مرد کو کیسا ہونا چاہیے ؟عورت کو کس طرح کی اخلاقیات کے مالک مرد پسند ہیں ؟یہ تحریر ہر مرد و عورت کو ضرور پڑھنی چاہیے

مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہئیے..پتا ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں..ایسے جو رعب والے ہوں..تھوڑے سے سڑیل..تھوڑے سے گھمنڈی..تھوڑے سے مغرورپتہ ہے کیوں..؟؟کیوں کہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے..دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے..ہر جگہ ہر کسی سے اظہار محبت کرنے نہیں بیٹھ جاتے. ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں..اور جانتے ہو میں کیا چاہتی ہوں..میں ایسے مرد کی دلہن بن کر اپنا پوراوجود اسے سونپ دوں..میں اس کی اطاعت کو ہی جز ایمان بنا لوں..اس کو سر آ نکھوں پر بیٹھاؤں.کبھی بھی اسکی تزلیل نہ ہونے دوں..!!!!!!تعلیم کا یہ مطلب تو نہیں کہ مرد سے برابری کرنے لگ جاؤں علم تو عاجزی سکھاتی ہے..شیطان نے بھی تو برابری کی تھی..کیا مقام ملا..کیا مقرب خدا ہوا..اور برابر ہو کر کرنا بھی کیا ہے..خود کو مزید مشینوں کے سپرد کرمشینوں کے سپرد کر دینا..رشتوں کی قیمت پر..اور مزید غیر محسوس ذمہ داریوں میں جکڑ کر مرد کو آذاد چھوڑ دینا.

میں تو چاہتی ہوں…ایسی زندگی ہو..جہاں برابری نہیں محبت پنپتی ہو..قوس و قزح بھی سات رنگوں میں اچھا لگتا ہے پتہ ہے کیوں..کیوں کہ وہاں برابری کی بات نہیں آتی..ہر رنگ دوسرے سے الگ مگر منفرد..سوچو سات ایک ہی قسم کے رنگ ہوں تو کبھی اچھا لگے گا کیا وہ.اور دیکھو سات الگ رنگ مل کر ایک خوبصورت منظر تخلیق کر دیتے ہیں..ہم بھی شادی کرکے الگ انسان سے جڑتے ہیں..جس کی عادتیں..ہم سے الگ..لائف

سٹائل ہم سے الگ..نظریات ہم سے الگ..پسند ناپسند الگ.اور.سوچ الگ..مگر صرف ایک دو چیزیں کامن ہونے سے یہ زندگی بھی قوس و قزح کے رنگوں کی طرح ایک خوبصورت زندگی کو تخلیق کرتی ہے. .اور وہ چیزیں ہیں..تسلیم..صبر..شکر..محبت اور احساس..سو جہاں لگے رشتے کمزور ہورہے ہیں وہاں کمزور ہوجاؤ…!!!وہاں انا کے بندھن سے نکل آؤ…وہاں جھک جاؤ.وہاں ابلیس بنو گے تو سب کھو دو گے..قرب…منزل اور.محبت بے شک تم جیت ہی کیوں نہ جاؤ….!!!!!یہ جو آج کل برابری کا نعرہ لگ رہا ہے نا…تو اس برابری میں مرد بھی آگے آگیا ہے..!!!!وہ بھی محبت ضرورت کی طرح کرتا ہے..وہ بھی سوشل سرکل کے

نام پر من مانیاں کرتا پھرتا ہے..اسے بھی دروازے پر انتظار کرنے والی بیوی نہیں ملتی…اور نہ ہی اسے چاہئیے..اور ہونے والے بچے احساسات سے عاری…دل محبت سے آزاد..اور دونوں ایک خول چڑھا کر دن رات..آئی لو یو اور مس یو..بس یہ ہے آج کل کی محبت…جانتے ہو آج کل محبت دل سے نہیں دماغ سے کی جاتی
ہے..محبت کو پہلے پلان کرکے کاغذ پر اتارا جاتا ہے.سکرپٹ لکھ دی جاتی ہے..لیکن

غذاؤں میں ملاوٹ کرنے والے عناصرکے خلاف عدالت کوہی میدان میں کودناپڑا، حکومت بولی توہے مگرعدلیہ کے خلاف، عدلیہ اورججزکوکڑی تنقیدکانشانہ بنایاجارہاہے ،ان پرطعن وتشنیع کے تیربرسائے جارہے ہیں ۔ تماش بین حکومت اب تماشہ دکھانااورلگاناچاہتی ہے مگروہ نہیں جانتی کہ جس ملک کی عدلیہ خودمختارہووہ ملک حکومت

کے ہاتھوں کبھی بھی بربادنہیں ہواکرتا ۔ حکومت کے جھوٹے دعووں کاتسلسل کبھی ٹوٹاہے اورنہ ہی ٹوٹے گا،عملی اقدامات اٹھانا گویا حکومت کی شان کے خلاف ہو، اب عوام کی نظریں اسی عدلیہ کی جانب ہیں جس کے فیصلوں کوحکومتی سربراہان ردی کی ٹوکری میں پھینکنے چلے ہیں ۔یہ تووقت ہی بتائے گاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے ۔

محبت صفحوں پر تو اترتی ہے مگر دل میں نہیں اتر پاتی..کیونکہ محبت بے ساختہ جذبہ ہے..اس کی خوبصورتی ہے بے ساختگی ہے…محبت میں برابری نہیں مانگی جاتی..دوسرے کی خوشی اپنی خوشی..دوسرے کا دکھ اپنا دکھ..پتہ ہے میرا دل کیا کرتا ہے..میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنے شوہر کے لئے اچھے اچھے کھانے

پکاؤں..اس کے کپڑے دھوؤں..اس کو پریس کر کے دوں اور محفل میں جب کوئی فخر سے اس کی نفاست اور اعلی ذوق کی تعریف کرے تو اس کی نگاہوں میں میرا ہی عکس ابھرے..اور یہی میرا اعزاز ہو..انعام ہو….!!!!!پرہم نے بچوں کو برینڈڈ چیزیں دینے کے لئے.محبتوں کو پرا یویٹ کر دیا ہے محبت پر بھی لمیٹڈ

اینڈ کنڈیشنل کا ٹیگ لگا دیا ہے..محبت بھی آج کل کے جھگڑوں کی طرح ہر بندے کا ذاتی معاملہ بن چکی ہے..ہو نہ ہو بس چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر آئی لو یو کی رٹ لگاؤ…اور بس اسی کو محبت سمجھو….!!!!محبت کی جگہ ایک لفظ نے لے لی ہی..انڈر سٹینڈنگ..بس اگلے کو ماننا نہیں جاننا ہے…زندگی کو

گزارنے سے زیادہ سمجھنا ہے…کہتے ہیں آپس میں انڈرسٹینڈگ ہونی چاہئیے..مگر میں کہتی ہوں آپس میں محبت ہونی چاہئیے..محبت میں سٹینڈ کرنے والے انڈرسٹینڈنگ کے نام پر خود کو اور دوسروں کو کبھی نیچا نہیں دکھاتے..بلکہ گرے ہوؤں کو بھی اٹھاتے ہیں.اسی لئے اب محبتیں دلوں میں سٹینڈ ہی نہیں کر پاتیں..کیونکہ دل

معیارات کا اڈہ بن گیا ہے..دل میں محبت کے لئے جگہ ہی نہیں بچی..!!!!!!اس لئے میں چاہتی ہوں کہ میں جس کو چاہوں اسے اپنا آپ سپرد کر دوں..!!!!اور بدلے میں محبت پاؤں..!!!!!میں شاید آج کل کی لڑکیوں کو پسند نہ آؤں..مگر بتادوں آخر گھوم پھر کر وہ یہیں پہنچیں گی…کیونکہ یہی سب سے خوبصورت زندگی

ہے..!!!!!اور میری بات مردوں کو ناگوارا لگے گی کیوں کہ ان کے لیئے دنیا کی سب سے بور چیز ایک شریف عورت ذات ہی تو ہے…
سرکاری سکولوں کوجاری ہونے والی 27کروڑروپے کی گرانٹ سکولوں تک نہ پہنچ پائی ، معصوم بچے کھلی چھت تلے ، خستہ حال دیواروں کے سائے میں ، بغیرپانی

کے ، دھول مٹی میں اٹے زمین پربیٹھے ، بغیراستادوں کے تعلیم حاصل کرنے میں مگن ہیں ، نہ فرنیچرنہ واش رومز، نہ صفائی کااہتمام اورنہ ہی معیار تعلیم ، سرکاری سکولوں کانصاب ، طریقہ تدریس اورانفراسٹرکچر مکمل طورپرتباہ ہوچکاتھا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے 2کروڑ26لاکھ بچے سکولوں سے باہرنظرآتے رہے،

70فیصدبچے میٹرک سے قبل ہی تعلیم کوخیربادکہنے پرمجبورہوئے،پرائیویٹ سکولوں اوراکیڈمیوں کی بھرماراورلوٹ مارعروج پرتھی، لاہورکے 1240سرکاری تعلیمی اداروں سمیت پنجاب بھرکے 52ہزارسے زائدسرکاری سکولوں میں حاضری کوسوفیصدیقینی بنانے کے لئے ڈراپ آؤٹ سسٹم جاری تھامگرحکومت دیدے پھاڑے نظارہ کرنے میں منہمک رہی ۔

قبضہ مافیانے افادہ عام کے لئے چھوڑی ہوئی جگہوں پرغیرقانونی پلازے تعمیرکئے، شادی ہال بناکرلاکھوں کمائے، تجاوزات نے لوگوں کے راستے روکے ، لاہورہی کے 164شادی ہال غیرقانونی قرارپائے ، 25سے 30سال سے چلنے والے غیرقانونی شادی ہالوں پرکسی کوبھی ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوئی، سب کچھ حکومت کی ناک تلے ہوتارہامگرحکومت خاموش ، سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھ پائی،سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجودبھی کچھ نہ کرپائی،ہاں اگرکچھ کیاتوان عدالتوں

اورججزپرتنقیدجواس سلسلے کوروکنے کے لئے بڑھے، جوعوام کی زبوں حالی دیکھ نہ پائے ، جنہیں اس ملک کی عوام کادردمحسوس ہوا ۔ان بے دردیوں پرسپریم کورٹ کوازخودہی نوٹس لیناپڑا، اسے خودہی اس ملک میں پائی جانے والی خامیوں کودورکرنے کابیڑااٹھاناپڑا، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارحکومت کویوں تماشہ دیکھتے ہوئے پھرکیوں نہ کہتے کہ اگرحکومت نے صحت وتعلیم اوردیگرعوامی مسائل کوحل نہ کیاتوپھراورنج ٹرین منصوبہ ٹھپ کردیاجائے گا۔