کیا آپ نے کبھی خواب میں گاڑی چلائی ہے تو اسکی تعبیر بھی جان لیجئے ،عنقریب آپ وہ کام کرنے جارہے ہیں جو ۔۔۔

خوابوں میں گاڑیاں دیکھنا بھی بہت عام سا خواب ہے.لیکن اسکے مطالب و دلائل کئی طرح کے ہیں.

مثلاً ایسے شخص کو بزرگی مل سکتی ہے،اسکی ہیبت میں اضافہ ہوگا تاہم اسکا انحصار گاڑی کی اپنی حالت پر موقوف ہے.خواب میں دیکھے کہ اس کے آس پاس بہت سی گاڑیاں ہیں تو ایسا انسان بااثر اور معزز لوگوں کے حلقے میں شامل ہوگا . کوئی دیکھتا ہے کہ وہ گاڑی میں بیٹھااور تیز چلا رہا ہے تو اسے عزت ملے گی ،

دیکھے کہ گاڑی چلا رہا تھا اور پھر ریورس کررہا ہے تو ایسے انسان کی لٹی ہوئی عزت واپس ملے گی.عموماً ایسے لوگ جھوٹی تہمتوں سے پریشان کئے جاتے ہیں اور بعد میں سرخرو ہوتے ہیں.دیکھتا ہے کہ گاڑی پرانی ہے اور آہستہ چل رہی ہے.توایسا انسان زندگی میں بہت حساس ہوتا ہے جسے اپنی انا کو سنبھالنے میں دقت

ہوتی ہے.دیکھتا ہے کہ گاڑی چلا رہا ہے اپنے ساتھ بیٹھے کسی دوست یا عزیز کو گاڑی سے اتاردیتا ہے تو زندگی میں کسی اہم ساتھی کے چھوٹ جانے کی علامت ہے جو خواب دیکھنے والے کے ہاتھوں رنج اٹھا ئے گا. خواب میں نئی گاڑی خریدنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا انسان چاہتا ہے کہ ایسے کام کرے جس سے اسکو عزت بھی ملے اور خوشحالی بھی.

اگر ایسی گاڑی بیٹھا ہے جس کے ٹائر نہیں ہیں تو یہ رنج و سختی اور بیماری کی علامت ہے. اگر کوئی دیکھ لے کسی صاحب ثروت نے اسے گاڑی دی ہے تو اسکا رتبہ بڑے گا. گاڑی میں بیٹھا ہے اور سٹارٹ نہیں ہورہی تو اسکی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایسا انسان خواہش کے باوجود اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوپائے گا .وہ کسی حد تک غیر ذمہ دار ہوتا ہے.

حکومت…… ……خاموش تماشائی
سالانہ دولاکھ سے زائدبچے موت کے منہ میں جارہے تھے یعنی 40فیصدبچوں کی اموات واقع ہورہی تھی اوربچے بھی وہ جن کی عمر5سال سے کم تھی، 24اضلاع میں موجود2ہزاردیہات سے حاصل کئے گئے پانی کے نمونوں میں سے 82فیصدنمونے آلودہ ملے،حتی کہ چیف جسٹس کے چیمبرسے لئے گئے پانی کے نمونے بھی حکومت

کامنہ چڑارہے تھے ، پاکستان کی 80فیصدعوام مضرصحت پانی حلقوں میں انڈیلنے پرمجبورتھی، پی سی ایس آئی آر کے مطابق تقریباً80فیصدبیماریاں آلودہ پانی سے جنم لیتی رہیں ، پانی میں کیمیکل ، بیکٹیریا، فاسفورس اورکیلشیئم وغیرہ کے نمکیات وافرمقدارمیں پائے گئے ، ڈسٹری بیوشن لائنز کاگزرگندی نالیوں سے ہوتارہا، پائپ لائنوں

میں جگہ جگہ سوراخ یالیکجزکے ثبوت فراہم کیے گئے ، آلودہ پانی نے ہیپاٹائٹس ، ٹائیفائیڈ، ڈائریا، گیسٹر، ذیابیطس، جلدی اورگردے ودل کے امراض ،پیدائشی نقائص،پیٹ اورگلے کی بیماریاں حتی کہ کینسرجیسے موذی امراض معاشرے میں بانٹے،1.2ارب روپے کی لاگت سے بننے والی پی سی آرڈبلیو آر لیبارٹری فنڈزکی عدم فراہمی کی

وجہ سے اپناکام انجام نہ دے سکی، وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی کے بیان نے بھی حکومت کوجھنجھوڑااوربتایاکہ پاکستان مضرصحت پانی پینے سے موت کی وادی میں اتررہاہے مگرحکومت خاموش تماشائی بنی موت کایہ کھیل دیکھتی رہی ۔

پاکستانیوں کوسفیدزہرپلایاجارہاتھا، دودھ کے نام پرڈیٹرجنٹ پاؤڈر، پانی کے ساتھ ساتھ سینتھک ملک، فارملین ، یوریا، سوڈیم کلورائیڈ، ہائیڈروجن ، پیراآکسائیڈ، پنسلین، بال صفاپاؤڈر، ایمونیم سلفیٹ، لاشوں کوحنوط کرنے والاکیمیکل اوردیگرزہریلے کیمیکلز کوعوام کی غذابنایاجاتارہا، فوڈاتھارٹی کی کارروائیوں کے نتیجے میں دوکانداروں

اورفیکٹری مالکان کوبھاری جرمانے بھی ہوئے مگرکارپوریشن کے انسدادی عملے کی ملی بھگت سے زہربیچنے کایہ کام ہنوزجاری تھا، دودھ میں 50فیصدتک اضافہ کے لئے بھینسوں کوآکسی ٹوسین اوربوائن جیسے ہارمون انجکیشنزلگائے جاتے رہے حالانکہ اگر یہ انجیکشن ملائشیامیں لگائے جاتے توپھانسی ایسے لوگوں کامقدرہوتی مگریہ

توپاکستان تھا،اس لئے سب کچھ چلتارہا، پروان چڑھتی نسل کی ہڈیوں کوکمزورکیاجارہاتھا، دودھ کوذخیرہ کرنے کے لئے تیزاب اورخطرناک کیمیکل کے ڈرموں کااستعمال ہورہاتھا، یہ سب کچھ لاہورجیسے شہرمیں بھی جاری تھامگر حکومت کے لب سلے رہے ، ہاتھ بندھے رہے اوروہ یہ تماشہ ہوتے سرعام دیکھتی رہی ۔

سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتالیں عروج پرتھیں ،ڈاکٹروں نے تنخواہ حکومت سے لینی اورکمانااپنے پرائیویٹ کلینک میں ہوتا،انہی ڈاکٹروں اورہسپتالوں کے عملے کی مہربانی سے بچے سڑکوں پرپیداہورہے تھے ، بڑے اکیس اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی سکین کی مشینیں موجودہی نہیں ،جن میں غلطی سے موجودہیں ان کی حالت

بیان سے باہرہے، سب سے بڑے سرکاری میو ہسپتال کی 31اسی طرح بالترتیب سروسزہسپتال کی 29، جنرل ہسپتال کی 30، گنگارام ہسپتال کی 27، چلڈرن ہسپتال کی 21اورجناح ہسپتال کی 25 مشینیں ناکارہ پڑی تھیں ۔کہنے والے نے تویہاں تک کہہ دیاکہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف مرنے کاہی انتظارکیاجاتاہے ، سابق وزیراعظم

نوازشریف ان ہسپتالوں کی حالت سنوارنے کی بجائے مزید50 نئی موت کی انتظارگاہیں قائم کرنے کاعندیہ دے چکے تھے ، ہسپتالوں کی کسمپرسی اورناگفتہ بہ حالت خودہی نوحہ کناں تھی مگرحکومت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے محوتماشہ تھی ۔

سرکاری سکولوں کوجاری ہونے والی 27کروڑروپے کی گرانٹ سکولوں تک نہ پہنچ پائی ، معصوم بچے کھلی چھت تلے ، خستہ حال دیواروں کے سائے میں ، بغیرپانی کے ، دھول مٹی میں اٹے زمین پربیٹھے ، بغیراستادوں کے تعلیم حاصل کرنے میں مگن ہیں ، نہ فرنیچرنہ واش رومز، نہ صفائی کااہتمام اورنہ ہی معیار تعلیم ،

سرکاری سکولوں کانصاب ، طریقہ تدریس اورانفراسٹرکچر مکمل طورپرتباہ ہوچکاتھا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے 2کروڑ26لاکھ بچے سکولوں سے باہرنظرآتے رہے، 70فیصدبچے میٹرک سے قبل ہی تعلیم کوخیربادکہنے پرمجبورہوئے،پرائیویٹ سکولوں اوراکیڈمیوں کی بھرماراورلوٹ مارعروج پرتھی، لاہورکے 1240سرکاری تعلیمی اداروں

سمیت پنجاب بھرکے 52ہزارسے زائدسرکاری سکولوں میں حاضری کوسوفیصدیقینی بنانے کے لئے ڈراپ آؤٹ سسٹم جاری تھامگرحکومت دیدے پھاڑے نظارہ کرنے میں منہمک رہی ۔

قبضہ مافیانے افادہ عام کے لئے چھوڑی ہوئی جگہوں پرغیرقانونی پلازے تعمیرکئے، شادی ہال بناکرلاکھوں کمائے، تجاوزات نے لوگوں کے راستے روکے ، لاہورہی کے 164شادی ہال غیرقانونی قرارپائے ، 25سے 30سال سے چلنے والے غیرقانونی شادی ہالوں پرکسی کوبھی ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوئی، سب کچھ حکومت کی ناک تلے

ہوتارہامگرحکومت خاموش ، سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھ پائی،سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجودبھی کچھ نہ کرپائی،ہاں اگرکچھ کیاتوان عدالتوں اورججزپرتنقیدجواس سلسلے کوروکنے کے لئے بڑھے، جوعوام کی زبوں حالی دیکھ نہ پائے ، جنہیں اس ملک کی عوام کادردمحسوس ہوا ۔ان بے دردیوں پرسپریم کورٹ

کوازخودہی نوٹس لیناپڑا، اسے خودہی اس ملک میں پائی جانے والی خامیوں کودورکرنے کابیڑااٹھاناپڑا، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارحکومت کویوں تماشہ دیکھتے ہوئے پھرکیوں نہ کہتے کہ اگرحکومت نے صحت وتعلیم اوردیگرعوامی مسائل کوحل نہ کیاتوپھراورنج ٹرین منصوبہ ٹھپ کردیاجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں