خاوند کا تجسس

شادی کے دن نئی نویلی دلہن نے ایک اٹیچی کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے شوہر سے وعدہ لیا کہ وہ اس اٹیچی کیس کو کبھی نہیں کھولے گا. شوہر نے وعدہ کر لیا.

شادی کے پچاسویں سال بیوی جب بسترمرگ پر پڑ گئی تو خاوند نے اسے اٹیچی کیس یاد دلایا بیوی بولی : اب یہ وقت ہے اس اٹیچی کیس کے راز کو افشا کرنے کا. اب آپ اس اٹیچی کیس کو کھول لیں.

خاوند نے اٹیچی کیس کھولا تو اس میں سے دو گڑیاں اور ایک لاکھ روپے نکلےخاوند کے پوچھنے پر بیوی بولی “میری ماں نے مجھے کامیاب شادی کا راز بتاتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ غصہ پی جانا بہت ہی اچھا ہے. اسکے ماں نے مجھے طریقہ بتایا تھا کہ جب بھی اپنے خاوند کی کسی غلط بات پر غصہ آئے تو تم بجائے خاوند غصہ آئے تو تم بجائے خاوند پر غصہ نکالنے کی بجائے ایک گڑیا سی لیا کرنا”.تو مجھے جب بھی آپ کی کسی غلط بات پر غصہ آیا میں نے

گڑیا سی لی خاوند دو گڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنا خوش رکھا ہوا ہے کیونکہ بیوی نے پچاس سال کی کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف دو گڑیاں ہی بنائی تھیں.خاوند نے تجسس سے اٹیچی میں موجود ایک لاکھ روپوں کے بارے میں پوچھا تو بیوی بولی“یہ ایک لاکھ روپے میں نے گڑیاں بیچ بیچ کر اکٹھے کیے ہیں.

اسد اللہ خاں غالب کا خاندانی پس ِمنظر
انا طو لیہ کو تاریخ عالم میں ہمیشہ سے کافی اہمیت حاصل رہی ہے اس کا لا طینی نام ایشیاء کوچک ہے تر کی کا یہ علا قہ عہد سلجوق میں پھر اس کے بعد عہد عثمانی میں ترکوں کا وطن بن گیا۔ سلجوقی سلطنت گیار ھویں سے چودھویں صدی کے درمیاں وسط ِایشیا میں قائم اسلامی بادشاہت تھی۔ یہ نسلاً خاندان ِاوغوز تر ک سے

تھے ۔ طفرل بیگ پہلا سلجوقی سلطان تھا اس نے سلجو قی سرداروں کو متحد کر کے حکومت بنائی اس طرح سلجوقی خاندان کے اقتدار کا آغاز ہوا ۔ اس خاندان نے کئی سو برس ایران توران و شام و روم (ایشیاء کو چک)پہ شان و شوکت سے حکمرا نی کی ۔ کئی بادشاہوں کے اقتدار کے بعد صلیبی جنگوں نے اس حکو مت کو

منتشر کیا ۔ کیانی تمام ایران و توران پہ مسلط ہو گئے اور تورانیوں کا جاہ و جلال دنیا سے رخصت ہو گیا تو ایک مدت تک تصور کی نسل ملک و دولت سے محروم رہی لیکن تلوار ہاتھ نہ چھو ٹی ۔ تو رابن فریدوں کے خا نادان میں ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا کہ باپ کی وراثت میں تلوار بیٹے کے حصے میں آتی تھی اور سامان خانہ

بیٹی کے حصے میں ۔ سلجو قی ترک منتشر حالت میں ایران ترک اور ہندو ستان کے علاقوں میں پھیل گئے ۔ لیکن تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی ۔ ان ہی میں سے ایک ترک امیر زادے نے سمر قند میں بودوباش اختیار کر لی جس کا نام تر سم خان تھا ۔ یہ گھوڑوں کا رسیا تھا اور متمول شخص تھا ان کی اولاد میں عبداللہ بیگ خان

کے والد بھی تھے یہ ترکی کے علاوہ کوئی زبان نہیں بو لتے تھے ۔ ہندوستان آے اور انہیں میرزا نجف خاں نے شاہ عالم کے دربار میں منصب دلا دیا ۔ عبداللہ بیگ خاں کی شادی غلام حسین خان کمیدان کی بیٹی سے ہوئی ۔ خواجہ غلام حسین خان سر کار میرٹھ کے ایک فوجی افسر اور عمائد ِشہر ِ آگرہ میں سے تھے ۔ آپ شروع

میں نواب آصف آلدولہ کے نو کر ہوۓ پھر وہاں سے حیدر آباد پہنچے اور سر کار آصفی میں تین سو سوار کی جمعیت سے کی برس تک ملازم رہے لیکن وہ نو کری خانہ جنگی کی صورت میں جاتی رہی آپ آگرہ لوٹ آے یہاں آکے الور کا قصد کیا ۔ ان ہی دنوں گڑ ھی کے زمیندار راج سے پھر گئے ان کی سر کو بی کے

لئے فوج کو بھجا گیا اس فوج کے ساتھ میرزا عبداللہ کو بھی بھیجا گیا وہاں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پا گئے ۔ راج گڑ ھ میں مد فون ہوۓ ۔ میرزا عبداللہ بیگ کے چھوٹے بھائی نصراللہ بیگ خان تھے۔ انگریز سر کار کی عمل داری ہندوستان میں قائم ہو گئی ایسٹ انڈیا کمپنی بھڑ تے بھڑ تے آگرہ تک آپہنچی ۔ نواب فخر الدولہ

احمد بخش خان لارڈ لیک کے لشکر میں شامل ہو گئےتو انہوں نے میرزا نصراللہ بیگ کو فوج میں رسالداری کے عہدے پہ ملازم کر وادیا۔ ان کی رسالداری کی تنخواہ دو پر گنا یعنی سون اور سونسا جو نواح آگرہ میں واقع ہیں ۔ سرکار سے ان کے نام پہ مقرر ہو گئے ۔ جب انگریز تھے ۔ طفرل بیگ پہلا سلجوقی سلطان تھا اس نے

سلجو قی سرداروں کو متحد کر کے حکومت بنائی اس طرح سلجوقی خاندان کے اقتدار کا آغاز ہوا ۔ اس خاندان نے کئی سو برس ایران توران و شام و روم (ایشیاء کو چک)پہ شان و شوکت سے حکمرا نی کی ۔ کئی بادشاہوں کے اقتدار کے بعد صلیبی جنگوں نے اس حکو مت کو منتشر کیا ۔ کیانی تمام ایران و توران پہ مسلط ہو گئے

اور تورانیوں کا جاہ و جلال دنیا سے رخصت ہو گیا تو ایک مدت تک تصور کی نسل ملک و دولت سے محروم رہی لیکن تلوار ہاتھ نہ چھو ٹی ۔ تو رابن فریدوں کے خا نادان میں ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا کہ باپ کی وراثت میں تلوار بیٹے کے حصے میں آتی تھی اور سامان خانہ بیٹی کے حصے میں ۔ سلجو قی ترک منتشر حالت

میں ایران ترک اور ہندو ستان کے علاقوں میں پھیل گئے ۔ لیکن تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی ۔ ان ہی میں سے ایک ترک امیر زادے نے سمر قند میں بودوباش اختیار کر لی جس کا نام تر سم خان تھا ۔ یہ گھوڑوں کا رسیا تھا اور متمول شخص تھا ان کی اولاد میں عبداللہ بیگ خان کے والد بھی تھے یہ ترکی کے علاوہ کوئی زبان نہیں

بو لتے تھے ۔ ہندوستان آے اور انہیں میرزا نجف خاں نے شاہ عآے تو نصراللہ خان نے بر طانوی راج کی اطاعت قبول کر لی اور اس طرح یہ دو پر گنے انکی وفات تک ان کے نام پہ رہے بعد ازاں پنشن مقرر ہو ئی ۔ نصراللہ خان کی وفات ہاتھی سے گرنے سے ہوئی ۔ آپ نے پسماندگان میں دو یتیم بھتیجے بھی چھوڑے

بڑے بھتیجے کا نام اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ اور چھوٹےبھائی کا نام میرزا یوسف تھا ۔مرزا کی شادی امراؤ بیگم سے ہوئی ۔ اولاد کی خوشی نصیب میں نہیں تھی ۔ ۱۵فروری ۱۸۶۹کو انتقال کر گئے۔