو راتوں میں خواب آتے ہیں،مجھے دن میں خواب آتے تھے کہ ہم پاکستان جا رہے ہیں اور وہ میری بیوی بنے گی، اور ایسی ہماری لائف ہو گی اور میں خوش نصیب ہوں گا، پوری برادری دیکھے گی کہ کیسی میری بیوی ہے، گھنٹوں ان خیالوں میں گم رہتا۔کہنے لگا جس دن میں ائیرپورٹ پر پہنچا تو میری نگاہیں اس کو تلاش کر رہی ہیں کہ پتہ نہیں آتی بھی ہے یا نہیں، تھوڑی دیر میں دیکھا آئی اور وہ بھی آ کر لائن میں کھڑی ہو گئی اور مجھے بتایا کہ مسٹر فلاں ہم ساتھ چلیں گے،ہم لاہور اترے، لاہور میں ہمارا بڑاگاؤں تھا، کاروبار تھا، ڈیفنس میں کوٹھی تھی، اور موٹر کا شو روم تھا، جس میں کروڑوں کی گاڑیاں تھیں اور خاندان بڑا سمجھا جاتا تھا، مجھے تسلی تھی کہ یہ جائے گی جب سب کچھ دیکھے گی، تو اگلے دن نکاح کے لیے آمادہ ہو جائے گی، کہنے لگے لاہور ائیرپورٹ پر اس کو ایک مخصوص گاڑی لینے آئی ہوئی تھی، وہ کہنے لگی کہ اچھا میں جاتی ہوں، تھکی ہوئی ہوں، آرام کروں گی،کل دوپہر کو اپنی والدہ کو میرے پاس لے آنا، اگلے دن دوپہر کو والدہ اور بہن کو لے گیا، انہوں نے بات چیت کی، اس کو کہا کہ دیکھو! یہاں تمہیں کھانے کی تنگی، اور رہنے کی تنگی ہے، سب سے بہترین حلال کھانا ہمارے گھر میں ملے گا تم ہمارے گھر میں آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں گے، بہترین چائنیز بناتی اور یہ کھانا وہ کھانا۔۔۔
انہوں نے ایسی گردان پڑھی کہ عمدہ عمدہ کھانے کے لیے پیٹ بھرے بندے کے منہ میں بھی رال ٹپک جائے،بھوکے کو تو ٹپکتی ہی ہے، اس نے کہا اچھا میں آؤں گی، وہ ہمارے گھر آ گئی، اس نے محسوس کیا کہ گھر میں بھی کچھ عورتیں ہیں میں ان کے درمیان محفوظ رہ سکتی ہوں، میرے گھر رہنے لگی۔میری والدہ نے ایک دم اس کو بیٹی بنا لیا کہ آج کے بعد آپ میری بیٹی، ایک میری بیٹی یہ ہے اور ایک آپ بیٹی ہو اور میری بہن تو اس کے ساتھ فرینڈ بن گئی، کہنے لگی میں سوچتی تھی کہ زندگی میں کسی کو سہیلی بناؤں گی،آپ مجھے ملی ہو بس آپ کو میں نے سہیلی بنا لیا، وہ سب کی باتیں سنتی مگر چپ رہتی، میری بہن اور والدہ نے اس کو کہا کہ تم دونوں انجینئر ہوایک جگہ کام کرتے ہو، کتنا اچھا جوڑ ہے، کیوں نہ ہم تمہاری شادی کر دیں اور تم واپس جا کر میاں بیوی کی زندگی گزارو۔ اس نے جواب دیا میں تیار نہیں ہوں، والدہ مجھ سے کہنے لگی کوئی بات نہیں، ہم ایک دو دن میں تیار کرلیں گے۔کہنے لگے ایک ہفتہ اسی میں گزر گیا اور دوسرا ہفتہ جب شروع ہوا تو مجھے فکر ہوئی، میں بڑا پریشان، میں نے اپنی بہن کو کہا کہ سنو، اگر یہ مجھ سے تیار نہیں تو میرے دو چھوٹے بھائی بھی ہیں، وہ بھی ماشاء اللہ نوجوان لکھے پڑھے ہیں وہ اور زیادہ مجھ سے خوبصورت اور ینگ (نوجوان) ہیں، میں نے کہا ان کا رشتہ کر دو، والدہ نے ان کے رشتے پیش کیے اس نے اس کوبھی رجیکٹ کر دیا،میری والدہ حیران کہ پتہ نہیں یہ چاہتی کیا ہے؟کہنے لگے کیا بتاؤں؟ اللہ تعالیٰ داڑھی والوں کی کیسے فیور کرتا ہے، میرے ایک چچا تھا وہ تبلیغی جماعت میں جاتے تھے اور ان کا ایک بیٹا تھا جس کو انہوں نے جامعہ اشرفیہ میں پڑھا کر عالم بنایا، پوری برادری میں سب سے کمزور حالت ان کی تھی، پاؤں میں ہوئی چپل اور میلے کپڑے، سر پر معمولی ٹوپی، اسی حالت میں وہ پڑھتے تھے، معمولی کھانا کھاتے تھے،اتفاق سے میری والدہ کو کچھ دینے کے لیے میرا کزن (چچا زاد بھائی) میرے گھر آیا، اس لڑکی نے داڑھی والے بندے کو دیکھ لیا تو میری والدہ سے پوچھا یہ کون ہے؟ امی نے بتا دیا کہ یہ میرے دیورکا بیٹا ہے اور عالم ہے، وہ کہنے لگی کہ اس سے اسلام کے بارے میں کچھ سوال پوچھ سکتی ہوں، امی نے کہا بہت اچھا، مگر اس عالم نے منع کر دیا کہ میں عورت سے بات نہیں کرتا،امی نے منت سماجت کی تو تیار ہوگیا لیکن ایسے جیسے کسی سے روٹھا ہوا ہوتا ہے، نہ اس کی طرف دیکھا نہ صحیح لہجے میں لڑکی سے بات کی، اس نے جو پوچھا بتا دیا،
اور چلا گیا لڑکی نے جاتے ہوئے کہا اپنا کوئی نمبر دے دیں میں فون سے آپ سے بات کر لیا کروں گی، اس نے فون نمبر دے دیا۔دوسرے دن اس نے ایک گھنٹہ دین کے بارے میں معلومات حاصل کیں، مولوی صاحب کچھ زیادہ ہی جانتے تھے،انہوں نے اس کو سب بتا دیا، وہ لڑکی کہنے لگی کہ کیا آپ سے میں شادی کر سکتی ہوں؟ تو مولوی صاحب نے جواب دیا میں ابو سے پوچھوں گا، وہ انجینئر کہنے لگا مجھے امی نے بتایا کہ اس سے بات ہو رہی ہے اب میں دعائیں مانگنے لگا کہ اس کے ابو منع کر دیں، اس کے ابو نہ کردیں، اس نے ابو سے پوچھا، ابو نے کہا بیٹا ہم نے تو دین کے لیے زندگی گزار دی، اگر اللہ نے آپ کا رزق وہاں رکھا ہے تو جاؤ اور وہاں جا کر دین کا کام کرو،اس نے ہاں کر دی، جیسے ہی ہاں کی تو اس نے اس کے والد کو بلوایا، اور قریب کی مسجد میں چند شرعی گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا نکاح ہوگیا، اگلے دن اس کو لے کر اسلام آباد جرمن ایمبیسی چلی گئی وہاں جا کر کہا میں جرمن ہوں، انجینئر ہوں، چھٹیاں گزارنے آئی تھی، یہ بندہ مجھے پسند آ گیا، میں نے شادی کر لی، اس کو ویزا لگا دیں،انہوں نے دس سال کا ملٹی پل ویزا لگا دیا، وہ مولوی صاحب کے ساتھ جرمنی پہنچ گئی اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے، کہنے لگا اللہ تعالیٰ مولوی کا بڑا فیور کرتا ہے، میں نے کہا حقیقت یہ ہے ’’وھو یتولی الصالحین‘‘ اللہ تعالیٰ نیکوں کا سرپرست ہے، وہ ان کے کام سنوار دیتا ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ ایسا سبب بنا دیتا ہے کہ بندے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

پنٹرسٹ
گوگل

اپنا تبصرہ بھیجیں