یہ سب میری ماں کی دعا ہے

جوہرچوک سے رکشہ پر کلفٹن جانے کا اتفاق ہوا، رکشہ والے نے گاڑی کے شیشہ پر “یہ سب میری ماں کی دعا ہے” کا اسٹیکر آویزاں کررکھا تھا. دیکھ کر ہنسی آئی، پھر اس سے پوچھا کہ رکشہ چلانے کو اپنی والدہ کی دعا قرار دے رہے ہو، کیا یہ اتنی بڑی فضیلت ہے؟رکشہ والا مسکرا کربتانے لگا کہ صاحب میرا تعلق مظفر گڑھ سے ہے، والدکا حادثے میں انتقال ہوگیا تو سگے تایا نے مکان جائیداد پر قبضہ کرکے والدہ اور ہم چھے بہن بھائیوں کو گھر سےنکال دیا.

ماں ہمیں اپنے بھائی کے پاس لے کر کراچی آگئی، چند دن بعد بیگم کے کہنے پر ماموں نے بھی معذرت کرلی تو ساتھ والے محلے میں بیٹھک کرائے پر لے کر والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا اور رات گئے تک سلائی مشین پر محلے والوں کے محلے والوں کے کپڑے سینا شروع کردئے، تعلیم کا تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لئے چھوٹی عمر سے سبزی منڈی جانا شروع کردیا، سبزی اور پھلوں کی لوڈنگ انلوڈنگ کرواتے اور ٹوکری پر پھل فروٹ بیچتے نوجوان ہوئے،

پھر کنڈیکٹری شروع کردی، اس فیلڈ میں استادوں اور ڈرائیوروں کی مار کھاتے کھاتےجوان ہوئے اور پھر کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا، پیسے اکٹھے کئے، کمیٹی ڈالی، پھر قسطوں پر اپنا رکشہ لیا، اس کی قسطیں ختم ہوئیں تو دو رکشے قسطوں پر لئے اور بھائیوں کو بھی سبزی منڈی سے ہٹاکر ساتھ لگالیا. تینوں بھائی مل کر کماتے رہے، والدہ سے سلائی مشین چھڑوائی، چھوٹے بھائی کو پڑھاتے رہے، کہ جو ہم نہیں بن پائے ، اسے بنادیں،بھائی نے ایم بی اے کیا، اسے بینک میں نوکری مل گئی،

اس نے جس ماہ بینک سے گاڑی لیز کروائی، اسی ماہ اپنی کولیگ سے شادی کی اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، اب کبھی کبھار آتا ہے. ہم تین بھائی رکشہ چلاتے ہیں، دوبہنوں کی شادیاں کردی ہیں. میرے تین رکشے مزید ہیں، جو کرائے پر دے رکھے ہیں، سرجانی ٹاون میں گزشتہ برس اپنا چھوٹا سا گھر بنایا ہے، والدہ نے اپنی پسند

سے میری شادی کردی ہے. ہم سب اکٹھے رہتے ہیں، اب ہم تینوں بھائیوں نے ایک پلاٹ تاڑرکھا ہے، اسے خرید کر اس پر ایک اورگھر بناکر اگلے دوسالوں تک دوسرے بھائی کی شادی کرنے کا سوچ رکھا ہے. چونکہ والدہ ساتھ رہتی ہیں اور ان کی دعائیں ساتھ ہیں تو امید ہے کہ اگلے دوسال میں چھوٹے بھائی کا گھر اور اسکی شادی دونوں ہوجائینگی.

یہ سب ماں کی دعا نہ سمجھوں تو کیا ہے.باقی کا سفر خاموشی میں کٹا اور میں سوچتا رہا کہ مجھے اپنی والدہ کی دعا کے باعث جتنا زیادہ اللہ پاک نے بنا محنت کے دے دیا، اس سے کہیں کم کسی کو ان تھک محنت کے بعد حاصل ہوا. اپنے ناشکرے پن پر ہزاربار توبہ استغفار کی.آپ سے بھی گزارش ہے کہ کسی کی حیثیت کا مذاق مت اڑائیں، کیا پتا ، اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بھی اپنی ہڈیاں گلادی ہوں

لوچستان میں دہشت گردی اور سیاسی بحران
بلوچستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جو شروع ہی سے سیاسی بحرانوں کے ساتھ ساتھ امن و امان ،لاقانونیت اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے اس صوبہ میں سیاسی بحران اور دہشت گردی کے واقعات ساتھ ساتھ چلتے ہیں گزشتہ دنوں نواب ثناء اﷲ زہری نے اپنی وزارت اعلی سے جیسے ہی مستعفی ہونے کا اعلان

کیاتو کوئٹہ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوگیا بلوچستان اسمبلی کے قریب زرغون روڈ پر خودکش حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت10افراد شہید،25زخمی،خود کش حملہ آور نے موٹر سائیکل بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک سے ٹکرائی، مسافر بس سمیت کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا،دھماکے کی شدت سے صوبائی

اسمبلی سمیت ارد گرد کی عمارتیں لرز اٹھیں ،نوجنوری کی شام کوئٹہ اس وقت دھماکے سے لرز اٹھا جب صوبائی اسمبلی کے ارکان وزیر اعلیٰ کے استعفے کے بعد اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد گھروں کو واپس جا رہے تھے اس دوران اسمبلی کی عمارت سے 300میٹر کے فاصلے پر زرغون روڈ پر جی پی او چوک میں

زوردار دھماکہ ہوا جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیاخود کش دھماکے میں 5پولیس اہلکار موقع پر شہید جبکہ 25سے زائد زخمی ہوئے ،زخمیوں میں 9پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں مزید 3پولیس اہلکار اور دو افراد دم توڑ گئے اور ہلاکتوں کی تعداد10ہو گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ارد گرد دفاتر اور پریس کلب کوئٹہ کے عمارتیں لرز اٹھے اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے دھماکے کی زد میں آکر ایک مسافر بس سمیت کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچازخمیوں

میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں واقعہ کے فوری بعد پو لیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔وی آئی پی موومنٹ کے باعث متعدد سڑکیں اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہی بند کر دی گئی تھیں اور 6 ہزار سکیورٹی اہلکار شہر میں سکیورٹی امور سرانجام دے رہے تھے
سکیورٹی فورسز کے ٹرک میں 25کے قریب اہلکار سوار تھے جو اسمبلی کی سکیورٹی پر تعینات تھے اجلاس ختم ہونے کے بعد اہلکار ٹرک میں راستے کی سکیورٹی

پر مامور تھے کہ دہشتگردی کا نشانہ بن گئے اور شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خودکش تھا جس کے دوران موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے اپنی موٹر موٹر سائیکل پولیس ٹرک سے ٹکرا دی۔تحقیقات کے مطابق بظاہر حملہ آور بلوچستان اسمبلی کی جانب بڑھ رہا تھا تاہم سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث اسے جہاں موقع ملا اس نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

اب ہم بلوچستان میں سیاسی بحران کی جان بڑھتے ہیں 1970 میں بلوچستان ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بحیثیت صوبہ وجود میں آیا اور 1972 میں پہلی صوبائی اسمبلی تشکیل دی گئی اور اس وقت سے لے کر آج تک تین بار وزرائے اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے۔ان وزرائے اعلی میں میر تاج محمد جمالی

مرحوم، سردار اختر جان مینگل اور موجودہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اﷲ خان زہری شامل ہیں۔میر تاج محمدجمالی اور سردار اختر جان مینگل کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع ہوئی تو وہ فوری طور پر وزارت اعلی مستعفی ہوگئے۔سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اﷲ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد 14 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ دو جنوری کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تھی اور9جنوری کوووٹنگ ہونا تھی ۔اس تحریک عدم اعتماد پر ایک آزاد رکن اسمبلی کے

علاوہ جن جماعتوں کے اراکین کے دستخط تھے ان میں ق لیگ، جمعیت العلمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔اگرچہ تحریک عدم اعتماد پر وزیر اعلی کی اپنی جماعت اور مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت ن لیگ کے اراکین کے دستخط نہیں تھے

تاہم تحریک جمع ہونے کے بعد وزیراعلی زہری کی کابینہ کے چھ ارکان مستعفی ہو گئے تھے۔کابینہ چھوڑنے والوں میں سے پانچ کا تعلق ن لیگ جبکہ ایک کا تعلق ق لیگ سے تھانواب ثنا اﷲ زہری کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی آٹھ جنوری کو کوئٹہ آئے پہنچے تاہم ن لیگ کے منحرف اراکین

نے ان کی سربراہی میں ہونے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی موجودہ سیاسی بحران کا ڈراپ سین تحریک عدم اعتماد سے کچھ دیر قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان ی کے استعفے سے ہوا ہے ، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے ۔ثناء اﷲ زہری کے استعفے کے بعد تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کیلئے طلب کیا اجلاس غیر موثر ہو گیا جبکہ صوبائی کابینہ بھی خود بخود تحلیل ہو گئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں