آن لائن محبت، خاتون کئی گھنٹوں کا سفر کر کے آدمی سے پہلی ملاقات کے لئے تائیوان پہنچ گئی، لیکن پھر وہاں کیا ہوا؟ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی، جان کر ہر لڑکی ایسا کام کرنے سے توبہ کرلے

انٹرنیٹ پر دوستی اور محبت کی تلاش کرنے والوں کو اکثر دھوکے اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا فرینڈ شپ کے نام پر فراڈ کا شکار بننے والے اکثر لوگ تو اپنی رسوائی پر دل ہی دل میں روتے رہتے ہیں لیکن بعض اس بری طرح بھی متاثر ہوتے ہیں کہ اپنی جان لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔

ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ گزشتہ روز تائیوان میں دیکھنے کو ملا جہاں محبت کے نام پر دھوکے کا شکار بننے والی ایک خاتون خودکشی کرنے کے لئے بلند عمارت کی چھت پر چڑھ گئی۔

مقامی اخبار سٹریٹس ٹائمز کے مطابق 37 خاتون کا نام چیو بتایا گیا ہے اور وہ اپنے تائیوانی سوشل میڈیا فرینڈ کے بلانے پر سنگاپور سے تائیوان آئی تھی۔دونوں کے درمیان چند ماہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی کا سلسلہ چل رہا تھا اور چیو سمجھنے لگی تھی کہ اسے اس کا آئیڈیل مل گیا ہے۔ وہ تائیوانی نوجوان کی دعوت پر اس سے ملنے آئی لیکن اسے بلا کر وہ خود کہیں غائب ہو گیا، جیسا کہ اس طرح کے خیالی معاشقوں میں عموماً ہوتا ہے۔

جب فراڈئیے عاشق کی تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نا ملا تو چیو بہت دلبرداشتہ ہو گئی اور خود کشی کی نیت سے ایک پانچ منزلہ عمارت کی چھت پر چڑھ گئی۔ اسے چھت کے کنارے کھڑا دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور اس کی منت سماجت کرنے لگے کہ وہ چھلانگ نا لگائے، مگر وہ پیچھے ہٹنے کو تیا رنہیں تھی۔

دریں اثناءپولیس کو بھی خبر کر دی گئی۔ پولیس نے صورتحال کو دیکھا اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو بھی بلوا لیا۔ چیو کو چھت کے کنارے سے واپس بلانے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ اسی دوران فائر بریگیڈ کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا اور چھت پر جا کر ایک اہلکار نے بات کرنے کے بہانے چیو کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

جب وہ اس اہلکار کی بات سننے کے لئے ذرا پیچھے کی جانب مڑی تو نیچے سے فائربریگیڈ نے نشانہ لے کر پانی کی تیز دھار ماری جس نے چیو کو واپس چھت پر گرا دیا۔ چھت پر موجود اہلکار اسی موقعے کا منتظر تھا، اس نے بھاگ کر گری ہوئی خاتون کو دبوچ لیا اور بحفاظت اسے نیچے اتار لیا گیا۔

زونگلی ڈسٹرکٹ پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون کی حالت ٹھیک ہے البتہ اسے نفسیاتی کونسلنگ کی ضرورت ہے، جس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دریں اثناءسنگا پور میں اس کے خاندان سے رابطے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے تا کہ اسے بخیر و عافیت واپس بھیجا جا سکے۔

سُنہری کرنیں

جب سورہ تبت یدا نازل ہوئی اور ابو لہب اور اس کی بیوی ”ام جمیل“ کی اس سورہ میں مذمت اتری تو ابو لہب کی بیوی ام جمیل غصہ میں آپے سے باہر ہو گئی اور ایک بہت بڑا پتھر لے کر وہ حرم کعبہ میں گئی اس وقت حضور اکرمﷺ نماز میں تلاوت قرآن فرما رہے تھے اور قریب ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔
”ام جمیل“ بڑ بڑائی ہوئی آئی اور حضور اقدسﷺ کے پاس سے گزرتی ہوئی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور مارے غصہ کے منہ میں جھاگ بھرے ہوئے کہنے لگی کہ بتاؤ تمہارے رسولﷺ کہاں ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میری اور میرے شوہر کی ہجو کی ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرے رسولﷺ شاعر نہیں ہیں کہ کسی کی ہجو کریں پھر وہ غیض و غضب میں بھری ہوئی پورے حرم کعبہ میں چکر لگاتی پھری اور بکتی جھکتی حضورﷺ کو ڈھونڈتی پھری مگر جب وہ حضورﷺ کو نہ دیکھ سکی تو بڑ بڑاتی ہوئی حرم سے باہر جانے لگی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگی کہ میں تمہارے رسول کا سر کچلنے کے لئے یہ پتھر لے کر آئی تھی مگر افسوس کہ وہ مجھے نہیں ملے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرمﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے وہ کئی بار گزری مگر میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ اس طرح حائل ہو گیا کہ آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود وہ مجھے نہ دیکھ سکی اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

ترجمہ:
”اور اے محبوب! جب آپ نے قرآن پڑھا تو ہم نے آپ اور ان میں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ ڈال دیا!“
درس ہدایت: اْم جمیل انکھیاری ہوتے ہوئے اور آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود حضورﷺ کے پاس ہی سے تلاش کرتی ہوئی بار بار گزری مگر وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی۔ بلا شبہہ یہ ایک عجیب بات ہے اور اس کو حضور اکرمﷺ کے معجزہ کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
اس قسم کے معجزات حضورﷺ کی طرف سے بار ہا صادر ہوئے ہیں اور بہت سے اولیاء اللہ سے بھی ایسی کرامتیں بارہا صادر ہوئی ہیں۔
ذبح ہو کر زندہ ہو جانے والے پرندے
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدس کے دربار میں یہ عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے؟ تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟ میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تا کہ میرے دل کو قرار آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندوں کو پا لو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو۔
پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گردونواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو پھر اْن پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر آپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ، ایک کبوتر، ایک گدھ، ایک مور ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا۔
پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا کہ یَا ایْھالدیکْ (اے مرغ) یا ایھا الحمامتہْ (اے کبوتر) یا ایھالنسر (اے گدھ) یا ایھالطاؤسْ (اے مور) آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اْڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست، ہڈی پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمنیان و قرار مل گیا۔

اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ البقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
ترجمہ:
”اور جب حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ تو کیونکر مردہ کو زندہ کرے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں بلاؤ تو وہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ بڑا غالب، بڑی حکمت والا ہے۔

تصوف کا ایک نکتہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن چار پرندوں کو ذبح کیا ان میں سے ہر پرند ایک بُری خصلت میں مشہور ہے مثلا مور کو اپنی شکل و صورت کی خوبصورتی پر گھمنڈ ہوتا ہے اور مرغ میں کثرت شہوت کی بُری خصلت ہے اور گدھ میں حرص اور لالچ کی بری عادت ہے اور کبوتر کو اپنی بلند پروازی اور اونچی اُڑان پر نخوت و غرور ہوتا ہے تو ان چاروں پرندوں کے ذبح کرنے سے ان چاروں خصلتوں کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے چاروں پرند ذبح کئے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر نظر آیا اور ان کے دل میں نور اطمینان کی تجلی ہوئی جس کی بدولت انہیں نفس مطمئنہ کی دولت مل گئی تو جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا دل زندہ ہو جائے اور اس کو نفس مطمئنہ کی دولت نصیب ہو جائے اس کو چاہیے کہ مرغ ذبح کرے یعنی اپنی شہوت پر چھری پھیر دے اور مور کو ذبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لباس کے گھمنڈ کو ذبح کر ڈالے اور گدھ کو ذبح کرے یعنی حرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے اور کبوتر کو ذبح کرے یعنی اپنی بلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نخوت پر چھری چلا دے اگر کوئی ان چاروں بُری خصلتوں کو ذبح کر ڈالے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے دل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو نفس مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں