’ میں ایک ثقافتی پروگرام پر امریکا گیا تھا، ایک گوری خاتون کے گھر کھانے پر لے جایا گیا تو کھانے کے بعد اُس نے میرے ساتھ تصویر کھینچنے سے انکار کر دیا، اُس کا کہنا تھا کہ تم پاکستانی۔۔۔‘ پاکستانی نوجوان نے ایسی بات بتا دی کہ جان کر ہر شہری افسردہ ہو جائے گا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی دنیا میں پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کا گویا ایک طوفان برپا ہے۔ میڈیا اس پروپیگنڈا کو عام کرنے میں پیش پیش ہے جبکہ سیاسی رہنما بھی پاکستان کا منفی تاثر ابھارنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اس مذموم مہم کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کے عوام کی بڑی تعداد پاکستان کے بارے میں منفی سوچ رکھتی۔ یہ کہا جائے تو غلط نا ہو گا کہ مغرب میں ایک عام شہری کے نزدیک ہر پاکستانی شہری مشکوک ہے اور کسی نا کسی طور اس کا دہشت گردی کے ساتھ تعلق ہے۔

ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عروج ارشد اسی افسوسناک صورتحال کی ایک مثال پیش کرتی ہیں، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح دہشت گردی اور بے بنیاد پراپیگنڈے نے مل کر پاکستان اور اس کے شہریوں کا منفی تاثر پیدا کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ لاہور میں حالیہ دنوں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران ایک پاکستانی نوجوان نے بتایا کہ وہ کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے ہوئے گئے تھے۔ وہاں انہیں ایک سفید فام امریکی خاتون کے ہاں دعوت پر جانے کا اتفاق ہوا۔ میزبان خاتون سب مہمانوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہی تھیں لیکن ان کے ساتھ تصویر بنوانے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ پاکستان نوجوان ان کی تصویر طالبان کے حوالے کر دے گا۔ خاتون نے پاکستانی نوجوان کو سب مہمانوں کے سامنے واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ اپنے ڈر کی وجہ سے اس کے ساتھ تصویر نہیں بنوا سکتی۔
یہ واقعہ ایک مثال ہے کہ کس طرح ہر پاکستانی کے بارے میں باہر کی دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کے طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، باوجود اس کے کہ یہ پاکستانی عوام ہی ہیں جو طالبان جیسے دہشتگردوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں ۔ مضمون نگار اس حوالے سے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جب وہ نوے کی دہائی میں امریکا منتقل ہوئیں تو ایک روز سکول میں ٹیچر نے ان سے کہا کہ وہ نقشے پر ساتھی طلبا و طالبات کو دکھائیں کہ پاکستان کہاں واقع ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ نقشے پر پاکستان کی نشاندہی کر پاتیں ٹیچر نے کہا کہ پہلے کویت کے بارے میں بتائیں۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بات سن کر حیرانی ہوئی لیکن بعدازاں انہیں معلوم ہوا کہ کویت میں جاری جنگ کی وجہ سے ٹیچر نے اس کا ذکر کیا تھا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مغربی ممالک میں مسلم ممالک کا تذکرہ ہمیشہ جنگ اور فساد کے حوالے سے ہوتا ہے۔ مغربی میڈیا بھی مسلم ممالک کی مثبت باتوں کو چھوڑ کر صرف منفی باتوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کے عام لوگوں میں ہر مسلم ملک اور خصوصاً عدم ِ استحکام سے دوچار مسلم ممالک کے بارے میں انتہائی منفی نظریات پائے جاتے ہیں۔