’اب میں 100مساجد تعمیر کروں گا کیونکہ۔۔۔‘ بابری مسجد شہید کرنے والے اس شخص نے اسلام قبول کر کے سب سے بڑا اعلان کردیا

آج سے 25 سال قبل جب ہندو شدت پسندوں کے ایک بڑے ہجوم نے بابری مسجد پر حملہ کیا تو ان میں بلبیر سنگھ نامی ایک نوجوان بھی شامل تھا، بلکہ یوں کہئیے کہ وہ ان جنونیوں کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ شخص، جو مسلمانوں سے شدید نفرت رکھتا تھا، بابری مسجد پر حملے کے چند ماہ بعد ہی اپنے گمراہی پر مبنی نظریات سے تائب ہوگیا

اور اسی دین کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ جس کی دشمنی اس کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ بلبیر سنگھ ماضی کا قصہ ہوگیا، اب اس کا نام محمد عامر ہے، جو ناصرف اسلام کا پرجوش مبلغ ہے بلکہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ وہ 100 مساجد تعمیر کرے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق محمد عامر نے اپنے حالات زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ”میں راجپوت ہوں، میری پیدائش پانی پت کے قریب ایک چھوٹے سے گاﺅں میں ہوئی۔ میرے باپ کا نام دولت رام تھا۔ مسلمانوں کے لئے اس کے دل میں اچھے جذبات تھے اور وہ ہمیشہ ان کے بھلے کی کوشش کرتا تھا۔

جب میں دس سال کا تھا تو ہمارا خاندان گاﺅں سے پانی پت شہر منتقل ہوگیا۔ اسی شہر میں پہلی بار مجھے راشٹریا سوائم سیوک سنکھ (آر ایس ایس) میں شمولیت کا موقع ملا اور میں شیو سینا کا رکن اور شدت پسند ہندو بن گیا۔میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور تاریخ، انگریزی اور سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

شیو سینا کی تعلیمات نے میرے دل میں اس احساس کو گہرا کردیا کہ مسلمانوں نے باہر سے آکر ہمارے دیش پر قبضہ کیا۔ جب دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہم ایودھیا کے لئے روانہ ہوئے تو میرے دوست ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے ’کچھ کئے بغیر واپس نہیں آنا۔‘جب ہم ایودھیا پہنچے تو ہر طرف وشوا ہندو پریشد کے لوگ نظر آئے۔

ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ جب ہمارے جتھے بابری مسجد کی جانب بڑھ رہے تھے تو میں خود کو ایک جانور کی طرح محسوس کر رہا تھا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو مسجد پر سب سے پہلے حملہ آور ہوئے اور اوپر گنبد کی جانب بڑھنے لگے۔ نیچے سے لوگوں کے نعروں کی آواز آرہی تھی۔ اور پھر میں ان پہلے لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے گنبد پر ہتھوڑے برسائے۔

اس واقعے کے بعد جب ہم پانی پت واپس آئے تو میرا کسی ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا، لیکن جب میں گھر پہنچا تو میرے والد مجھ سے ناراض تھے۔ وہ اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے کہا کہ اب گھر میں یا میں رہوں گا یا وہ، اور مجھے معلوم تھا کہ مجھے ہی جانا ہوگا۔ میں گھر سے چلا گیا لیکن دو ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میرے والد دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ وہ جانے سے پہلے خاص طور پر وصیت کرکے گئے تھے کہ مجھے ان کی آخری رسومات میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔

میں ایک بار پھر گھر سے رخصت ہو گیا اور ویران جگہوں پر بھٹکنے لگا۔چند دن بعد مجھے پتہ چلا کہ میرا قریبی دوست یوگندرا پال، جو کہ بابری مسجد پر حملے میں میرے ساتھ شامل تھا، مسلمان ہوگیا تھا۔ جب میں اس سے ملنے گیا تو اس نے مجھے بتایا کہ ایودھیا کے واقعے کے بعد اس کا دل ایسا مضطرب ہوا کہ وہ نیم پاگل ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بالآخر اس کے دل کو چین اس وقت نصیب ہوا جب اس نے اسلام قبول کرلیا۔

تب میرے دل میں پہلی بار یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا میرا گناہ مجھے بھی پاگل کردے گا، یا شاید میں پہلے ہی پاگل ہوچکا تھا۔میرے دوست یوگندرا پال نے سونے پت کے مولانا کلیم صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے بھی ان کے پاس لے جائے۔جب میں مولانا کلیم صدیقی کے پاس پہنچا تو انہیں بتایا کہ جب سے میں نے مسجد کو شہید کرنے کا گناہ کیا ہے میرے دل کو ایک لمحہ چین نصیب نہیں ہوا۔

انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک مسجد کو نقصان پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالا لیکن میں کئی اور مساجد کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوسکتا ہوں۔ ان کے الفاظ بہت سادہ تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔ انہوں نے مجھے دلاسہ دیا، مجھے اسلام قبول کروایا اور میرا نام محمد عامر رکھا۔

میں نے ان کے مدرسے میں ہی عربی زبان کی تعلیم حاصل کی اور قرآن مجید پڑھا۔ بعد میں مَیں اسی مدرسہ میں معلم کے فرائض سرانجام دینے لگا۔ اگست 1993ءمیں میری اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی مجھے معاف کردیا۔ میری اہلیہ بھی میرے پاس واپس آگئی اور کچھ عرصہ بعد اس نے بھی اسلام قبول کرلیا۔گزشتہ 20 سالوں کے دوران میں نے متعدد مساجد کی تعمیر و مرمت کا کام کروایا ہے۔

شمالی بھارت میں بہت سی ایسی مساجد ہیں جنہیں تعمیر و مرمت کی ضرورت ہے اور وقف بورڈ بھی ان کی صورتحال سے واقف نہیں ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ان میں سے 40 مساجد کی تعمیر و مرمت کا کام کروایا ہے۔ میری کوشش ہے کہ میں کم از کم 100 مساجد کی تعمیر کا کام ضرور کرواﺅں، شاید اس طرح میرے گناہ کا کسی حد تک کفارہ ادا ہوسکے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں