عجوہ کھجور میں کیا راز پوشیدہ ہیں ؟ یہ کتنی بیماریوں کے لیے مفید ہے ؟ایمان افروز معلومات

عجوہ کھجور نبی پاک ﷺ کی پسندیدہ کھجور تھی اور آپ ﷺ نے اس کے بارے بئ شمار فضائل بھی بیان کیے ہیں ۔شہر کا ماحول ایک سا تھا کہ ایک آدمی نے ایک باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چُنیں ایسی کھجوریں صرف شہر کے اسی باغ میں لگی تھیں لیکن لوگوں کو اس کھجور سے کوئی رغبت نہ تھی کہ اس کھجور میں نہ وہ نرمی تھی نہ اس کا وہ ذائقہ تھا رنگ بھی انتہائی گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔

وہ غریب آدمی جس کی ناک موٹی آنکھیں چھوٹی رنگت سیاہ چلتا تو ٹانگیں اٹک اٹک جاتیں بولتا تو زبان میں لکنت غربت سی غربت کی نسلی غلام رہا تھا کھجوریں جھولی میں ڈالیں شہر میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس باغ کا یہ آخریپھل تھا جو اس آدمی کی جھولی میں تھا۔ شہر میں لیکن کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا یہاں تک کہ ایک فرد نے یوں آواز لگائی اے بلال رض یہ کھجوررض یہ کھجور تو تجھ جیسی ہے کالی اور خشک۔

دل کا آبگینہ ٹھیس کھا گیا آنکھوں سے آنسو رواں بلال حبشی کھجوریں سمیٹ کر بیٹھ رہے۔ کہ ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام ہے

غمزدہ دلوں کی تسکین ہے ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے سب ماجرہ پوچھا تو آپیوں گویا ہوئےلوگو یہ ھجور “عجوہ“ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہےیہ فالج کے لیئے شفاء ہےیہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہےاور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے

پھر یہاں بس نہیں کیافرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے۔منظر بدل گیا وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔

پھر راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے۔

نبی پاک ﷺکا ہر عمل قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے باعث شفاء اور رحمت ہے ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہےیہ فالج کے لیئے شفاء ہےیہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہےاور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے

پھر یہاں بس نہیں کیافرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے اور اس میں کئی راز چھپے ہپیں قدرت کی حکمت کو سمجھنا عام انسانی سوچ کے بس میں نہیں اور انسان کی اقات ہی کیا ہے۔رب العالمین نے امنے نبی پاک ﷺ کے ہر عمل میں بہترین راز رکھے ہیں اور ہر سنت بہترین اور عظیم ہے

اُمّ الموٴمنین حضرت سیّدہ خدیجة الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہما

آپ کا نام (حضرت) خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے۔ نبی کریمﷺ کے اِعلانِ نبوت سے قبل وہ عفت و پاکدامنی کے باعث عہدِ جاہلیت میں طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ آپ کے والد کا نام خویلد ہے اور والدہ کا اِسم مبارک فاطمہ بنت زاہدہ ہے۔ آپ کا سلسلہء نسب (حضرت) خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت خویلد بن اسعد بن عبد العزی بن قصی۔
قصی پر پہنچ کر رسولِ کریمﷺ کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ آپ کے والد قبیلہ میں ممتاز حیثیت کے حامل اور مکہ کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب جوان ہوئیں تو اْن کے والدین نے اْن کی شادی ابو ھالہ بن زرارہ تمیمی سے کی۔ اِن سے اُن کے دو لڑکے پیدا ہوئے ایک کا نام ہند تھا اور دوسرے کا نام حارث۔ کچھ عرصہ بعد ابو ھالہ بن زرارہ تمیمی کا اِنتقال ہو گیا۔
اِس کے اِنتقال کے کچھ عرصہ کے بعد سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما عتیق بن عابد مخزومی کے نکاح میں آئیں۔ اِن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اُس کا نام بھی ہند تھا۔ اِس لڑکی کے نام کی وجہ سے آپ اُمّ ہند کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ اُمّْ المومنین سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بیٹے ہند نے ابتدائی ایام میں ہی اِسلام قبول کر لیا۔ آپ نہایت فصیح و بلیغ شخصیت کے مالک تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگِ جمل میں شریک رہے اور شہید ہوئے۔

حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک کامیاب اور متمول تاجرہ تھیں۔ مکارمِ اَخلاق کا پیکرِ جمیل تھیں۔ رحمِ دلی، غریب پروری اور سخاوت آپ کی اِمتیازی خصوصیات تھیں۔حضرت ابنِ اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اُمّْ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا شمار مکہ مکرمہ کی شریف ترین معزز اور مال دار خواتین میں ہوتا تھا۔
وہ مکہ مکرمہ کے دوسرے تاجروں کے ساتھ مل کر بطورِ مضاربت تجارت کرتیں اور اپنا تجارتی مال مکہ مکرمہ سے باہر بھیجا کرتی تھیں۔ جتنا سامانِ تجارت سارے اہل قافلہ کا ہوتا اْتنا اکیلے سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہوتا۔ آپ اپنے نمائندوں کو سامانِ تجارت دے کر روانہ فرماتیں، جو آپ کی طرف سے کاروبار کرتے اْ س کی دو صورتیں تھیں یا وہ ملازم ہوتے اُن کی اُجرت یا تنخواہ مقرر ہوتی جو اُنہیں دی جاتی، نفع و نقصان سے اُنہیں کوئی سروکار نہ ہوتا یا نفع میں اُن کا کوئی حصّہ، نصف، تہائی یا چوتھائی مقرر کر دیا جاتا اگر نفع ہوتا تو وہ اپنا حصّہ لے لیتے۔
بصورتِ نقصان ساری ذمہ داری سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر ہوتی۔
حضرت ابن اِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو رسولِ کریمﷺ کی راست گوئی، اَمانت اور دیانت کا علم ہوا تو اُنہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کہ آپﷺ میرا مالِ تجارت لے کر شام جایا کریں۔ میں اَب تک دوسرے تاجروں کو منافع میں سے جس قدر حصّہ دیتی تھی اُس سے بہت زیادہ آپﷺ کو دوں گی اور اپنے غلام میسرہ کو ساتھ کر دوں گی۔
آپﷺ نے یہ تجویز منظور فرمائی اور اُن کا مال لے کر روانہ ہوئے۔حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا غلام بھی اُن کے ساتھ تھا۔ دونوں شام آئے‘ وہاں نسطور راہب کی خانقاہ کے قریب ایک درخت کے سایہ میں فروکش ہوئے۔ راہب نے میسرہ سے پوچھا یہ ہستی جو درخت کے نیچے آرام فرما رہی ہیں‘ یہ کون ہیں؟ اُس نے کہا‘ یہ اہلِ حرم کے ہاشمی قریش خاندان کے ایک صالح‘ اَمانت دار‘ اور سچے اِنسان ہیں۔
راہب نے کہا‘ اِن کی آنکھوں میں سرخی ہے۔ میسرہ نے کہا ‘ہاں یہ سرخی کبھی اِن سے جدا نہیں ہوتی۔ نسطور نے کہا‘ یہ پیغمبر ہیں اور سب سے آخری پیغمبرﷺ ہیں۔ (طبقات ابن سعد)
راہب نے کہا‘ اِس درخت کے نیچے سوائے نبی اللہ کے اور کوئی شخص آج تک فروکش نہیں ہوا۔ رسولِ کریمﷺ نے یہاں جومال لائے تھے بیچ دیا اور جو خریدنا تھا وہ خرید لیا۔
آپﷺ مکہ مکرمہ واپس پلٹے۔ میسرہ بھی ہمراہ تھا۔ دوپہر اور سخت گرمی کے وقت میسرہ کیا دیکھتا ہے کہ آپﷺ اُونٹ پر سوار ہوتے ہیں اور دو فرشتے آپﷺ کو تمازت ِآفتاب سے بچانے کے لیے سایہ کر لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اُس کے دِل نشین ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اُس کے دِل میں نبی کریمﷺ کی اَیسی محبت ڈال دی کہ گویا وہ نبی کریمﷺ کا غلام بن گیا۔
جب قافلے نے اپناتجارتی سامان فروخت کر کے فراغت پائی تو مال میں معمول سے دو چند نفع ملا۔
رسولِ کریم ﷺ واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے تو ظہر کے وقت مکہ مکرّمہ پہنچے۔حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بالاخانے پر بیٹھی ملاحظہ فرما رہی تھیں کہ رسولِ کریمﷺ اُونٹ پر سوار تشریف لا رہے ہیں اور دو فرشتے اِدھر اُدھر سے سایہ کئے ہوئے ہیں۔ سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی عورتوں کو یہ نظارہ دِکھایا تووہ بھی اِس دِل کش منظر کو دیکھ کر خوش ہوئیں۔
میسرہ جو ہم سفر تھا اُس نے حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بتایا کہ میں یہ منظر سارے راستے دیکھتا آیا ہوں۔ میسرہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے وہ باتیں بھی بیان کر دیں جو نسطور راہب نے کہیں تھیں۔ حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جو معاوضہ مقرر کر رکھا تھا۔ تجارتی قافلہ کے دوچند منافع کی وجہ سے آپ کا منافع بھی دوچندکر دیا۔
(طبقات ابن سعد‘ البد ایہ والنہایہ)
اہل سیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خواب میں دیکھا تھا کہ آسمانی آفتاب اُن کے گھر میں اُتر آیا ہے اور اُس کا نور اُن کے گھر سے پھیل رہا ہے۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کاکوئی گھر اَیسا نہیں تھا جو اُس نور سے روشن نہ ہوا ہو۔ جب وہ بیدار ہوئیں تو یہ خواب اپنے چچا ورقہ بن نوفل سے بیان کیا۔
اْس نے خواب کی یہ تعبیر دی کہ نبی آخر الزماں ﷺ تم سے نکاح کریں گے۔
حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا دوسرا شوہر جب فوت ہو چکا تھا تو مکہ مکرمہ کے بہت سے شریف خاندانوں کے لوگ آپ سے شادی کے خواہشمند تھے اور سب نے مال و زر بھی پیش کئے مگر آپ نے کسی کی تجویز قبول نہ کی۔مگر رسولِ کریمﷺ کی شرافت، نسب، امانت، حسنِ اَخلاق اور راست بازی اور آپﷺ پر اللہ تعالیٰ کی عنایات کی وجہ سے اُمّْ المومنین حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپﷺ سے نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
جب خود حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اِس پیشکش کا تذکرہ نبی کریمﷺ نے اپنے چچاوٴں سے کیا تو حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رشتے کا پیغام لے کر خویلد ابن اسعد کے پاس گئے جسے اُنہوں نے قبول کیا۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام جب پہلی وحی لے کر آئے او ر عر ض کیا اِقْرَاءْ بِاسْمِ َربِّکَ الَّذِیْ خَلَقَo خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اِقْرَاءْ وَرَبّْکَ الْاَکْرَمْo رسولِ کریمﷺ اِن آیاتِ مبارکہ کو لے کر لوٹے آپﷺ کا قلب مبارک مضطرب تھا۔
آپﷺ حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے احوال بیان فرمایا اور ان سے چادر اوڑا دینے کی خواہش ظاہر کی۔ حتیٰ کہ آپﷺ کا اِضطراب جاتا رہا۔ آپﷺ نے حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرشتے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کسی جان لیوا خوف کا اظہار فرمایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب میں عرض کیا: ”نہیں نہیں آپﷺ کوکس بات کا ڈر ہو سکتاہے۔
بخدا‘ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر ایک مشقت سے بچائے گا۔ بے شک آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، اہل قرابت سے عمدہ سلوک کرتے ہیں ،درماندوں کی دستگیری کرتے ہیں، تہی دستوں کی مدد فرماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدہ کی امداد فرماتے ہیں۔“ (بخاری حدیث نمبر 3)
آپﷺکی تمام اَولاد سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسولِ کریمﷺ کے پہلے فرزند اَرجمند حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو اعلانِ نبوت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ کریمﷺ اِنہی کے نام سے کنیت رکھتے تھے۔ یعنی ”ابوالقاسم“۔ اُن کے بعد حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما پیدا ہوئیں۔ پھر حضرت سیّدہ بی بی رُقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پھر حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہما پھر خاتونِ جنت حضرت سیّدہ فاطمة الزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہما پیدا ہوئیں۔
اعلانِ نبوت کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے جن کا لقب طیب و طاہر تھا۔ (طبعات ابن سعد‘ تاریخ طبری‘ البدایہ والنہایہ)
حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما وہ پہلی عظیم خاتونِ اوّل ہیں جن پر اِسلام کی حقیقت سب سے پہلے روشن ہوئی اور اُنہوں نے حضور نبی کریمﷺ کی تصدیق کی اور اپنا تمام مال رسولِ کریمﷺکی رضاکی خاطر خرچ کیا۔
حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتی ہیں: ”میں نے نبی کریمﷺ کی ازواجِ پاک میں سے کسی پر اِتنی غیرت نہ کی جتنی (حضرت سیّدہ) خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر غیرت کی، حالانکہ میں نے اُنہیں نہ دیکھا تھا لیکن حضورﷺ اُن کا بہت ذکرِ خیر فرماتے تھے۔ بہت مرتبہ بکری ذبح فرماتے پھر اُس کے اَعضا کاٹتے پھر وہ (حضرت سیّدہ) خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی سہیلیوں کو بھیج دیتے تھے۔
تو میں کبھی آپﷺ سے عرض کر دیتی کہ گویا (حضرت سیّدہ) خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سوا دُنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی۔ تو آپﷺ فرماتے وہ اَیسی تھی وہ اَیسی تھی اور اُن سے میری اَولاد ہوئی۔“ (بخاری حدیث نمبر 3818) شعب ابی طالب میں تین سال تک مسلمانوں پر جو عرصہ حیات تنگ رہا اس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ثابت قدمی کے ساتھ ان تکالیف کا مقابلہ کیا۔
حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے تقریباً ایک ماہ بعد 10 رمضان المبارک کو حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما وصال فرما گئیں۔ آپﷺ کے دونوں مددگار اور غمگسار اْٹھ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پیارے نبیﷺنے ان صدمات کا بے حد اثر لیا اور اِس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار فرمایا۔ تدفین کے وقت حجون کے قبرستان میں آپ ﷺ خود لحد پاک میں تشریف لے گئے اورپھر اُس میں حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اللہ کے سپرد فرما دیا۔