مختصر سی ملاقات

اسکول کی پڑھائی ختم ہونے کے بعدنہ صرف کافی قریبی دوستوں سے تعلق ٹوٹاَ-بلکہ روز مرّہ کی مصروفیات میں بھی تبدیلیاں آ نا شروع ہوگئیں-زندگی آگے بڑھتی گئی-کالج کا زمانہ شروع ہوا-کچھ نئےدوست بنے، کچھ پرانے دوستوں سے میں نے تعلق توڑا، تو کچھ دوستوں نے مجھ سے-انسان جب لڑکپن اور نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو گویا اُسے یہ گماں ہوتا ہےجو دوست واحباب،عزیزواقارب اسکے ساتھ موجود ہیں وہ ہمیشہ اسکا ہاتھ یونہی تھامے رکھیں گے-جو کہ درحقیقت ایک خواب سے زیا دہ کچھ نہیں ہوتا، جو وقت کے بہا ؤ، زندگی کے اتار چڑھاؤ،اور ذاتی مفادات کی آڑمیں ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا ہے-ایسے ہی کچھ ٹوٹے ہوۓ خوابوں کے ساتھ میری زندگی کا وقت بھی گزرتا گیا-یونیورسٹی کے تین سال کب، کہاں اور کیسے گزرگئے پتہ ہی نہ چلا- وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے-بارش کی ننھی منھی بوندوں نے موسم کو بہت خوشگوار بنادیا تھا-ہربرستی بوند کے ساتھ سڑکیں مزید صاف وشفاف اورخوبصورت ہوتی چلی جارہی تھیں- صبح سے شام تک مسلسل کلاسیں لینے کی بدولت کافی تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی- پیاس کی شدّت جب انتہا کو پہنچی تو نزدیک ہی میں واقع ایک مشروبات والے کی دکان پہ نہ چاہتے ہوئے بھی رکنا پڑا-اگلے ہی لمحے شربت والے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، صاحب چھوٹا گلاس یا بڑا گلاس، جسکے جواب میں میری اُنگلی بڑے گلاس کی جانب اُٹھ گئی- اور کچھ ہی لمحوں میں شربت سے بھرا ہوا گلاس دوکاندار نے میرے ہاتھوں میں تھمادیا-جسے جلد ہی میں نے ہونٹوں سے لگالیا- اسی دوران میری نگاہ قریب ہی کھڑے ایک بزرگ پر پڑی جنھوں نے سفید رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا-لباس پر کئی جگہہ پیوند لگے ہوےتھے مگر صاف و شفاف تھا-دائیں ہاتھ میں لا ٹھی تھی جو جھکی ہوئی کمر کو مزید جھکانےسے بچانے اور جسم کو سہارادینے کیلئے پکڑی ہوئی تھی- چہرے پر عیاں جھرّیاں اور ماتھے پہ گرتے ہوۓ سفید بال ضعیف ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھے- ایک ہلکی سی مسکراہٹ کےساتھ وہ ٹکٹکی باندے نہ جانے کب سے میری جانب دیکھ رہے تھے- برداشت اپنی انتہا کو پہنچی تومجھ سے رہا نہ گیا اور آخر کار ان کے مسکرانے کا سبب پوچھ ہی بیٹھا- اُس بوڑھے شخص نے کچھ لمحے میری جانب خاموشی سے دیکھا- یکا یک اسکی زُبان حرکت میں آئی- لفظوں کا جو سمندرڈھلتی عمر کے ساتھ اور تجربات کی بوند بوند سے اُسکے اندر وجود میں آیا تھا،اس میں ایک لہر سی اُٹھی اور وہ پہلا لفظ جو اسکی زبان سے ادا ہوا “جوانی” کا تھا-کہنے کو تو محض پانچ حروف سے بننے والا یہ لفظ “جوانی” جسکی ادائیگی میں چند لمحے درکار ہوتے ہیں- جب اسکی زبان سے ادا ہوا توگویا یوں محسوس ہوا ان چند حُروفوں کے بندھن میں اک درد تھا، جو اسکی پوری زندگی کی عکّاسی کر رہا تھا- وہ میرے ذاتی حصار کو توڑ کر اب میرےاور قریب آچکا تھا- اسکا داہنہ ہاتھ لاٹھی پہ اور باہنہ میرے کندھے پہ تھا- جوک درجوک الفاظ اسکی زبان سے ادا ہوتے گئے- اور الفاظوں کی اِک کڑی سی بنتی گئی- اسنے کہنا شروع کیا، بیٹا! اس جوانی میں مزا ہے، مستی ہے،جوش ہے، جذبہ ہے، ولولہ ہے، شباب ہے، وقت ہے، طاقت ہے، خوبصورتی ہے، صحت ہے، حوصلہ ہے، اُمّید ہے،حسرت ہے، اَنا ہے، تکبُّر ہے، کامیابیاں ہیں، بناوٹ ہے، دکھاوا ہے، دولت ہے، اور اللہ کی دی ہوئی لاتعداد نعمتیں ہیں- لیکن ان نعمتوں کا حصول ہمیں اس بات سے غا فل کردیتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے- اور جوانی کا زوال بڑھاپا ہے- وہ بڑھاپا جسکی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی کالے سیاہ بال سفید رنگ میں تبدیل ہوکر مرجھاجاتے ہیں- جوانی میں تکبر سے اٹھنے والے قدم بوڑھاپے میں لاٹھی کے محتاج ہوجاتے ہیں- آسمان سے باتیں کرنے والی نظروں کو جھکی ہوئی کمر زمین پر دیکھنے پہ مجبور کردیتی ہے- دنیا کے خوبصورت نظارے دیکھنے والی آنکھوں کی بینائی عینک کی محتاج ہوجاتی ہے- اپنی بڑائی اور تعریف میں اٹھنے والے ہاتھ کمزوری کے با عث اُٹھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں یا سہارا لینے کیلئے کسی دوسرے ہاتھ کے منتظر ہوتے ہیں-کانپتے ہوئے قدم اگر اٹھتے بھی ہیں تو مسجد کی جانب- میرا شمار بھی اُن بدنصیبون میں ہوتا ہے جو جوانی کی رنگینیوں میں اتنا کھو جاتے ہیں کے موت کو افسانہ سمجھ بیٹھتے ہیں- میرے بچے میں نے اپنی جوانی کو دنیا کی رنگینیوں میں ضا یع کردیا- اسکی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو اسکے پچھتاوے کو ظا ہر کر رہے تھے اسکے اندر کا توفان اسکے الفاظوں کے اختتام پذیر ہوتے ہی تھم چکا تھا- پر اک طوفان تھا جو چند آ نسوؤں کےساتھ میرے اندر جاری ہوچکا تھا- جوانی کے نشے میں گزارے گئے کچھ اوقات اب اک بھیڑئیے کی شکل اختیار کرے مجھے کھا نے کو دوڑ رہےتھے- دوستوں وقت کو روکنا انسان کے اختیار میں نہیں لیکن گزرتے ہوئے وقت کو مستقبل کیلئے خوبصورت بنانا انسان کے اختیار میں ضرور ہے- اپنے وقت کی اہمیت کو سمجھئے تا کے زندگی میں پچھتاوے کا منہ نہ دیکھنا پڑے –

اپنا تبصرہ بھیجیں