لندن میں 62 سالہ نعت خواں اور امام مسجد نے 23 سالہ لڑکی کو بھگا کر اس سے شادی کر لی

لندن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جنوری 2018ء): لندن میں ایک 62 سالہ نعت خواں قاری جاوید اختر نے اپنے سے آدھی عمر کی 23 سالہ لڑکی کو بھگا کر اس سے شادی رچا لی۔ تفصیلات کے مطابق مانچسٹر کے رہائشی اور انٹرنیشنل نعت ایسوسی ایشن کے چئیرمین قاری جاوید اختر نے اپنے سے آدھی عمر کی لڑکی 23 سالہ سحرش اشرف سے والدین کو شادی کر لی۔قاری جاوید اختر نے لڑکی کے اہل خانہ بالخصوص والد حاجی محمد اشرف اور بھائی ارشد محمود سے تعلقات بنائے لیکن انہیں اس بات سے لا علم رکھا کہ وہ کیا کر چکے ہیں اور کیا کرنے والے ہیں۔
گذشتہ برس 15 دسمبر کو جب لڑکی کے والدین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے،جاوید اختر لڑکی کے گھر آئے اور اپنی نئی نویلی دلہن کو اس کے اہل خانہ کی مرضی کے بغیر ہی لے کر رفو چکر ہو گئے۔ یہ خبر تب سامنے آئی جب لڑکی کے اہل خانہ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں معلوم ہوا کہ قاری جاوید اختر نےان کی بیٹی سے چھ ماہ قبل ہی نکاح کر لیا تھا۔ اس ضمن میں جب قاری جاوید کی پہلی 30 سالہ بیوی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ان کے معاشقوں کی وجہ سے ہی انہیں چھوڑ دیا ہے۔
نیا نویلا جوڑا اب مانچسٹر میں ہی ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہے۔ لڑکی کے بھائی کا کہنا ہے کہ والدین کی مرضی کے بغیر نکاح غیر اسلامی ہے ۔ دوسری جانب لڑکی نے بتایا کہ اسے گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ نہ کسی سے ملاقات کرنے دی جاتی تھی اور نہ ہی گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت تھی۔ میرے گھر والے میری منگنی برمنگھم میں مقیم ایک کزن سے زبردستی کروانا چاہتے تھے لہٰذا میں نے قاری جاوید سے نکاح کر کے راہ فرار اختیار کی۔
اس کے برعکس لڑکی کے بھائی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی منگنی اس کی مرضی سے کزن کے ساتھ کی گئی تھی ، لیکن انہوں نے چند ماہ قبل ہی یہ منگنی توڑ دی۔اس حوالے سے لڑکی کے بھائی کے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں