‘‘آپ ہیں کیا چیز ‘‘

‘‘ایک ملازم شکیل انجم کام کرتے ہوئے بے ہوش ہو گیا تھا سر ۔‘‘ فیکٹری کے مالک فرہاد ضیا کو ان کے مینیجر ذکوان صدیقی نے اطلاع دی ۔
‘‘اوہ ! اوہ ! ‘‘ کب ہوا ایسا‘‘ ؟ فرہاد ضیا نے پریشانی سے پوچھا۔
‘‘اب سے تقریباََ دو گھنٹے پہلے سر‘‘
‘‘تو اب کہاں ہے وہ؟‘‘ انھوں نے بے قراری سے پوچھا
‘‘اسے فوری ہسپتال بھیج دیا گیا تھا، ابھی ابھی اطلاع آئی ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے۔اس کے گھر والوں کو میں نے فون کر دیا ہے۔ وہ بہت غریب ہے نا سر،اللہ اپنا رحم فرمائے،اسکی تین بیٹیاں ہیں،بیٹا کوئی نہیں ہے ، شکیل اکیلا کمانے والا ہے۔ ابھی کل ہی تو وہ مجھ سے اپنی پریشانی کا ذکر کر رہا تھا۔‘‘
‘‘کیا پریشانی تھی اسے ؟‘‘ انکی بے قراری میں اضافہ ہو نے لگا۔
‘‘ سر وہ لوگ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں نا،مالک مکان اچانک مکان خالی کرنے کا کہہ گیا ہے کہ اسے اشد ضرورت ہے ۔ ادھر شکیل انجم کی نظر میں کوئی کرائے کا مکان بھی نہیں ۔ وہ بہت ڈر رہا ہے کہ اگر اس نے سب کو گھر سے باہر نکال کھڑا کیا تو وہ کہاں جائیں گے ۔ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہیں ہے ۔ شاید یہی پریشانی دل کے دورے کا سبب بنی ہو۔‘‘مینیجر ذکوان صدیقی اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔
‘‘تم نے مجھے پہلےکیوں نہیں بتایا ذکوان؟‘‘ فرہاد ضیا افسردگی سے بولے ۔
‘‘ آپ مصروف تھے سر ،میں مناسب وقت ڈھونڈتا رہا،پھر ایسا نہ ہو سکا تو میں نے سوچا،کل ذکر کر دونگا ۔ آپ نے میرے ذمے یہ کام سونپا ہوا ہے سر کہ ہر ملازم کی ضرورت کا خیال رکھوں ۔ ان کے حالات کی خبر گیری کرتا رہوں ۔اس میں مجھ سے کوتاہی ہوئی،میں شرمندہ ہوں سر۔‘‘
‘خیر چلو میرے ساتھ۔‘ یہ کہہ کر وہ فوراَ ہی کرسی سے اٹھ کر گاڑی کی طرف بڑھے ذکوان صدیقی بھی تیز تیز قدم بڑھاتے ان کے پیچھے چل دیئے ہسپتال پہنچ کر وہ شکیل سے ملے جسے ہوش میں آچکا تھا۔
‘‘اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
‘‘جی پہلے سے کچھ بہتر محسوس کر رہا ہوں سر‘‘
‘‘آپ بے فکر رہیں ، مکان کا انتظام ہو گیا ہے،آج ہی آپ اس مکان مین شفٹ ہو رہے ہیں۔ آپ کا سارا سامان وغیرہ وہاں پہنچ جائے گا اور آپ کو بھی انشاللہ جلد چھٹی مل جائے گی۔اور گھر والوں کی طرف سے بے فکر رہیئے گا، انکی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے گا۔‘‘
‘‘مم!میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں سر؟‘‘
‘‘اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے،آپ بس مطمئن رہیں ‘‘یہ کہہ کر انھوں نے ایک ملازم کو اس کے پاس چھوڑا اور خود فیکٹری کی طرف روانہ ہو گئے۔
شام تک شکیل انجم کا سارا سامان اور گھر والے نئے مکان میں شفٹ ہو چکے تھے ۔ یہ مکان ابھی کچھ دن پہلے ہی انھوں نے کرائے پر دینے کے غرض سے خریدا تھا ۔اسکے علاوہ ان کے اور بھی کئی مکان تھے جو سب کرائے پر چڑھے ہوئے تھے،بہرحال اس مکان میں اب شکیل انجم کے گھر والے شفٹ ہو گئے تھے۔ فرہاد ضیا نے ٢٠ ہزار روپے بھی انھیں بھیج دیئے تھے تاکہ ضرورت کے وقت کام آجائیں ، اور شکیل انجم کو مکمل آرام کا مشورہ بھی دیا تھا،ساتھ ہی یہ اطمینان بھی کرادیا تھا کہ تنخواہ بھی وقت سے پہلے گھر پہنچ جائے گی۔ ادھر انکے مینیجر ذکوان انکی اس بے چینی کو بہت زیادہ محسوس کر رہا تھا۔ وہ فرہاد ضیا کی خدا ترسی اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے اچھی طرح واقف تھے مگر شکیل انجم کے معاملے میں انکی غیر معمولی دلچسپی انکی سمجھ سے بالاتر تھی۔
‘‘فیکٹری کے مالک بہت نیک اور سخی آدمی ہیں۔اللہ پاک انکی زندگی خوشیوں سے بھر دے۔انھوں نے سب کچھ خود ہی کرایا۔مکان بھی دیا اور دوسری جگہ شفٹ ہونے میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ ہونے دی اور پھر ٢٠ ہزار روپے اور بہت سارا سامان بھی گھر بھیجا ہے ۔ دنیا ابھی نیک لوگوں سے خالی نہیں ہے‘‘شکیل انجم کی بیوی ہسپتال میں کہے شکیل انجم سے کہہ رہی تھی۔
شکیل انجم کہیں دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ ‘‘تم ! تم جانتی ہو وہ کون ہے‘‘
‘‘کون ہیں‘‘
‘‘وہ! وہ میرے چچا کا بیٹا ہے،میری چچی تو فرہاد انجم کے بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔میرے چچا فوت ہوئے تو میرے بابا نے اسے جوانی میں گھر سے نکال کر اس کے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسکو گھر سے نکالنے میں سب سے زیادہ ہاتھ میرا تھا اور میں اپنے کئے کی سزا بھگت چکا ہوں بلکہ بھگت رہا ہوں۔وہ اس مقام تک کیسے پہنچا ۔یہ میں نہیں جانتا،ہاں! میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی میرے چچا کا لڑکا ہے جسے ہم نے مار کر گھر سے نکال دیا تھا۔اور پھر کبھی یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی کہ وہ کہاں ہے۔‘‘
‘‘شکر کریں انھوں نے آپ کو پہچانا نہیں!اگر پہچان لیتے تو آپ اتنی اچھی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے اور اتنے اچھے لوگوں سے بھی ،جنہوں نے ہر موقعے پر ہمارا ساتھ دیا۔‘‘
‘‘ہاں! پہچان لیتا تو اپنی فیکٹری میں ملازمت ہی کیوں دیتا اسی وقت دھکے دے کر باہر نکال دیتا۔‘‘

‘‘معاف کیجیئے گا سر میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔‘‘مینیجر ذکوان صدیقی آفس میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔فرہاد ضیا نے اخبار سے نظریں ہٹا کر انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
‘‘ہوں بولو۔‘‘
‘‘میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں سر، آپ ناراض تو نہیں ہونگے۔‘‘
‘‘ہوں پوچھو۔‘‘انھوں نے اخبار ایک طرف رکھ دیا۔
‘‘ میں جانتا ہوں سر کہ آپ غریبوں کی مدد کر نے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔اوروں کی مدد کا جذبہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ھے،مگر شکیل انجم کے معاملے میں آپکی غیر معمولی دلچسپی اور بے قراری سے لگتا ہے کہ آپ کے اور اس کے درمیان کوئی خاص بات ہے۔‘‘
فرہاد ضیا نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا
‘‘سوری سر! آپ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتے، ہر بات کھل کر کرلیتے ہیں،بس اسی لیئے میں پوچھ بیٹھا، جہاں تک میرٰی معلومات ہیں، شکیل انجم سی آپکی کوئی رشتہ داری بھی نہیں ہے اور!اور سر مجھے یاد پڑتا ہے ، چار سال پہلے جب شکیل انجم ملازمت لینے آیا تھا تو آپ اسے دیکھ کر چونکے تھے اور پھر کوائف پورے نہ ہونے کے باوجود آپنے اسے ملازمت دے دی تھی۔اس دن سے آج تک آپ اسکی ضروریات کا خیال اوروں سے زیادہ رکھتے ہیں۔‘‘
فرہاد ضیا کچھ دیر تک خاموشی سے ایک طرف تکتے رہے ۔پھر کچھ دیر بعد انکے لبوں میں جنبش ہوئی۔
‘‘میں نے آج تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا ،یہاں تک کہ اپنی بیوی سے بھی نہیں۔مگر اب میں محسوس کر رہا ہوں کہ میں یہ بات آپکو بتائے بغیر نہیں رہ سکوں گا۔دراصل شکیل میرے چچا کا بیٹا ہے ۔جانتے ہو کس چچا کا؟‘‘ اتنا کہہ کر وہ سانس لینے کے لئے رکے۔
‘‘یاد ماضی عذاب ہے یارب۔‘‘ انکے منہ سے ایک آہ کے ساتھ غیر اختیاری طور پر نکل گیا۔ انکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ کچھ دیر بعد وہ خود کو سنبھالتے ہوئے گویا ہوئے:
‘‘فرہاد میرے چچا کا بیٹا ہے ،جنہوں نے مجھے!مجھے یتیم اور مسکین ہونے کے بعد گھر سے نکال دیا تھا اور مجھے گھر سے نکالنے میں شکیل کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا۔وہ میری موجودگی کسی طور برداشت نہیں کرتا تھا۔ادھر میں اپنے چچا سے ہر اس چیز کی فرمائش کر دیتاتھا جو فرہاد کے لئے آتی تھی۔اس بات سے تنگ آکر انہوں نے مجھے کئی بار گھر سے نکالا،مگر میں کہاں جاتا شام کو پھر گھر آجاتا تھا۔وہ مجھے طعنے دے کر اور میرے دوسرے چچا کی سفارش پر رکھ لیتے تھے۔‘‘
‘‘پھر ایک بار تو انتہا ہو گئی،انھوں نے مجھے بہت مارا اور قسم کھالی کہ اب اس گھر میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ میں بھی بس اس گھر میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔سو میں نکل گیا نا معلوم منزل کی طرف۔ ہاں بگولے میں اڑجانے والے کاغذکی طرح یا کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔‘‘اتنا کہہ کر انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری ۔کچھ دیر تک وہ خاموش رہے ، پھر ایک سمت میں نظریں جمائے کہنے لگے
‘‘قدرت کے کام بہت انوکھے اور عجیب ہوتے ہیں۔ ہماری نا قص عقل انھیں دیکھنے سے قاصر ہے یا یوں کہ لیجئے کہ جہاں ہماری عقل کی انتہا ہوتی ہے، وہاں سے قدرت کے کاموں کی ابتدا ہوتی ہے۔مجھے میرے رب نے اچھا ٹھکانہ بھی دیا،اعلیٰ تعلیم بھی اور بہترین کاروبار بھی۔ مختصراً بتا دیتا ہوں کہ اعلیٰ خاندان کے ایک نیک آدمی کے ہاتھ لگ گیا تھا اور اللہ کی مہربانی سے آج اس مقام پر ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر انہوں نے مینیجر کی طرف دیکھا جو دنیا و ما فیھا سے بے خبر ان کی داستان سننے میں محو تھا۔
‘‘تقریباََ مجھے گھر سے نکالنے کے پانچ سال بعد میرے بڑے چچا فوت ہو گئے۔‘‘
‘‘تو اسکے کچھ عرصے بعد میرے دوسرے چچا نے شکیل اور اسکی والدہ کو بالکل اسی طرح دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔ وہ بھی میری طرح ان کے خلاف کچھ نہ کر سکے۔ پھر انہوں نے بڑی مشکل سے کرائے پر گھر حاصل کیا۔ پھر اس دن سے ان کے گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال دیے ۔ میں یہ سب جانتا ہوں ۔ تھوڑے عرصے بعد میں اس علاقے کا چکر لگا کر حالات معلوم کر لیتا تھا۔ بس بے چینی سی تھی اور اب جہاں تک میرا خیال ہے شکیل یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسے نہیں پہچانا مگر میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا ، کیونکہ اسکے چہرے کے نقوش میرے بابا جان سے ملتے ہیں ۔ بس یہ ہے کل کہانی۔‘‘
یہاں تک کہہ کر انھوں نے مینیجر کی طرف دیکھااور بھر پور انداز میں مسکرا دیےاور ادھر مینیجر حیرت سے منہ کھولے فرہاد ضیا کو تک رہا تھا جیسے کہنا چا رہا ہو
‘‘آپ ہیں کیا چیز‘‘