معاہدوں اور وعدوں کو لمبا وقت دو

ہانگ کانگ جغرافیائی لحاظ سے ایک چھوٹا سالیکن معاشی پیمانوں پر ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے. 1840ءمیں چین اور برطانیہ کے درمیان افیون کی تجارت پر ایک خوفناک جنگ ہوئی تھی‘ اس جنگ کو جنگ افیون یااوپیم وار کہا جاتا ہے.

برطانیہ نے اس جنگ کے دوران 26جنوری 1841ءکو ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا اور 1843 ءکو اسے اپنی باقاعدہ کالونی بنا لیا لیکن چین نے ہانگ کانگ کو برطانوی کالونی تسلیم کرنے سے ..انکار کر دیا یوں دونوں ملکوںکے درمیان جھڑپیں جاری رہیں. اس صورتحال سے تنگ آ کر برطانیہ نے 1898ءمیں ہانگ کانگ

چین سے 99سال کی لیز پر لے لیا اور ہانگ کانگ کو ایک جدید سرمایہ دار ملک بنا دیا. ہانگ کانگ سوشلسٹ چین کی سرحد پر ایک سرمایہ دار ملک تھا اور
برطانیہ نے اس کی پرورش اس طرز پر کی تھی کہ کی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ چین کیلئے قابل قبول نہ رہے لیکن جونہی 1995ءآیا چین کی

قیادت نے برطانیہ سے ہانگ کانگ کا مطالبہ کر دیا‘اس وقت لی پنگ چین کے وزیراعظم تھے اور وہ ہانگ کانگ کے لئے ہونے والے مذاکرات کو ڈائریکٹ ڈیل کر رہے تھے. اب صورتحال کچھ یوں تھی برطانیہ کوئی نہ کوئی جواز بنا کر چین سے ہانگ کانگ چھیننا چاہتا تھ

ا اور چین ہرصورت ہانگ کانگ برطانیہ سے واپس لینا چاہتا تھا. ہانگ کانگ کا انگریز گورنر کرس پیٹن برطانوی حکومت کی طرف سے مذاکرات کر رہا تھا. گورنر کرس روزانہ ایک انتہائی نا معقول اور ان سلٹنگ ڈیمانڈ چینی حکومت کے سامنے رکھ دیتا تھا. یہ مطالبات آپ پچاس کروڑ چیونٹیاں جمع کر کے لائیں گے یا آپ ہوا

میں پانچ ہزارپھونکیں ماریں گے یا آپ وعدہ کریں آپ 20سال تک ہانگ کانگ کی طرف پیٹھ نہیں کریں گے قسم کے لایعنی اور نامعقول ہوتے تھے لیکن لی پنگ نہ صرف تحمل سے یہ سارے مطالبے سنتے تھے بلکہ انہیں فوراً قبول کر لیتے تھے. چینی حکومت کے عمائدین اور برطانوی نمائندے لی پنگ کی اس برداشت تحمل اور

سیلف کنٹرول پر حیران رہ گئے. برطانوی حکومت مطالبے کرتی رہی اور لی پنگ یہ مطالبے مانتے رہے‘ یہاں تک کہ برطانیہ کے شاطر سیاسی دماغوں نے آخری چال چل دی. انہوں نے چین سے آخری مطالبہ کر دیا. یہ ایک ایسا مطالبہ تھا جس کے بارے میں برطانیہ کا خیال تھا لی پنگ یہ ڈیمانڈ کبھی قبول نہیں کریں گے.

گورنر کرس پٹین نے لی پنگ سے مطالبہ کیا ”ہم نے ہانگ کانگ میں ڈیڑھ سو سال سے جمہوری نظام قائم کر رکھا ہے اگر آپ وعدہ کریں‘ آپ پچاس سال تک اس سسٹم کو نہیں چھیڑیں گے ‘آپ چین کے سوشلسٹ سسٹم کو پچاس سال تک ہانگ کانگ سے دور رکھیں گے تو ہم ہانگ کانگ آپ کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہیں“. لی پنگ نے مسکرا کر گورنر کرس کی طرف دیکھا اور فوراً جواب دیا ”

اوکے کاغذ لائیں میں ابھی اس پر دستخط کر دیتا ہوں“ لی پنگ کے جواب نے انگریزوں کے ساتھ ساتھ چینی نمائندوں کو بھی حیران کر دیا. گورنر کرس اپنی ٹیم کے ساتھ کمیٹی روم سے نکلا تو لی پنگ نے اپنی ٹیم سے کہا ”برطانیہ نے ہم سے یہ وعدہ لے کر سرمایہ داری نظام کا ایک پاﺅں کاٹ دیا ہے. ہانگ کانگ مشرق میں سرمایہ داری نظام کا ہیڈ کوارٹر ہے‘ ہم ان پچاس برسوں میں اس سے تجارتی مہارت‘ صنعت کاری‘ بینکاری اور کارپوریٹ کلچر سیکھیں گے“ . وہ رکے اور دوبارہ

بولے ”قوموں کی زندگی میں پچاس سال پانچ سال ہوتے ہیں‘ یہ عرصہ چٹکی بجاتے گزر جائے گا لیکن ہم اگر ہانگ کانگ کی واپسی کا یہ موقع کھو دیتے ہیں تو ہانگ کانگ تمہیں پھر کبھی نہیں ملے گا“. لی پنگ نے کہا ”معاہدوں اور وعدوں کے معاملے میں کبھی جذباتی نہ ہوں‘ انہیں ہمیشہ لمبا وقت دو کیونکہ جن معاہدوں کا وقت کم ہوتا ہے وہ ہمیشہ فساد کا باعث بنتے ہیں“.دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

..ہ مسئلہ حکومتی سطح کا ہے لیکن بطور معاشرہ ہم سارے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔ مقتول زینب کی طرح نجانے ہر روز پاکستان میں کتنی معصوم جانیں ٹھکانے لگائی جاتی ہیں، یہ تو ایک ایسی بات ہے جس پر ہر کسی کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کی تربیت سے اس طرح توجہ دینی ہو گی جیسے ہم بچوں کے سکول اور ٹیوشن پر ٹائم لگاتے ہیں۔گھر میں دیندارانہ ماحول بہت ضروری ہے،سب کو اپنے بچی بچوں کو نماز اور قرآن پاک

سے پیوست رکھنے کی ضرورت ہے۔جب والدین گھر میں باقاعدہ پنجگانہ نماز کو وقت دیں گے تو اس وجہ سے ان کے بچے بھی اس فرض کو ادا کرنے میں خدانخواستہ غفلت محسوس نہیں کریں گے۔عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں اپنے بچوں کو بالغ ہونے پر اپنے کمروں میں علیحدہ کر دینا چاہیئے ،کیونکہ اگر ہم زندگی

میں دینی تعلیمات سے دور اختیار کریں گے تو اس کے دورس اثرات سامنے آئیں گے۔بچوں کی بروقت شادیاں کر دینی چاہیں۔عورتوں کو پردے کا اہتمام کرنا چاہیئے،فیشن سے دوری اور بے حیائی سے چھٹکار ا بھی اس کا حل ہے۔گھروں بازاروں اور محلوں میں دس دس روپے لیکر فحش ویڈیو دکھانے والوں کی سر کوبی ضروری ہے

او ر یہ بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے وقت گھروں میں بچے بچیوں کی نگرانی کی جائے اور انہیں مثبت انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تلقین کی جائے۔

زینب ہو یا کوئی بچی،بچے بچیاں سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔بچے ہوں تو ہی بڑے ہوتے ہیں۔گھر میں کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سب کی زندگی اور عزت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔عام آدمی ہو یا کوئی خاص،زینب ہو،بختاور بھٹو ہو یا مر یم نواز سب کی عزت سانجھی ہے۔ضرورت ہے کہ ہم سب ملکر ایک بہترین اور اسلامی معاشر ے

کی بنیاد رکھیں۔حکومت کو پولیس کی بہترین تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے۔پولیس کو ایماندار،محنتی اور ذمہ دارہو نا چاہیئے،صرف وردیاں تبدیل ہونے سے ذہن کہاں تبدیل ہو تے ہیں۔ملک میں توڑ پھوڑ،جلسے جلوس اور دھرنے ملکی استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یاد رکھیں لیبیا جیسے ممالک میں اسی طرح کی بد امنی پھیلائی گئی

اور پھر پورا ملک تباہ ہو گیا۔اب بھی وقت ہے کہ ہم بد امنی اور خراب حالات سے بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کریں۔جتنا ہو سکے ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کی عزت و عصمت کا خیال رکھیں۔

ہم بحیثیت ایک کامیاب مسلم معاشرہ کے طور پر اپنے آپکومنوانے میں ناکام ہیں۔اس بات کا احساس زینب جیسی ننھی کلی کے مرجھا جانے کے بعدبخوبی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔