’اللہ کے وجود کے بارے میں میرے ذہن میں شکوک و شبہات تھے لیکن پھر مکہ گئی اور وہاں جیسے ہی کعبہ پر پہلی نظر پڑی تو۔۔۔‘ مسلمان خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے ذہن میں خدا کے وجود کے حوالے سے سوالات پائے جاتے ہیں۔ ہزار عقلی دلائل بھی ایسے لوگوں کو قائل نہیں کر پاتے لیکن بعض اوقات صرف ایک روحانی تجربہ ایسا ہوتا ہے کہ دل سے سارے شکوک و شبہات پلک جھپکتے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ روز ایک پاکستانی لڑکی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ parhlo پر کچھ ایسی ہی ایمان افروز کہانی بیان کی ہے۔ آئزہ ارشاد نامی یہ لڑکی لکھتی ہیں ”کعبے کا طواف کرنے والے ہزاروں کے ہجوم کا حصہ بننے سے پہلے میں متذبذب تھی۔ میں نے خود سے پوچھا کہ مجھ جیسی گناہگار کو اس نے یہاں کیونکر بلا لیا؟

میں نے اپنے سامنے سنہری خطاطی پر ایک نظر ڈالی، میں نے دیکھا کہ ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے، ہر کوئی شکر بجا لارہا تھا اور اپنے گناہوں پر استغفار کررہا تھا۔ یہاں کسی کے بھی لہجے میں سختی نہیں تھی، کسی میں بھی خود غرضی نظر نہیں آتی تھی۔ غلطی سے بھی کوئی کسی سے چھوجاتا تو فوری معذرت کرتا۔

اگرچہ میں ان بہت سے لوگوں کی زبان نہیں سمجھتی تھی لیکن پھر بھی مجھے ان کا ہر لفظ سمجھ آرہا تھا۔ وہ سب بھی وہی مانگ رہے تھے جو میں مانگ رہی تھی۔ میں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کعبہ پر رکھے، میرے اردگرد بہت سے مرد اور خواتین سسکیاں بھررہے تھے، ہم میں سے ہر کوئی مختلف زبان میں دعا کررہا تھا لیکن ہم سب ایک جیسے تھے۔

میں نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں اور اس کے وجود کے بارے میں میرے ذہن میں ہمیشہ سوالات رہے تھے، لیکن جب میں نے کعبہ کو چھوا تو اسے محسوس کر لیا۔ اس لمحے میرے ذہن میں موجود تمام سوالات ختم ہوگئے کیونکہ مجھے اس کا وجود یوں محسوس ہوا کہ انکار ممکن ہی نہیں تھا۔“

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

فتنۂ خلق قرآن اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ

ماہِ صفر 212ھ کو مشہور عباسی خلیفہ مامون الرشید کے زمانے میں ایک تاریخ ساز فتنہ ’’ خلق قرآن ‘‘کے نام سے اُٹھا اور قریب تھا کہ وہ ساری اُمت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا اور اسلام کی فروزاں شمعیں بجھنا شروع ہوجاتیں، لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے دین کی خود مدد فرماتے ہیں، اور اس فتنے کے اُٹھنے سے اگر اُمت اس فتنے پر آجاتی تو قرآن مجید ختم ہو جاتا اور دین کا نشان مٹ جاتا اور انسانیت اندھیروں میں ڈوب جاتی ، لیکن اُس وقت ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام تھا ’’احمد بن حنبل‘‘ یہ کو ئی بادشاہ نہیں ہے ، کوئی خلیفۃ المسلمین نہیں ہے ،کوئی سالار ِلشکر نہیں ہے ، کوئی نواب نہیں ہے ، یہ توایک فقیر ہے ، جس کے گھر میں ایک دن پکتا ہے اور ایک دن فاقہ ہے اور اُدھر عباسی قاہر سلطنت ہے اور مامون جیسا جابر حکمران تخت پر ہے اور وہ سب کو مجبور کر رہا ہے کہ کہو: ’’ قرآن مخلوق ہے ‘‘ اس فتنے پر کتنے علماء شہید ہوئے اور کتنوں نے جان بچانے کی خاطر اپنے منہ سے کلمہ کفر کہا اور جان بچاکر نکل گئے اور کتنے ہی روپوش ہوگئے ، میدان میں صرف ایک ساٹھ ساسالہ بوڑھا آدمی ٹک گیا ، جس کو دنیا امام احمد بن حنبلؒ کے نام سے پکارتی ہے ، جس کے علم سے آج بھی کروڑوں انسان نفع اُٹھا رہے ہیں اور اس کے قدموں پر چل کر جنت کی راہیں طے کر رہے ہیں ۔

ایک طرف عباسی سلطنت کا قہر ، اور ایک طرف ایک عالم دین ، ایک گدڑی پوش ، ایک چٹائی پہ بیٹھنے والا ، ایک مصلے پہ بیٹھنے والا ، ایک حدیث کی محفل کو سجانے والا ،ایک طرف تلواروں کی چمک اور تیروں کی سنسناہٹ ، اور چاروں طرف جاہ و جلال ہے ، وہ ٹکراگئے ، لیکن مامون کو کسی نیکی کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے بچالیااور وہ مرگیا ، تاہم اپنے بھائی کو وصیت کرگیا کہ میرے عقیدے پر ہی رہنا ہے اور اسی کا اتباع کرنا ہے،چنانچہ اس نے کہا: ’’ و اتبع ھدی أخیک فی القراٰن……‘‘(یعنی قرآن مجید کے بارے میں اپنے بھائی کے راستے پر چلنا!)

اس کے بعد حکومت معتصم کے ہاتھ میں آگئی وہ جاہل تھا ، معتصم تو عالم بھی تھا ، پر علم کے باوجود بھی ہدایت تو اﷲ ہی دیتا ہے صرف علم نہیں بلکہ اﷲ کا فضل بھی شامل حال ہونا چاہئے لیکن مامون کو پٹڑی سے اتارنے والا یہ فلسفہ اور منطق تھا اس منطق و فلسفہ کی وجہ سے وہ پٹڑی سے اترا ، اور اتنا دور چلا گیا اتنا دور چلا گیا کہ مرتے دم تک اسے واپسی نصیب نہیں ہوئی ۔اوہو ! عجب علم تھا مامون کا ، پر منطق و فلسفہ کی سیاہی نے اسے گم کردیا اور معتصم تو جاہل تھا ، اس نے کہا : ’’ جو مامون کہہ گیا وہ کروں گا ۔

دربار سجایا گیا، امام کو لایا گیا اور جو سامنے مناظر تھا اس کا نام بھی احمد تھا ، احمد بن ابی داؤداور یہ ہیں احمد بن حنبل ،جب مناظرہ شروع ہوا تو سامنے والے مناظر نے کہا : ’’ کان اللّٰہ بدأ القراٰن‘‘ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا : ’’ کان اللّٰہ بدأ العلم ‘‘جب احمد بن ابی داؤد نے یہ سنا تو اس پر سناٹا چھا گیا اور اس نے لاجواب ہوکر کہا : ’’ یہ واجب القتل ہوچکا ہے، یہ امیر المؤمنین کے عقیدے کو نہیں مانتا !‘‘ تو امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا : ’’ معتصم ! اﷲ تعالیٰ کی کتاب اور اپنے ابن عم کی حدیث سے کوئی ایک جملہ مجھے بتادے میں تیرے عقیدے کو مان جاؤں گا ۔‘‘

وہ دیتے تھے عقلی دلائل ،تو اُس نے کہا : ’’ لے جاؤ!…… ‘‘خیر ! دوسرے دن لایا جائے پھر مناظرہ، پھر وہ لاجواب ،تیسرے دن مناظرہ، پھر وہ لاجواب، یہاں تک کہ چو تھا دن آگیا اور امام احمد بن حنبلؒ زنجیروں میں جکڑے ہوئے معتصم کے دربار کی طرف چل رہے ہیں تو آپؒ کے جی میں خیال آگیا کہ: ’’ میں بوڑھا آدمی ہوں، ساٹھ (۶۰)سال کا ،میں کہاں ان کے کوڑے برداشت کر سکتا ہوں؟ میں بھی جاکر کہہ دیتا ہوں کہ جو تم کہتے ہو ٹھیک ہے ، پیچھے میں توبہ کرلوں گا ۔‘‘ یہ ایک خیال آیاتھا ، خیال تو کسی کو بھی آسکتا ہے ، خیال آدمی کے مقام کو نہیں گراتا ۔

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ میں اپنے اسی خیال میں جارہا تھا کہ اچانک ایک شورسا مچا ، میری نظر اٹھی تو ایک لمبا آدمی مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، اس نے کہا : ’’احمد! احمد!احمد……!‘‘میں نے سر اُٹھایا تو اُس نے کہا : ’’أوتعرفنی؟‘‘(جانتے ہو مجھے…… ؟) میں نے کہا: ’’ نہیں ‘‘ اُس نے کہا : ’’أنا أبو الھیثم‘‘( میں ابو الہیثم ہوں، ابوالہیثم !) بغداد کا سب سے بڑا ڈاکو۔ احمد جاؤ ! اور جاکر دیکھوپولیس کے رجسٹر میں! اٹھارہ ہزار (18,000) کوڑے اب تک میں برداشت کر چکا ہوں ، مگر آج تک میں نے یہ غلط کام نہیں چھوڑا ، دیکھو ! حکومت کے کوڑوں کے ڈر سے حق نہ چھوڑ دینا ، ابو الہیثم کے قدم اُکھڑ گئے تو کوئی مسئلہ نہیں ، آپ کے اُکھڑ گئے تو اُمت گمراہ ہوجائے گی ۔

امام احمد بن حنبلؒ پر بیٹھے بیٹھے وجد طاری ہوجاتا تھا تو کہتے : ’’رحم اللّٰہ ابا الھیثم،رحم اللّٰہ اباالھیثم ‘‘(یعنی اﷲ تعالیٰ ابو الہیثم پر رحم کرے!اﷲ تعالیٰ ابو الہیثم پر رحم کرے!) ایک دن بیٹے نے پوچھا : ’’ یہ ابو الہیثم کون ہے؟ ‘‘ تو پھر یہ ساراقصہ ہمارے سامنے آیا کہ وہ کوئی چور ڈاکو مجھے نصیحت کرگیا ۔

معلوم نہیں کہ ابو الہیثم کو اپنا یہ جملہ بعد میں یاد بھی رہا تھا کہ نہیں ، لیکن امام احمد بن حنبل ؒ کو یاد رہا سب ذرا ذرا کہ زندگی کی ایک کٹھن منزل میں کسی کے جملے سے حوصلہ بلند ہوا تھا ۔ مردِ مؤمن کی شان یہی ہوتی ہے ، وہ نیکی فراموش نہیں کرتا ، وہ احسان اور نیکی کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے ۔ امام احمد بن حنبلؒ کو زندگی بھر جب کبھی ماضی کے وہ لمحات یاد آتے تو دعاؤں کے پھول لے کریادوں کے مزار پر نچھاور کر لیتے ؂
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب سرد ہوا چلی میں نے تجھے یاد کیا

بالآخر معتصم نے حکم دیا کہ انہیں قتل کیا جائے اور کہا : ’’ کون ہے جو کوڑے مار کر قتل کرے تاکہ زیادہ سزا ملے ، کیوں کہ گردن کاٹ دینے سے فوراً مر جائیں گے ، عذاب دے کے مارنا چاہتا ہوں ‘‘ تو ایک حبشی نے کہا : ’’ جو میرے دس(۱۰) کوڑے کھالے تو میں اسے مار دیتا ہوں ‘‘ معتصم نے کہا : ’’ تو آ! ‘‘ وہ حبشی کہ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ دس کوڑے ماروں تو بندہ مار دیتا ہوں ، اُس نے امام احمد بن حنبلؒ کی پیٹھ مبارک پر ساٹھ (60) کوڑے مارے جس سے امام صاحبؒ کی بوٹیاں اُڑنے لگ گئیں ، اور غشی طاری ہوگئی ، تو احمد بن ابی داؤد کرسی سے نیچے اُترا ، اورامام صاحب ؒکے کان میں کہنے لگا : ’’ کہہ دے کہ قرآن مخلوق ہے میں تجھے خلیفہ کے عذاب سے بچالوں گا! ‘‘ تو آپؒ نے ایک دم جھر جھری لی اور فرمایا : ’’ کہہ دے کہ یہ قرآن اﷲ کا کلام ہے ، مخلوق نہیں ہے، میں قیامت کے دن تجھے اﷲ کے عذاب سے بچالوں گا ‘‘ ؂
ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمانِ خلیل
ورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن

پھر کوڑے مارے، پھر کوڑے مارے ، یہاں تک کہ امام صاحبؒ کا تہہ بند کھل گیا ، توآپؒ نے اﷲ تعالیٰ سے دعاء کی اور کہا : ’’ اے اﷲ ! میرے ستر کو بچا! ، مجھے ننگا ہونے سے بچا !‘‘ جو ہونٹ ہلے تو معتصم سمجھا کہ شاید میرے لئے بد دعا کر رہے ہیں، اس لئے کہنے لگا : ’’ میرے لئے بد دُعا نہ کرنا ، میرے لئے بد دعا نہ کرنا! ‘‘امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا : ’’معتصم ! تم توآلِ رسول ہو، نبی کی اولاد میں سے ہو، تمہارے لئے میں بد دُعا کر بھی سکتا ہوں؟ امام احمد بن حنبلؒ کا تہہ بند جب کھلا تو آپ ؒ نے اﷲ تعالیٰ سے دعاء کی اور کہا: ’’اے اﷲ ! مجھے ننگا ہونے سے بچا ‘‘ تو چادر وہیں ہوا میں معلق ہوگئی اور نیچے نہیں گری ۔یہ آپ کی ایک بہت بڑی کرامت تھی ؂
اقبالؔ کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
’’رومی‘‘ فنا ہوا ’’حبشی ‘‘کو دوام ہے؟