حضرت عمرفاروق ؓ کی نرم دلی

ایک فقیر مدینہ منورہ کی ایک تنگ و تاریک گلی میں فرش پر بیٹھا ہوا تھا‘ اتفاق سے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ اس طرف گزرے اور بے خیالی میں آپؓ کا پاؤں فقیر کے پاؤں پر پڑ گیا‘ فقیر درد سے چلا اٹھا اور ناراض ہو کر بولا ’’اے شخص! کیا تجھے دکھائی نہیں دیتا‘‘ امیر المومنین نے اس شخص پر غصہ کرنے کی بجائے کمال رحم دلی سے جواب دیا ’’بھائی معاف کرنا! میں اندھا تو ہرگز نہیں ہوں البتہ مجھ سے قصور ضرور سرزد ہوا ہے

‘اس کیلئے خدا کے واسطے مجھے معاف کر دو‘‘ .یہ حکایت بیان کرتے ہوئے شیخ سعدیؒ بطور خاص فرماتے ہیں سبحان تیری قدرت! ہمارے اکابرین کا اخلاق کس قدر پاکیزہ تھا کہ مقابلے میں کوئی کمزور ہوتا تو لہجے میں اتنی ہی شفقت اور نرمی آ جاتی تھی.

اس بات سےیہ ثابت بات سےیہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص صحیح معنوں میں عالی مرتبت کہلانے کے لائق ہے اسے غریبوں کا ہمدرد اور غمگسار ہونا چاہیےاس شخص کی مثال تو اس درخت جیسی ہے جس پر جب پھل آنا شروع ہوتے ہیں تو وہ عاجزہو کر زمین کی طرف مزید جھکتا چلا جاتا ہے‘

وہ انسان خوش نصیب ہے جوان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے غریب اور بے نواؤں کی دلجوئی کرتا رہتا ہے تا کہ اگلے جہاں میں جنت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہو سکے جبکہ دوسری طرف متکبر لوگوں کے نصیب میں شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں بچتا

گنز اینڈ روزز
ایوب توانا اپنی نئی ماڈل کی کار میں بیٹھ کر سوچنے لگا،،،بنک میں کیش
بھی بہت ہوتا ہے،،اور کیش وین بھی بڑے صحیح ٹائم پر آتی ہے،،بنک میں
آلارم سسٹم کو اک وائر سے ڈس کنیکٹ کیا جاسکتا ہے،،،

سیکیورٹی گارڈز ان ٹرینڈ لگ رہے تھے،،،ایوب توانا نئی طرز کی ایک بلڈنگ
میں گھس گیا،،،پھرتی سے خالی لفٹ میں گھس کے بارہویں فلور کا بٹن،،،
دبا دیا،،،تھوڑی دیر بعد لفٹ نیچے آگئی،،،
اب ایوب توانا نئے ڈریس اور کلین شیو ہو کے آفندی بن چکا تھا،،،اور لفٹ
میں سے آفندی برآمد ہوا،،آفندی سیدھا ٹیکسی والے کے پاس گیا،،ٹیکسی
کی منزل اب ان کی اسٹیٹ ایجنسی تھی،،،

رانا حیران ہوکر آفندی کی باتیں سن رہا تھا،،،میری کار پہنچا دی وہاں؟،،،رانا
نے اثبات میں سرہلایا،،،
سر کیسے یقین ہے ،،، کہ اگر کچھ ہوا،،،تو اسی بنک میں ہو گا؟؟؟،،،،!!!
آفندی نے راناکو غور سے دیکھا،،،رانا بات سنو،،،!! رانا نے جی کہہ کر ،،،،سارا
دھیان آفندی کی طرف منتقل کردیا،،،

آفندی بولتا چلا گیا،،،رانا،،،ڈی ایس پی بن کر نہیں ڈکیٹ بن کر سوچو،،،کہ
بنک کیسا ہونا چاہیے،،،؟؟،،،! جہاں بہت سا پیسہ با آسانی لوٹا جاسکے،،،!
رانا نے اثبات میں سرہلایا،،،
آفندی نے وکٹوریا سٹریٹ کے تین مقامات کو سرکل کرکے کہا،،،یہاں چار
وہیلر کھڑی ہوں گی،،بنک سے یہاں تک کا سفر بائیک پر ہوگا،،،یہاں کوئی
سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں،،،

ٹریفک کم،،،سگنل نہیں،،ہر طرف گھسنے کے چھ راستے ہیں،،ہر طرف سے
با آسانی موو کیا جاسکتا ہے۔۔
اک ہی پولیس چوکی ہے،،وہ بھی ٹریفک پولیس کی چوکی ہےجنت سمجھو
اس بنک کو ڈاکوؤں کی،،،

رانا کو میجر پر رشک آنے لگا،،،،آفندی کی بیپ بجنےلگی۔۔
کال سننے کے بعد آفندی کے چہرے پر خوشی کی لہرسے چہرہ ٹمٹمانے لگا،،
ہاں،،،تم اس کے پیچھےجاؤ،،ہٹلرسے کہو تمہاری جگہ لے،،بے شک اپنی پوزیشن
کو ڈراپ کردے،،،اوور اینڈ آل،،،!

رانا اسی بنک میں مشکوک آدمی آیا ہے،،،ہمارا ایجنٹ اس کے پیچھے جائے
گا،،،ہو سکتا ہے وہ کسی کاروائی سے پہلے اسےوہاں سے ہٹا دینا چاہتے ہوں،،،
اسی لیے ہٹلر اسے ری پلیس کرے گا،،،
تم اسکی موومنٹ کو اپنے سیل پر لے لو،،،ہاں اس کے آگے پیچھے دیکھتے رہنا
اس کا کوئی پیچھا نہ کررہا ہو،،،یہ چال بھی ہوسکتی ہے،،،!

رانا نے اوکے بول کر سوالیہ انداز میں آفندی کی طرف دیکھناشروع کردیا،،،،!!!
آفندی نے اطمینان سے کہا،،،سوچ رہے ہو مشکوک کیسے لگا،،،اس کی ناک
پر پٹی بندھی ہوئی ہے،،،
راناکے منہ سے،،،،اوہ!!!!!!!! نکلا،،،،ایوب توانا اپنی نئی ماڈل کی کار میں بیٹھ کر سوچنے لگا،،،بنک میں کیش
بھی بہت ہوتا ہے،،اور کیش وین بھی بڑے صحیح ٹائم پر آتی ہے،،بنک میں
آلارم سسٹم کو اک وائر سے ڈس کنیکٹ کیا جاسکتا ہے،،،

سیکیورٹی گارڈز ان ٹرینڈ لگ رہے تھے،،،ایوب توانا نئی طرز کی ایک بلڈنگ
میں گھس گیا،،،پھرتی سے خالی لفٹ میں گھس کے بارہویں فلور کا بٹن،،،
دبا دیا،،،تھوڑی دیر بعد لفٹ نیچے آگئی،،،
اب ایوب توانا نئے ڈریس اور کلین شیو ہو کے آفندی بن چکا تھا،،،اور لفٹ
میں سے آفندی برآمد ہوا،،آفندی سیدھا ٹیکسی والے کے پاس گیا،،ٹیکسی
کی منزل اب ان کی اسٹیٹ ایجنسی تھی،،،

رانا حیران ہوکر آفندی کی باتیں سن رہا تھا،،،میری کار پہنچا دی وہاں؟،،،رانا
نے اثبات میں سرہلایا،،،
سر کیسے یقین ہے ،،، کہ اگر کچھ ہوا،،،تو اسی بنک میں ہو گا؟؟؟،،،،!!!
آفندی نے راناکو غور سے دیکھا،،،رانا بات سنو،،،!! رانا نے جی کہہ کر ،،،،سارا
دھیان آفندی کی طرف منتقل کردیا،،،

آفندی بولتا چلا گیا،،،رانا،،،ڈی ایس پی بن کر نہیں ڈکیٹ بن کر سوچو،،،کہ
بنک کیسا ہونا چاہیے،،،؟؟،،،! جہاں بہت سا پیسہ با آسانی لوٹا جاسکے،،،!
رانا نے اثبات میں سرہلایا،،،
آفندی نے وکٹوریا سٹریٹ کے تین مقامات کو سرکل کرکے کہا،،،یہاں چار
وہیلر کھڑی ہوں گی،،بنک سے یہاں تک کا سفر بائیک پر ہوگا،،،یہاں کوئی
سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں،،،

ٹریفک کم،،،سگنل نہیں،،ہر طرف گھسنے کے چھ راستے ہیں،،ہر طرف سے
با آسانی موو کیا جاسکتا ہے۔۔
اک ہی پولیس چوکی ہے،،وہ بھی ٹریفک پولیس کی چوکی ہےجنت سمجھو
اس بنک کو ڈاکوؤں کی،،،

رانا کو میجر پر رشک آنے لگا،،،،آفندی کی بیپ بجنےلگی۔۔
کال سننے کے بعد آفندی کے چہرے پر خوشی کی لہرسے چہرہ ٹمٹمانے لگا،،
ہاں،،،تم اس کے پیچھےجاؤ،،ہٹلرسے کہو تمہاری جگہ لے،،بے شک اپنی پوزیشن
کو ڈراپ کردے،،،اوور اینڈ آل،،،!

رانا اسی بنک میں مشکوک آدمی آیا ہے،،،ہمارا ایجنٹ اس کے پیچھے جائے
گا،،،ہو سکتا ہے وہ کسی کاروائی سے پہلے اسےوہاں سے ہٹا دینا چاہتے ہوں،،،
اسی لیے ہٹلر اسے ری پلیس کرے گا،،،
تم اسکی موومنٹ کو اپنے سیل پر لے لو،،،ہاں اس کے آگے پیچھے دیکھتے رہنا
اس کا کوئی پیچھا نہ کررہا ہو،،،یہ چال بھی ہوسکتی ہے،،،!

رانا نے اوکے بول کر سوالیہ انداز میں آفندی کی طرف دیکھناشروع کردیا،،،،!!!
آفندی نے اطمینان سے کہا،،،سوچ رہے ہو مشکوک کیسے لگا،،،اس کی ناک

اپنا تبصرہ بھیجیں