صبر اور دعا

جنوری کی سردی نے ہر جگہ سناٹا کیا ہوا تھا سب لوگ اپنے کمروں میں ہیٹر کے اگے بیٹھے یا تو مونگ پھلی کا مزہ لے رہے ہونگے یا کافی یا چائے کا دور چل رہا ہوگا آج تو ہلکی بوندہ باندی نے ہر کسی کو گھر تک ہی محدود کر دیا ،،،،،پر ایک زی روح سردی کی پرواہ کئے بغیر چھت پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔ اسکے آنسو بارش کے پانی کے ساتھ بہتے چلے جا رہے تھے۔ وہ جانے کب تک یوہی بیٹھی رہتی ،،،اگر اسکی ماں اسے ڈھونڈتے چھت پر نا آجاتی ۔

“سائرہ بیٹا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ ،،تم رو رہی ہو ؟ ،،،اسنے آنکھیں اوپر کر کے ماں کی طرف دیکھا ۔اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جو اسکا حال دل بیان کرنے کے لئے بہت تھی۔اماں اسے اٹھا کر کمرے میں لے گئی ۔اسکو کمبل اوڑھا کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں کو سہلانے لگی ،،،،،ہیٹر کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکاتھا۔

“امی وہ میری قدر کیوں نہیں کرتا ؟،،،،،،کیوں اسنے اپنا دل میرے لئے سخت کر لیا ہے ،امی؟ ،،،،،میری غلطی کیا ہے امی؟،،،،،،،،وہ کافی دیر ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون لیتی رہی،،،،وہ آج میکے ماں کو ملنے آئی تھی۔اسنے کبھی گلا نہیں کیا تھا آج جانے کیوں ماں کے سامنے دل کی بات بول بیٹھی ۔،،،،،،“امی وہ پریشان ہے میں جانتی ہوں اسکو کاروبار میں پریشانیاں ہے ۔وہ بہت پریشان ہے، پر کیا اسکی وجہ میں ہوں امی ؟ ،،،،،،،،،،،“ہوا کیا ہے ؟ میری بچی “،،،اماں نے اسکے بالوں کو سنوارتے ہوے کہا ،،،،،،،،،امی اسکو کاروبار میں پریشانی ہے کوئی وہ بہت غصہ کرتا ہے مجھ پر امی ،،،،مجھے کہتا بس چپ رہو تمہارے چپ رہنے سے مجھے سکون ملتا ہے،،،،،اتنا کہہ کر وہ رونے لگی ،،،،،اسنے کیوں کہا ایسا کوئی وجہ تو ہوگی ؟،،،،امی نے فکرمندی سے کہا،،،،،،ان کی طبعیت خراب تھی میں نے بس یہ کہا ڈکٹر پاس چلے جائے ،،،اسنے کہا آگے سے تمہں اگر زرا سا میرا احساس ہوتا تم یہ نا کہتی ،،،،تم میری پریشانی ختم کرتی ۔
“امی مجھے احساس تھا تب ہی ڈاکٹر کا بولا ،،،،میں کوئی بھی بات کرتی ہوں وہ مجھ سے غصے سے ہی بات کرتا ہے۔ جب میں کہتی ہوں پلیز آرام سے بات کرے کیا مجھ سے بیزار ہوگئے ہے ؟ تب کہا فضول سوچتی ہو تم ،،،فضول بولتی ہو چپ رہا کرو۔ ،،،،امی کبھی اسنے یہ نہیں سوچا جب میرا لہجہ ہی کاٹ دار ہوتا اسنے تو خود ہی غلط سوچنا،،،،،مجھے اس سوچ پر کون مجبور کرتا ہے امی ؟،،،،،،،،وہ رونے لگی اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ،،،،،امی نے اسے دل کھول کے رونے دیا،،،،امی جب میں اسکے لہجے کا غصے کا گلا کرتی ہو تب کہتا تمہارے فضول بولنے کی عادت نہیں جائے گی تمہاری زبان نے مجھے تم سے دور کیا ،،،،،،،کیا امی اپنے محبوب سے گلا کرنا زبان درازی ہے ؟،،،،،،،کچھ دیر رولینے کے بعد وہ پھر بولی،،،،،،کیا میرا دل نہیں امی ؟،،،،کیا میں نہیں سوچتی کبھی جب میں اسکے روایے کا گیلا کروں وہ پیار سے میری بات سنے مجھے ہاتھ سے پکڑ کے اپنے پاس بٹھائے میری ساری شکایتں سنے ََََ،،،،،،وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا مجھے ہر بات پر ڈانت پرتی ہی امی،،،،،، “بس کر میری بچی بس کر “ امی نے اسے گلے لگا لیا یہ ایک ماں کے دل ہی جانتا اس پر کیا گزر رہی تھی۔ نہیں امی آج نا روکے رو لینے دے مجھے ،،،،رو لینے دے ،،،نہیں تو میرا دل پھٹ جائے گا،،،،،،،،،میں نے اسکی ہر بات مانی ہر وہ کام چھور دیا جو اسے پسند نہیں تھا اسکی پسند اپنا لی ،،،،وہ پھر مجھ سے راضی نہیں ،،،،وہ مجھ سی خوش کیوں نہیں ہوتا ؟،،،،،اسکو میں نطر کیوں نہیں آتی ،،،،،،وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر چیکھنے لگی،،،،،جب دل کرتا مجھے کمرے سے نکال دیتا ہے امی ،،،،بس کر میری بچی بس کر صبر کر بیٹا اللہ سے مدد مانگ ،،،،،صبر سے نعمت کا انتظار کر میری بچی ،،،،،،،اماں اسکو میرا میں نطر نیئں آتی اسکو میرا وجود کیوں نظر نیں آتا وہ کیوں مجھے نہیں دیکھتا ؟،،،،،،وہ میرے صبر کو آزماتا ہے امی ََََََ،،،،،،،بس کر سایرہ اور کتنا روئے گی بس کر سب ٹھیک ہوجایگا اللہ سے مدد مانگ میری بیٹی دعا قسمت بدل دیتی ہے

“اے ایمان والوں صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، اللہ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ،،،،،،یہ تو قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے ،،،،صبر کرو بیٹا ،،،تم اسکے ساتھ گزارے اچھے دن کیوں بھول گیی ہو ،،،،اماں نے اسے پیار سے سمجھایا جیسے کوئی چھوٹی بچی کو گڑیا کھو جانے پر سمجھاتا ہے۔ امی وہ دن یاد ہے تو ہی اسکے ساتھ ہوں ابھی تک ،،،،،پر اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا،،،،اسنے ایک اور کلا کیا،،دیکھو بیٹا جب ہم خود غلطی کرتے ہے ،،،،تو کیا ہم خود سے پیار کرنا چھوڑ دیتے ہیں بیٹا نہیں نا؟،،،،،،اسنے ماں کی بات پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا وہ ٹھیک کہ رہی تھی اسنے ایسا سوچا نہیں تھا ۔وہ بس نیگٹیو سوچتی رہی تھی ۔
اماں کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلی گئیی ،،،،تھوڑی دیر بعد اماں اسکے لئے دودھ کا گلاس لے کر نمودار ہوئی ،،،،،اسکے لاکھ منا کرنے پر اماں نے اسکو پانی پلا کر ہی دم لیا ۔ تھوڑی دیر تک وہ روتے روتے سو گئی،،،کیوں کے دودھ میں نیند آور دوا ملا دی تھی اماں نے،،،،نہیں تو وہ ساری رات روتی رہتی ،،،،اسے سلا کر خود اماں اسکے لئے دعا کے لئے رب کے حضور حاضری دینے چلی گئی۔،،،

اگلے دن وہ بخار میں پھنک رہی تھی اسنے اماں سے کہا وہ کچھ دن آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے ،،،،،اماں نے کہا اپنے میاں سے اجازت لے لو اسنے اماں کے کہنے پر اسے فون کیا ،،،،،،“ اسلام علیکم “ اسنے دوسری بیل پر فون اٹھایا تو وہ جلدی سے بولی ۔ “واعلیکم اسلام “ دوسری طرف سے جواب آیا،،،،،میں کچھ دن امی کی طرف رک جاؤ ؟،،،،،،“ رک جاو میں نے کب منا کیا ،،،اللہ حافظ۔ یہ کہہ کر اسنے فون بند کر دیا ،وہ کتنی دیر فون کو ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی ،،،،،

ایسے ہی بہت سارے دن گزر گئے وہ ٹھیک ہو گئی تھی ۔اور ہر روز اسکا انتظار کرتی ،،،،کبھی گھنٹوں بیٹھی گیٹ کو دیکھتی رہتی یا ٹیلیفون کے پاس بیٹھی رہتی ،،،،نا وہ خود آیا نہ ہی اسکا فون ،،،،ایسے ہی ایک دن وہ فون کے پاس بیٹھی تھی،جب فون کی بیل ہوئی اسنے لپک کر فون کان کو لگایا۔ “میں تمہیں لینے آرہا ھوں تیار رہنا“ ،،،،اتنا کہہ کر اسنے فون بند کر دیا اور وہ بھاگ کر اماں کو بتانے گیئ اماں نے بدلے میں اسے ڈھیروں دعاییئں دی اور اللہ کا شکر ادا کیا،،،،

وہ برے نک سک سے تیار ہوئی تھی اسنے ہر ہار سنگھار اسکی پسند کا کیا تھا ۔وہ آیا تو اماں نے ڈھیر ساری دعاؤں کے سایے میں اسکو رخصت کیا ۔ “میری پریشانی ختم ہو گیئ ہے سائیرہ،،،اور میں تم سے ہر بات کی معافی مانگتا ہوں جس نے تمہیں ہرٹ کیا ۔ اسکا صبر اور دعا نے آج اسکو یہ دن دیکھایا وہ بہت خوش تھی کیوں کے اسے صبر کا اجر مل گیا تھا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں