یہ پاکستانی برطانیہ میں انتہائی شرمناک ترین کام کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ایسا کام کہ ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھکا دیا

برطانیہ میں ایک پاکستانی شخص ایسا شرمناک ترین کام کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے کہ سن کر تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 39سالہ عدیل سلطان نامی یہ بدطینت شخص کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار ہو کر جیل جا پہنچا ہے۔

لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے مجرموں کا سراغ لگانے والے ایک گروپ کو اس شخص کے خلاف شکایات موصول ہوئیں کہ یہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس پر گروپ کے اراکین نے 14سالہ لڑکی کاروپ دھار کر اس سے انٹرنیٹ پر رابطہ کیا۔ اس نے انہیں واقعی لڑکی سمجھ لیا اور اسے جنسی تعلق کے لیے ورغلانا شروع کر دیا اور پھر اسے ملاقات کے لیے وقت بھی دے ڈالا۔

جب وہ ملاقات کے لیے طے شدہ جگہ پر پہنچا تو وہاں لڑکی موجود تھی جسے اس گروپ کے اراکین ہی لائے تھے۔ اس کے جنسی درندہ ہونے کی تسلی ہونے پر انہوں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اب اسے عدالت سے 14ماہ قید اور ملک بدری کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت میں اس بدقماش کا کہنا تھا کہ ”مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنا جرم ہے،

میں سمجھتا تھا کہ برطانیہ میں یہ سب کچھ جائز ہے جس کی وجہ سے میں نے یہ غلطی کی۔“ اب اس مجرم نے اپنی ملک بدری کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں اس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ”پاکستان میں میری جان کو خطرہ ہے۔ اگر مجھے واپس بھیجا گیا تو قتل کر دیا جاﺅں گا چنانچہ میری ملک بدری کی سزا ختم کی جائے۔“