اس کو امام ابو حنیفہؒ کا صبر کھا گیا

امام ابو حنیفہؒ دکان سے کچھ سودا سلف خرید رہے تھے کہ ایک شخص نے آواز لگائی کی (جو کہ فطرتا خبیث انسان تھا) ابو حنیفہؒ ! اپنی ماں کو میرا نکاح کا پیغام دے آ (یعنی کھلم کھلا وہ آپ کو ماں کی گالی دے رہا تھا) اس وقت امام ابو حنیفہؒ کی والدہ کی عمر 80 برس تھی۔ امام ابو حنیفہؒ نے بڑے حوصلے اور تحمل سے کام لیا اور فرمایا کہ میری والدہ عاقلہ اواپنے فیصلے میں آذاد ہیں

آپ خود ان کی خدمت میں حاضر ھو کر بات کر لیں۔ وہ شخص آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ جیسے ہی امام ابو حنیفہؒ نے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا ایک زوردار چینخ کی آواز آئی۔ آپ نے مڑ کر دیکھا تو وہی شخص زمین پر گرا تڑپ رہا تھا اور کچھ ہی دیر بعد وہ مر گیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کو امام ابو حنیفہؒ کا صبر کھا گیا۔ اللہ اکبر

سردیوں میں میاں بیوی کے لئے مچھلی کھانا کیوں ضروری ہے ۔۔ یہ بات ہر میاں بیوی کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

جیسے ہی سردیوں کے موسم کا آغاز ہوتا ہے تو ہم لوگ سردی سے بچنے کے لئے اپنی خوراک میں طرح طرح کے میوہ جات ،مزے مزے کے سوپ،پکوان اور مچھلی کا استعمال بڑھا دیتے ہیں .لیکن آج میرا موضوع مچھلی سے متعلق ہے. ہمارے ہاں کئی قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں.ان میں مشہور اقسام بام،رہو، گلفام، ٹراؤٹ، مشاہیر، سلور، سنگھاڑا اور تھیلہ قابل ذکر ہیں. خیر مچھلی کی ہر اقسام میں

ﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے بے شمار فوائد چھپا رکھے ہیں جن سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے تاکہ ہم تندرست و توانا رہ سکیں. مچھلی میں پوٹاشیم، فولاد،آئیوڈین،پروٹین،وٹامن اے،وٹامن 12 ، وٹامن ڈی ،سلینیئم،فاسفورس اور میگنیشئم پایا جاتا ہے.اس میں پروٹین 60%، فیٹ 10%، وٹامن 181% 12،وتامن اے 50% ، سلینئیم 67% ، فاسفورس 33% اور میگنشیم 16 % موجود ہوتا ہے.اس سے آپ ہوتا ہے.اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیںکہ مچھلی ہمارے لئے کتنی اہم غذا ہے. ہمیں اسے صرف سردیوں میں نہیں بلکہ پورا سال ہی ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور استعمال کرنا چاہئے تب ہی ہم اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں بے شک آپ تھوڑی مقدار میں کھائیں لیکن اسے ہفتے میں ایک بار ضرور کھائیں.جب آپ بازار سے مچھلی خریدنے جائیں تو تازہ مچھلی ہی خریدیں کیونکہ پرانی مچھلی آپ کی صحت کو خراب کر سکتی ہے. تازہ مچھلی کی پہچان آپ چند چیزوں پر عمل کر کے دیکھ سکتے ہیں. پہلے مچھلی کی آنکھیں دیکھیں اگر ان میں چمک ہے تو یہ تازہ مچھلی ہے اس کے علاوہ اس کے جسم کو انگوٹھے سے دبائیں اگر جسم پر گڑھا پڑ جائے تو یہ تازہ مچھلی نہیں ہے اسی طرح اس کے پروں کو کھینچ کر دیکھیں اگر آسانی سے علیحدہ ہو جائیں تو یہ بھی خراب مچھلی کی نشانی ہے اس کے علاوہ گلپھڑے سے دیکھیں کہ وہ سرخ ہے تو تازہ ہے اور اگر کالا ہے تو پرانی مچھلی کی نشانی ہے.مچھلی خریدنے کے بعد آپ اس کو نمک ،لیموں اور اجوائن لگا کر تھوڑی دیر کے لئے رکھ دیں جب تمام پانی نکل جائے تب اس کو دھو لیں اب اس پر مصالحے لگا کر تقریباً چوبیس گھنٹوں کے لئے فریزر میں رکھ دیں تاکہ مصالحہ اچھی طرح مچھلی میں جذب ہو جائے اس طرح مچھلی کا ذائقہ دوبالا

ہو جائے گا.اور کھانے میں بھی لطف آئے گا. مچھلی میں انتہائی کم کیلوریز ہوتی ہیں اس لئے اس کو ہر کوئی کھا سکتا ہے.اپنے بچوں کو مچھلی ضرور دیںکیونکہ اس سے ان کی یاداشت بہتر ہوتی ہے اور ان کی نظر بھی تیز ہوتی ہے

.چلیں اب دیکھتے ہیں کہ مچھلی کے کیا کیا فوائد ہوتے ہیں. مچھلی کے فوائد: مچھلی کھانا دماغ اور یاداشت کے لئے فائدہ مند ہے.مچھلی کھانا دل کے لئے مفید ہے.مچھلی ہماری ہڈیوں کو بھی مظبوط بناتی ہے.الزائمر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے.مچھلی کھانے سے آپ ذہنی تناؤ سے بچے رہتے ہیں.مچھلی کھانے سے جسم میں خون جمنے نہیں پاتا. مچھلی کھانے سے آپ ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں.٭ مچھلی کھانے سے آپ سرطان سے بچ سکتے ہیں.٭ مچھلی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انمول تحفہ ہے.٭مچھلی کھانے سے آپ کی جلد چمکدار ہو جاتی ہے.٭

مچھلی آپ کے بالوں کی حفاظت کرتی ہے. مچھلی کھانے والوں کی عمر طویل ہوتی ہے. ٭مچھلی آپ کے وزن کو متوازن رکھنے میں مددگار ہے. ٭ مچھلی کھانا مرد حضرات کے لئے فائدہ مند ہے.٭ مچھلی کھانے سے کولیسٹرول کی سطح نارمل رہتی ہے.٭ مچھلی کھانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر طریقے سے ہوتی ہے.٭ مچھلی کا تیل استعمال کرنے سے سانس کی نالیاں صاف رہتی ہیں.٭ مچھلی کا تیل وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے.٭ مچھلی کا تیل مدافعتی نظام کو درست رکھتا ہے.٭ مچھلی کے تیل کا استعمال نزلہ و زکام سے بچاتا ہے.

ہمبستری کے لیے ٹائمنگ والی گولیاںمردانہ قوت کے لیےکسی میڈیسن کا استعمال کرنا کیسا ؟

مرد اپنی قوت باہ بڑھانے کے لیے طرح طرح کے طریقے آزماتے ہیں اور کچھ مردتو ادویات کا استعمال کرتے بھی ہیں جن کا وقتی طور پر تو فائدہ ہوتاہے لیکن اصل میں ایسی ادویات انسانی جسم کے لیے کئی بیماریوں کا باعث بھی بنتی ہیں ۔ ماہرین کا کہناہے کہ ایسی ادویات سے جتناپرہیز کیا جائے اتناہی بہتر ہے اور قوت باہ بڑھانے لیےقدرتی طریقوں اور خوارک کا استعمال کیا جائےتو اس کے دیرینہ نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ قوت باہ کو بڑھانے کے لئے پیازانتہائی فائدہ مند ہے۔

پیاز ایسی چیز ہے جس کے کوئی نقصانات نہیں ہیں بلکہ یہ قوت باہ بڑھانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے لیکن اسے دن میں کس وقت کھانا چاہیے کہ یہ فائدہ دے کیونکہ اگر یہ دن میں کسی غلط وقت کھالیا جائے تو یہ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ قوت باہ کو بڑھانے کے لیے پیاز کا استعمال دوپہر کے کھانے کے ساتھ کرنا چاہئے اوراگر اس کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تومرد وں کو کسی قسم کی بھی ادویات کا سہارا نہیں لینا پڑے گا اور ازدواجی زندگی میں کسی قسم کی شرمندگی بھی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ماہرین کا کہناہے کہ کچھ ایسے اوقات بھی ہیں جن میں پیاز کا استعمال صحت کے لیے انتہائی مضر ہے ۔ پیازکو صبح یا شام کے وقت بالکل استعمال نہیں کرناچاہیے کیونکہ ان اوقات میں ا س کا استعمال قوت باہ کومزید کم کر دے گا۔شام کے وقت پیاز کھانا مردوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے لہذا رات کے کھانے میں اسے ہاتھ بھی مت لگائیں

ہمبستری کرنے پر شوہروں کو نبی کریم ﷺ کی ہدایت

قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتے احدیث میں بعض ایسے مسائل رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہے جو بظاہر حیاح کے خلاف ہے مگر اس لیے بیان کہ کے اگر آپﷺ بیان نہ کرتے تو لوگ اُن بے شرمی کے کاموں میں مبتلا ہوجاتے اسی وجہ سے آج کل ہمارے معاشرے میں ایک گناہ جس میں لوگ مبتلا ہے اور وہ ہے حیاح کے خلاف مگر ہے بہرحال شریعت کا مسعلہ اور لوگ اس میں مبتلا بھی ہے اس لیے بتانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ لوگ شادی کے بعد بھی آج کی نوجوان نسل زوجہ سے یعنی بیوی سے غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرتے ہے انٹرنیٹ پر بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہے تو جو چیز انگریزوں کی دیکھ رہے ہیں کہ اُنکا کلچر آہستہ آہستہ میڈیاں کے زریعے ہماری اندر بھی آ رہا ہے اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ایک روایت میں ہے کہ اللہ اُس کی طرف دیکھے گا نہیں کہ جو اپنی زوجہ یعنی بیوی سے پچلے راستے سے ہمبستری کریگا یہ بیماری بھی یہ گندگی بھی بڑتھی جارہی ہے خاص طور پہ جنکو لڑکوں سے بدفعلی کی عادت پڑھ جائے تو وہ اپنی زوجہ سے فطری راستے سے ہمبستری نہیں کرتے اللہ نے فرمایا کہ “تمھاری زوجات بیویاں ہے یہ نسل بڑھانے کیلئے تو اُسی راستے میں انسان اپنی خواہش کو پوری کرسکتا ہے جس راستے سے نسل بڑھتی ہے اُسکے علاوہ کسی اور راستے سے اپنی خواہش کو پورا کرنا یہ حرام ہے گناہ کبیرہ ہے گندگی ہے ۔ ختم شد

امام بخاریؒ کا مشہور واقعہ ہے

ایک مرتبہ کشتی میں سفر کر رہے تھے، اس وقت ان کے پاس ایک ہزار اشرفی تھے، راستے میں ایک بندے نے ان کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی، باتوں باتوں میں انہوں نے تذکرہ کردیا کہ میرے پاس اتنی رقم ہے، بس ایسے ہی برسبیل تذکرہ بات کر دی، وہ کوئی بڑا شاطر انسان تھا، تھوڑی دیر کے بعد اس نے شور مچا دیا کہ میرے پاس ایک تھیلی تھی وہ کسی نے چوری کر لی ہے،اس میں میرے چھ ہزار دینار تھے، لوگوں نے پوچھا کہ وہ تھیلی کس رنگ کی تھی؟ اس نے کہا: وہ اس رنگ کی تھی، کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ان کے پاس اس رنگ کی تھیلی میں اتنے ہزار دینارہیں، جب اس نے شور مچایا تو کشتی کے سب لوگ کہنے لگے کہ سب کی تلاشی لو تاکہ پتہ چلے کہ وہ کہاں ہے. امام بخاریؒ سمجھ گئے، انہوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اگر لوگ تلاشی لیں گے اور انہیں میرے پاس سے تھیلی مل جائے گی، تو مجھے سب لوگ چور سمجھیں گے اس بندے کو پکا پتہ تھا کہ میرے رشتہ دار بھی میرے ساتھ ہیں، جب ان کی تلاشی لی جائے گی اور ان کے پاس اسے پائیں گے تو لے لیں گے، چنانچہ انہوں نے تلاشی لینا شروع کر دی، جب تلاشی لیتے لیتے امام بخاریؒ کے پاس آئے اور ان کی تلاشی لی تو ان کے پاس بھی تھیلی نہیں تھی، پوری کشتی میں سے تھیلی کہیں سے نہ ملی، اس نے اپنی جھوٹ اور بناوٹی پریشانی کا مزید اظہار کیا

جب کشتی کنارے پر لگی اور امام بخاریؒ آگے چلے تو وہ آدمی آپ کے قریب آیا، اس نے حضرت سے معافی مانگی اور کہا: جی میں بہت شرمندہ ہوں، میں نے آپ کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے، آپ اچھے بندے ہیں لہٰذا مجھے معاف کر دیں، حضرتؒ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا، پھر اس نے سوال کیا حضرتؒ آپ نے مجھے معاف تو کر دیا مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے وہ تھیلی چھپائی کہاں تھی؟ فرمایا جب میں نے اعلان سنا کہ تھیلی چوری ہو گئی ہے تو میں سمجھ گیا تھا میں چونکہ کنارے پر بیٹھا تھا اس لیے میں نے وہ تھیلی چپکے سے دریا میں گرا دی، اس نے حیران ہو کر پوچھا: چھ ہزار دینار کی تھیلی دریا میں پھینک دی؟ فرمایا: ہاں اگر میں اسے اپنے پاس رکھتا تو لوگ مجھے چور سمجھتے، کیا مجھ سے کوئی حدیث کی روایت کرتا؟ اگر میں ایسا نہ کرتا اور چوری کا الزام مجھ پر ثابت ہو جاتا تو میں حدیث پاک کی روایت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا، میں نے روایت حدیث والی نعمت کو بچانے کی خاطر اس مال کو قربان کر دیا ۔ ختم شد

قبر میں دفن ہونے سے پہلے انسان کے پاس کتنے فرشتے آتے ہیں اور آکر کیا کہتے ہیں؟

فرمان مصطفی ﷺ: جب آدمی پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طر ف پانچ فر شتے بھیجتاہے۔پہلافر شۃ اس کے پاس اس وقت آتا ہے جب اس کی روح حلقوم(یعنی حلق) تک پہنچتی ہے ۔ وہ فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے :”اے ابن آدم ! تیرا طاقتوربدن کہاں گیا؟ آج یہ کتنا کمزور ہے ؟ تیری فصیح زبان کہاں گئی ؟آج یہ کتنی خاموش ہے ؟ تیرے گھر والے اور عزیزواقرباء کہاں گئے؟ تجھے کس نےتنہاکردیا۔

پھر جب اس کی رو ح قبض کرلی جاتی ہے اور کفن پہنادیا جاتاہے تو دوسرا فرشۃ اس کے پاس آتا ہے او راسے پکار کر کہتا ہے :”اے ابن آدم !تُو نے تنگدستی کے خوف سے جو مال واسباب جمع کیا تھا وہ کہاں گیا ؟ تُونے تباہی سے بچنے کے لئے گھر بسائے تھے وہ کہاں گئے؟ تُو نے تنہائی سے بچنے کے لیے جو اُنس تیار کیا تھا وہ کہاں گیا؟”

پھر جب اس کا جنازہ اٹھایا جاتاہے تو تیسرا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکا ر کر کہتا ہے:” آج تُو ایک ایسے لمبے سفر کی طرف رواں دواں ہے جس سے لمبا سفر تُو نے آج سے پہلے کبھی طے نہیں کیا ،آج تُو ایسی قوم سے ملے گا کہ آج سے پہلے کبھی اس سے نہیں ملا ،آج تجھے ایسے تنگ مکان میں داخل کیاجائے گا کہ آج سے پہلے کبھی ایسی تنگ جگہ میں داخل نہ ہوا تھا، اگرتُو اللہ عزوجل کی رضا پانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ تیری خوش بختی ہے او راگر اللہ عزوجل تجھ سے ناراض ہوا تویہ تیری بدبختی ہے ۔”

پھر جب اسے لحد میں اتار دیا جاتاہے تو چوتھا فر شتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے:” اے ابن آدم ! کل تک تُو زمین کی پیٹھ پرچلتا تھااور آج تُواس کے اندر لیٹا ہوا ہے ،کل تک تُو اس کی پیٹھ پرہنستا تھا او رآج تُو اس کے اندر رورہاہے، کل تک تُو اس کی پیٹھ پرگناہ کرتاتھا اور آج تُواس کے اندر نادم وشرمندہ ہے ۔

”پھر جب اس کی قبرپر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اہل وعیال دوست واحباب اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو پانچو اں فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کرکہتاہے:” اے ابن آدم ! وہ لوگ تجھے دفن کر کے چلے گئے ،اگر وہ تیرے پاس ٹھہربھی جاتے تو تجھے کوئی فائد ہ نہ پہنچا سکتے ،تُونے مال جمع کیا او راسے غیرو ں کے لئے چھوڑدیا آج یا تو تجھے جنت کے عالی باغات کی طرف پھیرا جائے گا یا بھڑ کنے والی آگ میں داخل کیا جائے گا۔

زبان، اور وہ بھی اردو جیسی خوبصورت و مرصع، مقفیٰ و مسجع، تمکین و تاثیر سے بھرپور الفاظ کا غیر محدود خزانہ رکھنے والی زبان کا جس طرح ہمارا میڈیا (جسے فروغِ اردو کا سب سے بڑا مجاہد ہونا چاہیے تھا) بیڑہ غرق کررہا ہے، وہ اس مصرعے کے ذریعے بخوبی بیان کیا جاسکتا ہے کہ:

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

میں کوئی باریک قسم کی غلطیوں کا ذکر نہیں کر رہا۔ یہاں مٹھائی کو مٹھیائی اوربھگوڑے کو بگوڑے لکھا اور سنا تو میں نے خود ہے؛ اور یہ میں کسی ڈرامے یا تفریحی پروگرام کی بات نہیں کررہا بلکہ خبروں اور ٹکرِز (tickers) کا بتا رہا ہوں۔ یہ دیگ کے صرف دو دانے ہیں، پوری دیگ ابھی باقی ہے۔ یقین رکھیے کہ بحیثیت پروف ریڈر اور ترجمہ نگار میں اغلاط کی ایک فہرست چینلز کے ناموں کے ساتھ مرتب کر سکتا ہوں۔ کئی محترم ادباء اور فضلاء نے میڈیا کی اس جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی مگر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، مجال ہے جو ہمارے میڈیائی اردو دانوں کے کانوں پر کوئی جوں بھی رینگی ہو۔

الحمدللہ ہمارے چینلز ساری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں اور زبان کسی بھی تہذیب و ثقافت کا سب سے بڑا مظہر ہوتی ہے۔ تو جب ہم اس طرح کی بگڑی ہوئی زبان، غلط تلفظ شدہ الفاظ و آواز، انگریزی الفاظ کی ناروا آمیزش اور لفظوں کے بے محل استعمال پر مبنی اپنی زبان دنیا کے سامنے پیش کریں گے تو ہماری تہذیب و ثقافت کا کیا تاثر مرتب ہوگا، یہ مجھ جیسا ایک اوسط عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔

یہ تو عوام کا حال ہے، اب تو خواص بھی صاحبِ علم، صاحب قلم کی جگہ اہلِ علم، اہلِ قلم، ناراضی کی جگہ ناراضگی، ہراساں کو حراساں لکھنے پڑھنے میں فرق نہیں کرتے۔ ایک کثیرالاشاعت روزنامے کی 18 نومبر کی اشاعت میں ایک ہی خبر میں ہراساں اور حراساں دونوں موجود ہیں، شاید اس لیے کہ قاری کو جو پسند آئے اسے منتخب کرلے۔ اس طرح کی اغلاط کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

بلاشبہ اردو الیکٹرونک میڈیا کا اثر ہمہ گیر ہے، یہ کم خواندہ بلکہ ناخواندہ افراد میں بھی شعوری و عقلی بیداری کے اعتبار سے بہتری پیدا کررہا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی چینلز دیکھے جاتے ہیں اور عوام تک بہت سی ایسی چیزیں بہ آسانی پہنچ جاتی ہیں جن کا ہم کچھ عرصہ پہلے تک تصور بھی نہیں کرسکتے تھے، پر زبان کے بگاڑ اور لکھنے بولنے میں بے احتیاطی سے زبان میں جو جھول پیدا ہو رہا ہے، اس پر نہ صرف غور و فکر کی بلکہ عملی اقدامات کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے پڑوس میں سنسکرت جیسی مردہ زبان کو زندہ کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت میں ان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا جتنی کوششیں کررہا ہے وہ سب کے سامنے ہیں۔ ان کی کو ششیں اس حد تک کامیاب بھی ہوتی نظرآرہی ہیں کہ ہمارے یہاں بھی ان کے ڈراموں، شوز اور فلموں کے اثر سے روز مرہ کی بول چال میں ہندی الفاظ کا استعمال نظر آنے اور سنائی دینے لگا ہے۔ پھر فروغِ اردو کےلیے ہمارے میڈیا کی جانب سے سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کی جاتیں؟

اب حل کیا ہو؟

یہ کوئی مشکل نہیں۔ جس طرح پی ٹی وی پر ماہر اصلاحِ زبان اور چیف اسکرپٹ ایڈیٹر ہوا کرتے تھے اورشاید اب بھی ہوتے ہوں، اسی طرح ہر چینل جہاں دوسرے شعبہ جات میں دل کھول کر خرچے کررہا ہے اسی طرح اصلاح زبان و بیان کےلیے بھی ماہرین کو رکھا جاسکتا ہے۔ ان ماہرین کی تنخواہیں چینلز کے دوسرے اخراجات کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مثل ہوں گی، مگر اردو کی خدمت کے اعتبار سے نہ صرف یہ ایک بہترین کوشش و کاوش ہوگی بلکہ کسی حد تک قومی زبان کا کچھ قرض بھی اتارا جا سکے گا۔

یا پھر زبان و ادب کے ماہرین کی مشاورت سے کوئی اور بہتر لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے میڈیا کو کم از کم اردو کی حد تک تو فیض صاحب کے اس شعر کی عملی تفسیر ہونا چاہیے: