بالی وڈ میگا اسٹار امیتابھ بچن کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل

بالی وڈ میگا اسٹار امیتابھ بچن کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔امیتابھ بچن کئی دن سے کمر اور بازو کے درد میں مبتلا تھے اور معمول کے مطابق چیک اپ کے لیے ممبئی کے لیلاوتی اسپتال پہنچے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں داخل کرلیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امیتابھ بچن کو نظام انہضام میں مسئلے کے

باعث داخل کیا گیا ہے لیکن اسپتال یا ان کے خاندان کی جانب سے فی الحال تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔بگ بی اس وقت کئی فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس میں ایک ’102 ناٹ آؤٹ‘ بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امیتابھ بچن متعدد بار کئی مسائل کے باعث اسپتال میں داخل ہوچکے ہیں جب کہ وہ 1982 سے جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور 75 فیصد جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

عمر جس ما ں کا دودھ تم نے پیا ہے اسی ما ں کا دودھ میں نے پیا ہے تم میر ے جسم سے جان تو نکال سکتے ہو لیکن میرے دل سے ا یما ن نہیں نکال سکتے“یہ ا لفا ظ تھے جو عمر ر ضی اللہ عنہ کے دل پر بجلی بن کر گر ے دل مو م ہو گیا ،کہنے لگے فا طمہ !بتا و تم کیا پڑھ ر ہیں تھیں ،کہنے لگیں بھا ئی آپکا جسم نا پاک ہے شر ک کی نجا ست نے آپکو نا پاک کر د یا ہے غسل کر لیجیئے تا کہ آپ اس پاک کلام کو سن سکیں چنا نچہ غسل کر کے ا للہ کا کلام سنا آئیتیں سنیں
تر جمہ “میں ہی اللہ ہو ں میر ے سوا کو ئی معبود نہیں تم میر ی ہی عبا دت کیا کرو
اور میر ی ہی یا د کی نما ز پڑ ھا کر و ۔۔۔(سو رہ طہ،آئیت ١٤)

کہنے لگے ا چھا تم مجھے بھی مسلما ن بنا دو اسو قت وہ چھپے ہو ئے صحا بی با ہر نکلے کہنے لگے ،مبا رک ہو عمر !نبی علیہ السلام کئی دن سے دعا ما نگ ر ہے تھے کہ “اے اللہ عمر ابن خطا ب کے ذر یعے یا عمرو بن ہشا م کے ذر یعہ د ین کو عزت عطا فر ما “اللہ کے محبو ب کی د عا تیرے حق میں قبو ل ہو گئی -آو میں آپ کو لے کر چلتاہو ں چنا نچہ دو نو ں دار ارقم میں آتے ہیں نبی علیہ ا لسلام کنڈی لگا ئے بیٹھے ہیں اور مسلما نو ں کو د ینی تعلیم سے ر ہے ہیں جب د ستک دی تو ا یک صحا بی نے دروا زے کے سو را خ میں سے د یکھا ،کہا اے اللہ کے محبوب! عمر کھڑے ہو ئے ہیں ہا تھ میں ننگی تلوار ہے اب پتا نہیں کیا ا رادہ ہے۔۔۔۔؟

حضرت حمزہ آگے بڑ ھے اور فر ما نے لگے کھول دو دروازہ اگر نیک ا رادے سے آئے ہیں انکا آنا مبا رک اور ا گر کو ئی دو سرا ا را دہ لا ئے ہیں تو انکی تلوار ہو گی اور عمر کی گردن ہو گی -اس جگہ لو گ د یکھیں گے کہ میں ان کے سا تھ کیا سلو ک کر تا ہو ں چنا نچہ دروا زہ کھو لا ،مگر عمر کے تو ا نداز بد لے ہو ئے تھے وہ جو قتل کر نے کی نیت سے نکلے تھے خود قتل ہو چکے تھے ا نکا دل تو اسوقت اللہ کے محبو ب کی نگرا نی میں آ چکا تھا ا دب کے ساتھ آ کر بیٹھتے ہیں کہتے ہیں میں تو آپکا خادم بننے کے لیئے حا ضر ہوا ہو ں تو نبی علیہ ا لسلام نے اللہ اکبر کے ا لفاظ کہے اسکو سن کر مسلما نو ں نے بھی تکبیر کا نعرہ بلند کیا یہ دین اسلام میں سب سے پہلا تکبیر کا نعرہ تھا جو لگا یا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سے پہلے حضرت حمزہ مسلما ن ہو ئے انکا نمبر ا نتا لیسوا ں تھا حضرت عمر ر ضی اللہ عنہ مسلما ن ہو ئے ا نکا نمبر چا لیسوا ں تھا -تھو ڑی د یر کے بعد نما ز کا و قت ہوا وہیں نما ز پڑ ھنے لگے -عر ض کیا اے اللہ کے محبو ب صلی اللہ علیہ و سلم یہا ں کیو ں نما ز پڑ ھتے ہیں ،اب تو عمر مسلمان ہو چکا ہے -آئیے مسجد میں جا کر نما ز پڑ ھیں گے چنا نچہ مسجد میں تشر یف لے گئے ا علا ن کیا “اے قر یش مکہ !اگر تم میں سے کو ئی چا ہے کہ ا پنی بیو ی کو بیوہ بنوا ئے اور بچو ں کو یتیم کر وا ئے تو اسے چا ہیئے کہ عمر کے مقا بلے میں آجا ئے ہم اب یہا ں اللہ کی عبا دت کیا کر یں گے (سبحا ن اللہ)اللہ ر ب العذت نے اسلام کو اس سپو ت کے ذر یعے سے عزت عطا فر ما ئی مگر اس سپو ت کو جو ا یما ن کی نعمت ملی ا سکے پیچھے انکی بہن فا طمہ کا کردار نظر آ تا ہے لہذا ایک اور کا میاب ہستی کے پیچھے ایک عورتکا کردار ایک بہن کی شکل میں نظر آ تا ہے اور ا سطر ح کی کتنی ہی مثا لیں ہیں ۔۔۔جو کہ میں آ ئندہ قسط میں بیان کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جا ری ہے