اگلی بار

ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلی فون کر کے پوچھا ‘ شیخ صاحب میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے‘ کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلاءمیں جا سکتا ہوں‘ شیخ صاحب نے جواب دیا ہاں جا سکتے ہیں‘ کوئی حرج نہیں‘

سائل نے سوال دوہرایا‘ شیخ صاحب ‘ میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کررہا ہوں.شیخ صاحب نے مسکرائے اور جواب دیا ‘ میرے بھائی کوئی حرج نہیں‘ قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہو گا تم اسے ساتھ لے کر بیت الخلاءمیں جا سکتے ہو.

سائل کہنے لگا لیکن شیخ صاحب یہ قرآ ن کا معاملہ ہے اور بیت الخلاءمیں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہر گز نہیں ناں!

شیخ صاحب نے زچ ہو کر اس سے پوچھا‘ کیا تمہیں بھی کچھ قرآن تمہیں بھی کچھ قرآن مجید یاد ہے؟ سائل نے جواب دیا ‘ جی ہاں شیخ صاحب مجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں. شیخ صاحب نے زچ ہو کر کہا اچھا تو پھر ٹھیک ہے‘ اگلی بار جب تم بیت الخلاءجاﺅ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا .

بلوچستان اسمبلی کا مستقبل
سیاست کے کھیل بھی خوب ہیں۔جمہوریت کا حسن بھی لاجواب ہے۔ شکست ہوجائے تو جمہوری عمل قرار پاتا ہے اور فتح کی صورت تو جمہوریت کی فتح ہوتی ہی ہے۔بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت کو جو رسوائی اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اُسے بلوچستان کے معاملات سے عدم دلچسپی، سیاسی صورت حال سے بے خبری کے سوا اور کچھ نہیں جا سکتا ۔ نون لیگ کی اعلیٰ قیادت خاص طور پر نااہل شریف اور دیگر نون لیگی لیڈر سب کا فوکس نواز شریف کی نا اہلی ، مجھے

کیوں نکالا؟ تنقید اور اب تو کھلی تنقید اداروں پر ، حتیٰ کے واضح اشاروں سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان میں حکومت ڈوب رہی تھی اور نواز شریف صاحب اپنی نا اہلی کی داستان غم بیان کر کر کے رو ررہے تھے۔ نتیجہ سامنے آگیا۔ وزیر اعظم خاقان عباسی کو اپنی اوقات معلوم ہوگئی جب وہ کوئٹہ تشریف لے گئے کہ

طوفان کا رخ موڑ نے میں اپنا حصہ ڈالیں ، ناکامی ان کا منہ چڑاتی رہی، کسی سرکردہ لیڈر نے حتیٰ کہ نون لیگی ارکان اسمبلی نے ان سے ملاقات تو دور کی بات ان کے فون تک نہیں اٹھائے۔ مستعفی وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ، ان سے کہا گیا کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیدیں انہوں نے خاقان عباسی کو ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا لیکن میاں نواز شریف نے از خود فون پر انہیں مجبور کیا کہ عزت بچالو اپنی بھی اور پارٹی کی بھی

ورنہ تمہارے خلاف آنے والی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجائے گی جس میں تمہاری تو جو بدنامی ہوگی نون لیگ کا زیادہ نقصان ہوگا۔ میاں صاحب کی بات مانتے ہوئے وزیر اعلیٰ صاحب نے استعفیٰ دیا جسے گورنر صاحب نے منظور کر نے میں لمحہ بھی نہیں لگایا۔

زہری کے خلاف تحریک عدم اعتمادکا سلسلہ شروع ہوا تو نون لیگ نے اسے سازش اور طاقت ور قوت نون لیگ کی حکومت کو ختم کرتی دکھائی دی،ہوا کا رخ تیز ہوا، سرخ آندھی بلوچستان میں دکھائی دینے لگی،خطرہ بڑھتا دکھائی دیا تو وزیر اعلیٰ، اب سابق ہوگئے ثناء اللہ زہری خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور مرکزی حکومت کو مدد کے لیے آواز لگائی۔ بچاؤ ، گئی حکومت ، بہت لوٹ مار کرلی اب کیا کروں ، نیب نے ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کر لیا جو مال جمع کر کے بلوچستان کے اعلیٰ لوگوں کو پہنچایا کرتا تھا اس کے گھر سے نے تہاشا رقم برآمد ہوئی ۔ خیر جناب زہرہ صاحب نے وزیر اعظم خاقان عباسی صاحب کو تحریک عدم اعتماد

ناکام بنانے کے لیے پکارا، نواز شریف صاحب نے آواز لگائی کہ غیر جمہوری رویہ قبول نہیں کریں گے، ادھر مدد کے لیے آوازیں لگ رہی تھیں ، بیان پربیان داغے جارہے تھے ، نون لیگ کا خیال تھا کہ سخت قسم کے بیانات سے معاملہ دب جائے گا لیکن وہ کہا دبنے والا تھا، ایک کے بعد ایک وزیر مستعفی ہوتا رہا، اراکین نے بغاوت کی صورت اختیار کر لی، مرکزی حکومت نے قادر بلوچ، خرم دستگر ، اچکزئی ، خواجہ سعد رفیق نے اپنی سی کوششیں کیں لیکن سب ناکام رہے ۔ ان سے

قبل وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی کوئٹہ کو دورہ کیا اس وقت انہیں کوئی قوت سینٹ الیکشن سے پہلے سسٹم لپیٹتی نظر آئی تھی ۔ان کی مثال سید ظمیر جعفری کے اس شعر کی طرح ہے انہوں نے تو انگریز کو ہر بات کا ذمہ دار ٹہرایا نون لیگی کسی طاقت کو ان کے خلاف ہونے معاملات کا ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں۔ شعر کچھ اس طرح ہے کہ ’ہم کریں ملت سے غداری قصور انگریز کا……….ہم کریں خود چوربازاری قصور انگریز کا‘،

اب نون لیگ کی حکومت بلوچستان میں ختم ہوچکی، آئین کے مطابق ایوان نیا وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرے گا۔ مستقبل کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ اسمبلی کا مستقبل کیا ہے، باقی رہے گی یا کچھ اور ہونے جارہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو نون لیگ کی جانب سے حکومت کو گرانے کی سازش قرار دیا گیا، اس عمل کو سینٹ کے انتخابات سے بھی جوڑا گیا ۔ عدم اعتماد کی تحریک کی تحریک ایک اعتبار سے کامیاب ہوگی اور عزت بچانے کی اسی راہ کو مناسب جانا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان استعفیٰ دیدیں۔ اب نئی حکومت کس کی قائم ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کون ہوتا ہے؟ تحریک عدم اعتماد میں مخالف سیاسی جماعتیں تو تھیں ان کے

ساتھ نون لیگ کے ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے نون لیگ کی پالیسی کے ساتھ چلنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ جو اراکین اس سیاست میں پیش پیش نظر آئے ان کا کہنا ہے کہ اب بلوچستان کا وزیر اعلیٰ نواز شریف کی مرضی یاان کا نامزکردہ نہیں ہوگا بلکہ جن اراکین نے ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے عمل میں حصہ لیا اور انہیں مجبور کردیا کہ وہ اپنا استعفیٰ دیدیں وہ اراکین از خود اپنے نئے رہنما کا چناؤ کریں گے۔ صورت حال بہت ہی گھمبیر ہے، اگر

اسمبلی میں کوئی نیا اتحاد قائم ہوتا ہے وہ حکومت تشکیل دیتا ہے تو نون لیگ کے اراکین کس طرح اس اتحاد میں شامل ہوکر حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ نون لیگ اگر اس پوزیشن میں ہوتی کہ وہاں حکومت چلا سکتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی، نون لیگی اراکین اسمبلی کا رویہ اپنی قیادت سے غم و غصہ اس شدت کا ہے کہ وزیر اعظم خاقان عباسی صاحب جب کوئٹہ سے نامراد واپس لوٹے ائر پورٹ پر کوئی سیاسی لیڈر انہیں رخصت کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ میڈیا کی خبر ہے کہ

انہیں پولیس کے اعلیٰ حکام اور چیف سیکریٹری نے ائر پورٹ پر رخصت کیا۔ نون لیگ کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے ، اپنی آنکھیں کھول لینی چاہیے ، ملک کا مسئلہ صرف نواز شریف کی نا اہلی ہی نہیں ہے اور بھی غم ہیں زمانے اس کے سوا۔ لیکن نون لیگیوں کو صرف اور صرف یہی غم اور دکھ کھائے جارہا ہے ۔ ہر ایک نون لیگی کو نواز شریف کی حمایت، اداروں پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ کام نہیں ۔ ہر معاملے میں سازش دکھائی دے رہی ، کوئی غیبی قوت نظر آرہی ہے جو

شریف خاندان کو اقتدار سے باہر رکھنا چاہتی ہے۔ سیاست کے تجزیہ کار بلوچستان میں نون لیگ کی اس شکست کو نون لیگ کے سیاسی انحطاط کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔یہ بھی خیال کیاجارہا ہے خدا کرے ایسا نہ ہو کہ اب جو بھی حکومت قائم ہوگی اس کا وزیر اعلیٰ بلوچستان اسمبلی کو توڑنے کا باعث ہوگا ، بلوچستان کے بعد خیبر پختونخواہ اور پھر سندھ میں یہ عمل دھرایا جائے گا اس طرح قبل از وقت کیئر ٹیکر حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی ، قبل از وقت انتخابات ہوں گے، سینٹ

کے انتخابات جو مارچ میں ہونا ہیں وہ نہیں ہوسکیں گے۔ نون لیگ کی پوری کوشش ہے کہ اس کی موجودہ کمزور حکومت سینٹ کے انتخابات تک قائم و دائم رہے تاکہ سینٹ میں نون لیگ کی طاقت برقرار رہ سکے۔ مخالف کب چاہیں گے کہ ایسا ہو۔ اب کیا ہوتا ہے بلوچستان کی اسمبلی قائم رہتی ہے؟ اور نیا قائد ایوان منتخب کر

تی ہے، وہ کون ہوگا اس کے بارے میں سر دست کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ جمہوری نظام کا قائم و دائم رہنا ملک و قوم کے مفاد میں ہے، غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا تو اس سے ملک کا نقصان ہوگا۔ جمہوریت کا تسلسل برقرار رہنا ہی تمام سیاسی جماعتوں کے مفاد میں بھی ہے اور ملک و قوم کے حق میں بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں