بیوی مزید ایک بچہ چاہتی ہے جب کہ شوہر ایسا نہیں چاہتا وہ کنڈم کا استعمال کرتا ہے کیا بیوی کی اس صورتحال میں شوہر ہمبستری کرنا جائز ہے

پرویز ہودبھائی کو پاکستان میں میڈیا ڈارلنگ کا درجہ حاصل ہے۔ انہیں عرصے سے ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے تھے۔ ان کا اصل مضمون تو نیوکلیئر فزکس ہے مگر شاید ہی پچھلے دس سال میں انہیں فزکس سے متعلق کسی موضوع پر اظہار خیال کےلیے بلایا گیا ہو۔ عام طور سے انہیں پاکستان کے سماجی مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کرنے کےلیے مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کے خیالات اور نظریات سے مکمل نہ سہی مگر اس حد تک واقفیت ضرور تھی کہ بہت سے سوالات ذہن میں تھے۔ نرم اور شستہ لہجے میں اردو بولنے والے ہودبھائی کو صحیح یا غلط پاکستان کا نوم چومسکی بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی گفتگو ہمیشہ کی طرح تین مسائل پر مرکوز تھی: ایک پاکستان میں آبادی کے پھیلاؤ، دوسرا پاکستانی معاشرے میں مولوی کا کردار اور تیسرا ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور دہشت گردی۔

پروگرام کے دوران شدت سے اس بات کا احساس ہوا کے ہمارا تعلیمی نظام واقعی بہت شدید زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہم واقعی سوچنے سمجھنے اور علمی و سیاسی نظریات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور خصوصاً وی آئی پیز سے اختلاف کو تو گناہ سمجھتے ہیں۔ ایسے میں شرکاء کی جانب سے پرویز ہودبھائی کے برسوں پرانے اور ٹیلی ویژن پر بار بار دہرائے جانے والے افکار پر تعریف میں سر دھننے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے کی ہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ میری اپنی تربیت کچھ اس ماحول میں ہوئی ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد ہم بچوں کو جو کتابیں اور رسائل گھر پر آتے، وہ پڑھنے کی اور کھانے کی میز پر ان پر سیر حاصل گفتگو اور کسی بھی نقطہ نظر سے اختلاف کی اجازت تھی چاہے وہ کتب والد صاحب کے قریبی دوستوں کی لکھی ہوئی اور افکار خود ان کے ذاتی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لئے اس بات کا کوئی سوال نہیں ہوتا کہ کسی انٹلیکچوئل کی، خواہ وہ کتنا ہی بڑا میڈیا ڈارلنگ یا مقبول و معروف پبلک فیگر ہی کیوں نہ ہو، ہر بات کو من و عن تسلیم کرلیا جائے اور صرف ہاں میں سر ہلایا جائے۔ کسی کے بھی افکار کو دلائل، واقعاتی شہادتوں، تاریخی حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرکے چیلنج کرنے کی جو عادت ہے وہ ہر جگہ جوتے پڑواتی ہے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

کیلگری کی انٹلیکچوئل کمیونٹی سوٹ بوٹ میں موجود تھی۔ اقبال حیدر صاحب کا یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا خوبصورت گھر اور ان کا بلا مبالغہ سینکڑوں کتب پر مبنی کتب خانہ۔ کینیڈا آنے کے بعد پہلی مرتبہ اردو کتب کا اتنا بڑا ذخیرہ دیکھنے کو ملا۔ کتابوں کو الٹنے پلٹنے کا تو نہ موقع تھا نہ وقت، مگر پروگرام کے دوران سینٹرل ٹیبل پر ارتقا کی ایک کاپی پر مسلسل للچائی ہوئی نظر ڈالتے رہے کہ 2010 میں حیدرآباد کا آبائی گھر چھوڑنے کے بعد ارتقا پڑھنے کو نہیں ملا تھا۔

بہرحال، اب آتے ہیں پروگرام کی طرف۔ ٹاک شو کے میزبان جنید بہادر نے گفتگو کا آغاز ڈارون اور کائنات کی ابتداء کے دیگر نظریات سے کیا جس میں ہودبھائی کا کہنا تھا کہ مذہب کا ان نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ سیکولر یا ایتھیسٹ (ملحد) ہوکر بھی اچھے سائنسدان ہوسکتے ہیں اور اسلام یا کسی اور مذہب کے پیروکار ہوکر بھی۔

پاکستان میں آبادی کا پھیلاؤ

جنید کا دوسرا سوال پاکستان کے پانچ بڑے مسائل سے متعلق تھا جس کے جواب میں ہودبھائی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی ہے۔ ہر پچیس سال بعد پاکستان کی آبادی دگنی ہوجاتی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنے کی بھی جگہ نہ ملے گی۔ یہ بات ہودبھائی پہلے بھی کہتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کرہ ارض پر جگہ ختم ہو رہی ہے۔ جب تک پاکستان آبادی کے مسئلے پر قابو نہیں پاتا، ترقی نہیں کرسکتا۔

اس سیشن میں سوالات کی اجازت نہ تھی۔ بعد میں​ ​مجھے بتایا گیا کہ​ ​جنید کو بھی cross questioning کی اجازت نہ تھی. نہ جانے یہ ہودبھائی کی خواہش تھی یا ان کے گرد موجود میزبانوں کی جو ان کے احترام میں یہ چاہتے تھے کہ انٹرویو ’’فرینڈلی‘‘ ہی ہو اور کوئی سخت سوال نہ کیا جائے۔ اتفاق سے پرویز ہود بھائی کے جتنے انٹرویوز، پروگرام میں جانے سے پہلے ٹی وی پر دیکھے وہ سب فرینڈلی تھے۔ اس مضمون کا مقصد ان کے افکار پر کچھ سوالات نذرِ قارئین کرنا ہے جو ذہن میں آئے لیکن وقت کی کمی کے باعث پوچھ نہ سکی۔

میں ان سے یہ سوال پوچھنا چاہتی تھی کہ چین اور بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں اور اتفاق سے عرصے سے جی ڈی پی کی تیز ترین شرح کے لحاظ سے بھی دنیا بھر میں ٹاپ پر ہیں۔ تو کیا واقعی کسی قوم کی ترقی اس کی آبادی کے کم ہونے یا کنٹرول ہونے سے مشروط ہے؟

انڈیا کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی الیکشن مہم کے دوران سو کروڑ کی آبادی کا ذکر اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر کرتے رہے ہیں۔ اور آج کی دنیا میں جہاں جنگیں معاشیات کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں اور جہاں cut-throat competition کا محاورہ زبان زد عام ہے تو بلا شبہ سو کروڑ کی مارکیٹ کو کسی بھی ملک کی طاقت گردانا جائے گا اور انڈیا شدید غربت کے باوجود بھی اپنی اس طاقت کو بیرونی تعلقات اور معاشی معاہدوں میں بخوبی مؤثر طریقے سے استمعال کر رہا ہے۔

دوسری طرف ہم سب اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک سے لے کر امریکا، کینیڈا اور یورپ تک کے شاپنگ مالز چین کی مصنوعات سے بھرے ہوتے ہیں۔ جب انڈیا اور چین اپنی آبادی کو اپنی معیشت کی بہتری کےلیے استعمال کرسکتے ہیں تو ہودبھائی صاحب، کیا بڑھتی ہوئی آبادی کیا صرف پاکستان ہی کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟

میں یہ بھی پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس وقت بہت سے ترقی یافتہ ممالک جن میں جرمنی اور جاپان جیسے صنعتی ممالک بھی شامل ہیں، آبادی کے شدید بحرانوں کا شکار ہیں۔ پورے یورپ میں کام کرنے والے نوجوانوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے اور کام کے بغیر پنشن لینے والے بوڑھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آبادی میں مسلسل کمی سے جرمنی جیسے ممالک اتنے پریشان ہیں کہ بچے پیدا کرنے پر سرکار ماؤں کو کثیر مالی سہولتیں فراہم کرتی ہے مگر یہ جن ہے کہ قابو میں ہی نہیں آرہا۔

کیا ہمارے سیکھنے کےلیے بھی کچھ ہے اس بین الاقوامی منظر نامے میں؟ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کسی قوم کی بقا کےلیے آبادی کے جس شرح اضافہ کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر مغربی ممالک اس کم از کم حد تک نہیں پہنچ پاتے۔ مغرب کی لاتعداد یونیورسٹیز اور تھنک ٹینکس میں اس موضوع پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر کچھ مغربی اخبارات کے لنکس حاضر ہیں جو شاید ہودبھائی کی نظر سے نہیں گزرے۔

نیویارک ٹائمز اگست 2013 کی ایک اشاعت میں لکھتا ہے کہ جرمنی اگلے 47 سال میں (یعنی 2060 تک) اپنی 19 فیصد آبادی سے محروم ہوجائے گا اور یہ صورت حال جرمنی ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام یورپ، آبادی کے اس بحران سے گزر رہا ہے۔ اسی مضمون کے مطابق جرمنی آبادی کی شرح میں کمی کو روکنے کےلیے 265 بلین یورو سالانہ فیملی سبسڈیز کی صورت میں دے رہا ہے مگر اس کے باوجود سرکار متوقع نتائج حاصل نہیں کر پارہی۔

اگست 2017 میں شائع ہونے والی برلن انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے کم شرح پیدائش اس وقت یورپ میں ہے اور سب سے زیادہ اوسط عمر بھی یورپ ہی میں ہے۔ گویا اس رپورٹ کے مطابق اب یورپ کو بوڑھا براعظم یا بوڑھوں کا براعظم کہا جا سکتا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ یورپ کی اپنی آبادی بچے پیدا کرنے پر راضی نہیں اور امیگرنٹس کے خلاف نسل پرستی کے جذبات کو ہر دہشت گرد حملہ بڑھا دیتا ہے۔ مغرب کی پوری سیاست اس وقت پناہ گزین مسئلے کے گرد گھوم رہی ہے۔

یورپی یونین کے مطابق 1960 میں یوروپ کے 27 ملکوں میں 57 لاکھ بچے پیدا ہوئے تھے جبکہ 2011 میں 31 ملکوں میں 45 لاکھ بچے پیدا ہوئے۔ پتا نہیں یہ اعداد و شمار جو مغربی پریس میں مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں، کبھی ڈاکٹر ہودبھائی کی نظر سے گزرے بھی ہیں یا نہیں؟

بھارت آبادی کی اس طاقت کو محض معاشی بہتری کےلیے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کےلیے بھی استعمال کر رہا ہے جس کا اظہار کشمیری حریت پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت پر اس کی تصویر کو پروفائل فوٹو بنانے والے فیس بک صارفین کے اکاؤنٹس بند کروا کر کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں