پھندہ

میرے سامنے ابھی رات کا کھانا رکھا ہی گیا تھا کہ ٹیلی ویژن پر آج کے دن یوم مزورکے حوالے سے خبرچلنی شروع ہوئی ہی تھی کہ جب باہر گلی میں شور کی آواز آئی تو میں لپک کر باہر نکلا آیا۔میر ا گھر جہاں واقع تھا وہاں ہمیشہ امن ہی رہتا تھا کہ سب محبت و پیار سے رہتے تھے۔جوں ہی میں دروازے سے نکلا تو سمیع اﷲ کے گھر کے باہر سے اس کی بیوی یاسیمین کے رونے کی آوازیں آرہی تھی۔ میری طرح اور محلے دار بھی شور کی آواز سن کر سمیع اﷲ کے گھر کے آگے جمع ہوگئے ۔ سمیع اﷲ کی بیوی نے ایک محلے دار خاتون کے پوچھنے پر بتایا کہ اس کے خاوند کو اندر کمرے میں کسی نے قتل کر دیا ہے۔یہ سنتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ میری طرح دوسرے محلے دار بھی پردہ اٹھا کر سمیع اﷲ کے کمرے میں گئے وہاں جا کر ایک دردناک منظر دیکھا کہ کمرے میں سمیع اﷲ کی لاش خون میں لت پت پڑی تھی اس بیدردی اور سفاکانا طریقے سے قتل کیا گیا تھا کہ سرکا ایک حصہ بھی پچکا ہوا سا دکھائی دے رہا تھا۔لاش دروازے کے عین بیچ میں پڑی تھی ۔

میرے سامنے ماضی کے دنوں کی ایک فلم سی چل پڑی تھی۔ جب وہ یہاں رہنے کی خاطر محلے میں آیا تھا۔سمیع اﷲ ایک شادی شدہ شخص تھا اور ایک مقامی ہوٹل میں بطور باورچی کام کر رہا تھا۔اس کی بیوی گھریلو سی خاتون تھی اور اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ایسے شخص کی کسی سے کیا دشمنی ہو سکتی تھی جو کہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اچانک سے کیا ہوا ہے جو اس طرح سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔مجھے شک سا ہونے لگا کہیں کہ پرانی دشمنی کا کوئی عنصر میں شامل نہ ہو۔

میرے لیے حیران کُن بات یہ تھی کہ سمیع اﷲ ایک نہایت شریف النفس، محنتی اور غریب شخص تھا۔ سمیع اﷲ نے پانچ سال پہلے شادی کی اور اس شادی سے اسکا چار سال کا ایک بچہ تھا۔ اور وہ ایک مقامی ہوٹل میں بطورِ باورچی کام کر کے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس غریب اور شریف النفس شخص کا اس طرح بیدردی کے ساتھ قتل ہوجا نا سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کچھ محلے داروں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں فون کر کے واقعہ کی اطلاع کر دی تھی ۔حسب معمول پولیس تاخیر سے ہی پہنچی تھی مگر ایس ایچ او صاحب سے میں واقف تھا کہ وہ نہایت ایماندارشخص تھے وہ گشت پر تھے تو ایک ڈرئیوار ملازم کے ساتھ پہنچ گئے اور باقی اہلکاروں کو پہنچنے کی ہدایت کردی ۔ سمیع اﷲ کی بیوی کے ابتدائی بیان کیمطابق وہ ڈاکٹر کے پاس دوائی لینے گئی تھی اور گھر میں سمیع اﷲ اور اسکا چار سالہ بیٹا شکیل دونوں موجود تھے ، یاسیمین کے مطابق جب وہ کلینک سے دوائی لیکر واپس گھر پہنچی تو کمرے میں سمیع اﷲ کی خون میں لت پت لاش دیکھی اور کمرے کا سامان بھی بکھرا ہوا تھا۔ اور کمرے سے اسکا چار سالہ بچہ شکیل بھی لاپتہ تھا۔ ایس ایچ او صاحب کو حقائق سن کر اور وقوعے کا معانۂ کر کے دل مطمنٰ نہیں ہو رہا تھا کہ بلاوجہ یہ قتل ہوا ہو۔دوسری طرف قتل ہونے والے کے ورثا بھی پہنچ گئے تھے جنہوں نے جلدی تدفین کے لئے اُدھم سا مچا دیا تھا۔

تھوڑی دیر میں تفتیشی اہلکاروں کی ٹیم بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور موقع واردات کا معائنہ شروع ہو گیا۔ گلی میں عوام کا ایک مجمع جمع ہوگیا جو کہ پولیس کے کام میں رکاوٹ کا سبب بن رہا تھا۔ تب ایس ایچ او صاحب نے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں جانے کا حکم دیا ، تاکہ پولیس بلا تعطل اپنی تحقیقات جاری رکھ سکے۔ موقع واردات کا معائنہ جاری تھا ایک طرف تو دوسری طرف سمیع اﷲ کی بیوی یاسمین کے رونے کا شور الگ مصنوعی سا لگ رہا تھا۔ایس ایچ او صاحب نے مقتول کی بیوی کا ابتدائی بیان لیا ۔ مقتول کی بیوی نے بتایا کہ وہ قریبی کلینک میں دوائی لینے گئی تھی اور گھر میں اس کا شوہر اور بچہ موجود تھے۔ جب وہ گھر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ کمرے میں اس کے خاوند کی خون میں لپٹی ہوئی لاش پڑی تھی ، اسکا بچہ بھی غائب تھا۔ رات 2 بجے تک پولیس تحقیقات کرتی رہی۔ جسمیں اہلِ محلہ کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور پھر پولیس جلدہی ایک نتیجے پر پہنچ گئی کہ اس کو خاص وجہ کی بنا پر قتل کیا گیا ہے ۔ مقتولہ کی بیوی سے اس کے ذاتی استعمال کا فون مانگا جس پر مقتولہ کی بیوی نے ایک مضحکہ خیز بیان دیا کہ میرا موبائل آج دن کے وقت گر کر ٹوٹ گیا ہے، پولیس نے مقتولہ کی بیوی کو بھی اُس کی مشکوک حرکات و سکنات کی بنا ء پر زیرِحراست رکھ کر خواتین کے تھانے لے گئے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ۔

ایس ایچ او صاحب نے تفیشی اہلکاروں کو صبح سویرے مقتول کی بیوی یاسمین کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔اسی رات تفتیش کے دوران ہی مقتول کی بیوی سے موبائل فون کہاں پر ہے پوچھا لیا گیا اور وہ برآمد ہوگیا ۔ مقتول کی بیوي نے اس اندوناک اور بیمانہ قتل کی واردات کا پردہ چاک کیا جو کہ اس نے اپنے ایک عاشق کی مدد سے اپنے ہی شوہر کو موت کے گھا ٹ کیسے اتارا۔ مقتول کی بیوی نے اپنے اقبالی بیان میں بتایا کے رات ساڑھے آٹھ بجے اسکا خاوند اپنی نوکری سے اچانک واپس آیا جبکہ وہ روزانہ رات گیارہ بجے واپس آتا تھا ۔یاسمین اُسوقت اپنے کمرے کو مقفل کر کے اپنے عاشق احمد بخش کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔ مقتول نے کمرے کا دروازہ بند پا کر ہی دستک دی تھی اور کچھ دیر بعد دروازہ کھولا گیا ، اور جونہی سمیع اﷲ دروازے سے اندر داخل ہوا تو دروازے کے پچھے چُھپے عاشق احمد بخش نے گیس سلنڈر سے مقتول کے سر پر زور دار وار کیا جس سے مقتول گرا۔ وار اتنا سخت تھا کہ مقتول موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔ پھر مقتول کی بیوی نے اپنا بچہ اپنے عاشق کے حوالے کیا اور اُسے گھر سے باہر نکل جانے کا مشورہ دیا۔ خود کمرے کے سامان کو اُلٹ پلٹ کر کے اس واقعے کو واردات بنانے کی ناکام کوشش کی ، اس کے بعد مقتول کی بیوی ڈاکٹر کے پاس چلی گئی ۔ اور واپسی پر اس نے شور مچا کر محلے والوں کو متوجہ کیا۔

بعدازاں پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اگلے دن قاتل کو بھی گرفتار کر لیا اور بچے کو بھی بازیاب کروا لیا۔ اور پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد لاش اور بچہ اصل وارثان کے حوالے کر دیا۔ بعدازں کیس عدالت میں چلتا رہا۔ جسمیں عدالت نے حقائق و شواہدکو سامنے رکھتے ہوئے، ملزمہ یاسمین کو عمر قید اور مرکزی ملزم کو سزائے موت سنا دی گئی۔ایس ایچ اوصاحب کو بھی اندھے قتل کی تحقیقات پر ترقی دے دی گئی تھی۔ ملزمہ یاسمین نے عدالت میں ہی انکشاف کیا تھا کہ اُس کے والدین نے زبردستی شادی کر ا دی تھی جس کی وجہ سے وہ عاشق احمد بخش کے ساتھ جان بوجھ کر فیس بک کے زریعے دوستی سے روابط میں آئی تھی اور چندسالوں میں ہی یہ گہری محبت میں تعلق بدل گیا تھا۔ چونکہ سمیع اﷲ غریب شخص تھا تو اُس نے بہتر زندگی کی خواہش میں احمد بخش کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے تھے۔اُس نے اسکو بہت سے تحائف بھی دیئے تھے اور وہ گناہ کی دلدل میں بھی پھنس گئے تھے تو اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلق بنا لیں۔اُس نے احمد بخش کے ساتھ مل کر سمیع اﷲ کے لئے پھندہ تیار کیا تھا مگر پانچ سال بعد مرکزی مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔جنہوں نے پھندہ کسی کے لئے تیار کیا تھا وہ خود ہی اس میں آگئے تھے۔

یوں یکم مئی (یومِ مزدور) کے دن مزدور کو قتل کرنے والا قاتل اپنے انجام کو پہنچا اوردوسرا عمرقید میں اپنی سزا بھگتنے لگا۔ جس دن احمد بخش کو پھانسی ہوئی اور مجھے اطلاع ملی تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا’’خس کم جہاں پاک‘‘۔سچ کہا ہے کسی نے کہ برائی کا انجام ہمیشہ بُرا ہی ہوتا ہے۔