شہباز شریف کے خود کے بچے نہیں ہے کیا،اگر اسلام میں ایک قتل معاف ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتی،لعنت ہو….زینب کی ماموں کی بیٹی پھٹ پڑی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریرقران محل، ایک نادر کتب خانہقرآ ن محل کتب خانے کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی جگہ کا تصور ابھرتا ہے جہاں پر مختلف موضوعات پر مبنی کتابوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہو۔ لیکن فیصل آباد کے نواحی علاقے دوسوہہ میں واقع قرآن محل ایک ایسا انوکھا کتب خانہ ہے جہاں صرف ایک ہی کتاب کی ہزاروں جلدیں موجود ہیں۔قرآن محل کی انتظامیہ کے مطابق یہ انکا دعویٰ تو نہیں لیکن دنیا بھر میں ایک ہی جگہ پر قرآن کے نسخوں کی اتنی کثیر تعداد صرف ان کے پاس ہے جو کہ ان کے مطابق 44ہزار کے لگ بھگ ہے۔یہ قرآن محل ایک صوفی بزرگ صوفی برکت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جن کا مزار بھی یہیں موجود ہے۔

انہوں نے اپنی زندگی میں اس کام کا آغاز کیا اور جگہ جگہ سے قرآنِ پاک کے نسخے اکٹھا کرنے شروع کئے۔ نایاب نسخہ جات کے علاوہ قرآن کے ایسے نسخے جو کہ بہت مخدوش حالت میں ہوتے انہیں بھی یہاں پر محفوظ کر دیا جاتا اور یوں انواع اقسام کے قرآنِ پاک کے نسخہ جات کا یہاں ایک ذخیرہ بنناشروع ہوا جو 1997میں صوفی برکت کی وفات کے بعد بھی تاحال جاری ہے۔
نہایت منظم طریقے سے جلدوں کے حساب سے قرآن کے مختلف نسخوں کو علیحدہ علیحدہ ترتیب سے رکھا جاتا ہے اور پھر ان کی مناسب دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے۔ اس نادر کتب خانے میں ایک تولہ وزنی قرآنی نسخے سے لیکر تقریباً چارمن بھاری قرآن کا قلمی نسخہ موجود ہے جو کہ اس قرآن محل کی انفرادیت اس قلمی نسخے کی ضخامت اور وزن اتنا ہے کہ کسی ایک شخص کیلئے اکیلے اسے کھولنا تقریباً نا ممکن ہے۔

یہاں تقریباً دوسو سال پرانا قرآن پاک کا ایک ایسا قلمی نسخہ بھی موجود ہے جس کا کاغذ بھی قدیم طریقے سے تیار کیا گیا اور پھر اس کی کتابت اور تزئین کے کام میں سونے کے تاروں کی آمیزش سے دلکشی میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
قرآ ن محل کا سب سے چھوٹا قرآن

قرآ ن محل کا سب سے بڑا قرآن
ہزاروں کی تعداد میں موجود قرآنی نسخوں میں مختلف وزن، سائز اور رسم الخطوط کے نمونے موجود ہیں جو کہ اس کی زیارت کرنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ قرآن محل کے منتظمین نے محل سے ملحقہ حصے میں ایک فری میڈیکل کیمپ کا بھی اہتمام کر رکھا ہے جہا ں گردونواح کے لوگوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

قرآن محل کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کتب خانے کو کوئی سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے اور یہاں کا نتظام و انصرام زائرین اور صوفی برکت کے عقیدت مندوں کی طرف سے دیے جانے والے عطیات کا مرہونِ منت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں