دیارِ غیر سے لوٹے تو اپنے دیس آئے……..

انسان کو اُس کے حالات نہیں خیالات پریشان کرتے ہیں۔حالات تو وقت کیساتھ بدلتے رہتے ہیں لیکن خیالات کو بدلنا آسان نہیں ہوتا۔سلمان کو آج یہ بات نہایت شدت سے یا د آرہی تھی۔

پتہ ہی نہیں چلا کب عُمر کی گھڑی 60 کا ہندسہ عبو رکر گئی۔سلمان خان نیو یارک کا ایک کامیاب بزنس مین جس کی محنت اور کا میابی کی مثالیں دی جا تی تھیں آج پریشان بیٹھا ہے۔ماضی کے واقعات ایک فلم کے مناظر کی مانند آنکھوں کے سامنے رقصاں تھے۔احساسِ سود و زیاںتھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
آج سے 30 بر س قبل جب اُمنگوں اور خواہشات کا گھو ڑا بے لگا م تھا سلمان خان بھی اُن نو جوانوں میں شامل تھا جو ایک ہی جست میں سب کچھ حاصل کر لینا چاہتے تھے۔ہر نو جوان کی طرح اُسے بھی یہ ہی محسوس ہو تا تھا کہ کا میابی کا ہر دروازہ مُلک سے با ہر ہی کُھلتا ہے۔مُحلے کے چا ئے والے ہوٹل پر رو زانہ شام کو گھنٹوں دوستوں کے ساتھ ہو نے والی بحث میں سلمان کا یہ ہی شکوہ ہو تا تھا کہ اس مُلک نے دیا ہی کیا ہے۔یہاں انصاف نہیں،نو کری نہیں،تعلیم معیاری نہیں،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار،امیر کا سونے کا نوالہ حقِ وراثت جبکہ غریب احساسِ حصول ِ نان نقفہ سے بھی محروم۔یہ سب کہتے ہو ئے سلمان نہایت جذبا تی ہو جاتا حتیٰ کہ بعض اوقات یہاں تک کہہ جا تا کہ یہ مُلک بنا ہی غلط اس سے تو بہتر تھا تقسیم نہ ہو تی یا پھر انگریز ہی راج کرتا تو آج ہم زیادہ ترقی یا فتہ ہو تے۔اس مو قعہ پر فیصل اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پا تا اور سلمان کو آئینہ دکھاتا کہ اگر یہ مُلک نہ ہو تا تو تم آج انجینئر نہ ہو تے،یہ مُلک نہ ہو تاتو بر سرِ روزگار ہونا ما سوائے دیوانے کے خواب کے کچھ نہ ہوتا۔ جو آج تمھارے پا س ہے۔یہ مُلک نہ ہو تا تو تمھیں اتنی آزادی اظہار حاصل نہ ہو تی۔یہ مُلک نہ ہو تا تو تم سلمان نہ ہو تے میں فیصل نہ ہو تا ہم سامراجی نظام کے غلام ہو تے۔جو
تیسر ے درجے کے شہری ہو تے نہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہو تی نہ ہی کو ئی نوکری ملتی۔یہ مُلک اس کا ہرا شناختی کا رڈ،اس کا ہرا پاسپورٹ اس کاسبزہلالی پرچم یہ ہماری شناخت ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔فیصل کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہنے لگے۔ہاں ہم مانتے ہیں یہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے خرابیاں ہیں،پریشانیاں ہیں لیکن ذرا سوچو میرے دوست اگر گھر گنداہو تو گھر کو صاف کیا جاتا ہے یا اُسے چھو ڑ دیا جا تا ہے۔
ماضی کے تمام لمحات دُھند کا لبادہ پہنے نگاہوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔وہ ہو ٹل، چا ئے،دوست،آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو نے اُسے احساس دلایا کے کہیں کچھ غلط نہیں بلکہ بہت غلط ہو گیا ہے۔
ایک با ر پھر ما ضی کی کتاب کے اوراق پلٹنے لگے۔اب جو ورق سامنے آیا اُسے دیکھ کر سلمان کے سارے وجود میں چیو نٹیاں سی رینگ گئیں۔ ائیر پورٹ کا وہ منظرجسے جان بو جھ کر سلمان نے کبھی یا دنہیں کیا آج ایسے نگا ہوں میں چُبھ رہا تھا جیسے سوا نیزے پرماہِ جُون میں تھر کی جُھلستی ہو ئی زمین پر بکھرے،بنا سائباں لو گوں کے ننگے وجود پر سورج کی روشنی اور گرمی چُبھتی ہے۔ دوستوں سے بحث و مباحثے کے با وجود سلمان سب کو بے وقوف اور کا ہل سمجھتا تھا۔سلمان ہمیشہ باہر جانے کی تگ و دو میں لگا رہتا تھا اور آخر کا ر قسمت نے موقع دے دیا۔اب سلمان کے لیے سب سے مشکل ماں باپ کو نہ صرف آگاہ کرنا بلکہ اُنھیں منانا بھی تھا۔وہ جانتا تھا کہ یہ کام مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔بڑا بھائی شا دی کر کے پہلے ہی کینیڈا رہا ئش اختیار کر چکا تھا۔
بہن پیا دیس سد ھا ر چکی تھی۔ بو ڑھے ماں با پ کا واحد سہارا بس وہ ہی تھا۔لیکن کیا کرتا وہ بھی مجبور تھا اچھے مستقبل اور خواہشات کی تکمیل اُسے یہاں نظر نہیں آتی تھی۔ذہن تھا کہ سو چوں
کی آمجگاہ بنا ہو اتھا۔بو ڑھے ماں باپ پیروں کی زنجیر نظر آتی۔آخر کا ر وہ دن بھی آپہنچا جب اُسے اپنے ماں باپ کو مُطلع کرنا تھا۔سلمان کو آج بھی وہ جُمعے کی رات یاد تھی جب رات کے کھانے پر ماں باپ بہت خوش تھے اور اُسے بتا رہے تھے کہ اُنھوں نے اُس کی شادی چچا کی بیٹی سے طے کر دی ہے اب وہ اُمید بھر ی نظروں سے اس کی جانب تک رہے تھے کہ وہ ہاں کرے تو بات باقاعدہ آگے بڑھا کر کو ئی تا ریخ رکھی جا ئے۔یہ ہی وہ لمحہ تھا جب سلمان نے اُنھیں اپنی ایک دن بعد کی روانگی کی اطلاع کرنا مناسب سمجھا۔اس لمحے سلمان نے خود کو بہت مجبور اور خود غرض پایا لیکن اب پیچھے ہٹنا ممکن نہ تھا۔”بابا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے سلمان نے اٹکتے ہو ئے لہجے میں کہا”۔دونوں کے منھ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا سوالیہ نگاہوں میں ہزاروں اندیشے مجھے صاف دِ کھ گئے۔”بابا،ماما وہ میں۔۔۔۔۔ میرا ،میرا ویزہ لگ گیا ہے امریکا کا،کل شام کی میری فلائٹ ہے۔”
مجھے ایسا لگا جیسے میری روح پر صدیوں کا جوبو جھ تھا جااُُتر گیا،لیکن جب میں نے نگاہیں اُٹھا کر اپنے والدین کی طرف دیکھا تو لمحے کے اندر مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ بو جھ وہاں منتقل ہو گیا ہے۔
“بیٹا تُو ایسے کیسے کر سکتا ہے ایسے کیسے جا سکتا ہے یوں ہمیں اکیلا چھو ڑ کر۔ماں نے رو تے ہو ئے کہا۔”
“تُو جا نتا ہے کہ تیرا بڑا بھائی ویسے ہی جا چکا ہے ہماری اُمیدوں کا مرکز بس تُو ہی تو ہے ہمارے
بُڑھا پے کا سہارا۔ہمیں کس کے آسرے پہ چھوڑ کر جا ئے گا تُو بول”۔ماں نے میرے مضبوط کندھے کو بے بسی سے دبوچتے ہو ئے کہا جو والدین کی محبت کو بو جھ اُٹھانے سے قاصر تھا۔
خود میری آنکھوں میں آنسو تھے دل کٹ رہا تھا لیکن بدیس کی لالچ،زیادہ سے زیادہ کی ہوس کی پٹی نے آنکھوں کو بند کر دیا،زبان پر تالا لگا دیا،دل کو مُردہ کر دیا۔میں خامو ش رہا۔اسے مت رُوکو، جانے دو اسے،اس نے کچھ سوچا ہے تو بہتر ہی سوچا ہو گا۔ ہم اس کے بہتر مستقبل کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بنیں گے۔بابا نے کہا تو میں اُنھیں ٹکٹکی باند ھ کردیکھنے لگا۔لیکن یہ ایسے۔۔۔بس چُپ بابا نیبھرائی ہو ئی آواز میں ماں کی بات کو کاٹ کر کہا میں نہیں چا ہتا کے کل کو یہ کہے کہ ہماری وجہ سے یہ دوسروں سے پیچھے رہ گیا ہے ویسے بھی اس نے ہمیں بتایا ہے ہم سے پو چھا نہیں ہے۔تم اپنی ماں کو کل کی فلائٹ کا بتا دینا۔میں نہیں آسکوں گا کچھ ضروری کام ہے۔میری طرف سے خداحافظ۔بابا یہ کہہ کر اُٹھ گئے۔
ماں نے میری طرف دیکھا اور کہا بیٹا تُو دل بُرا کر کے مت جانا تیرے ابا وقتی طور پر ناراض ہو گئے ہیں بعد میں مان جائیں گے۔تُو مجھے بتا میں تیرا سامان پیک کر دوں۔کیا کیا لے کر جائے گا۔دیکھ وہاں اپنا خیال رکھنا۔ماں تو پھر ماں ہو تی ہے اولاد کی مرضی پر اپنی خو شیاں قربان کرنے والی۔
مو با ئل کی بیپ نے ماضی سے حال میں لا پٹخا۔پارک میں مو جو د لو گو ں کی نگاہ کا مرکز بنا ہو ا تھا وجہ شاید آنکھوں سے جاری برسات تھی۔ عجب سی روایت ہے خوشیاں تو انسان سب سے بانٹتا ہے لیکن غم کو سینے سے لگائے نا سور بننے کا انتظا ر کرتا ہے حالانکہ غم بانٹنے سے کم ہو جاتے ہیں۔
وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جب والدین کی امُیدوں کو روندتے ہوئے میں نے امریکہ کی سر زمین پر قدم رکھا۔میری آنکھوں میں روشن مستقبل کے ستارے اس طرح دمک رہے تھے کہ انکی روشنی میں باقی ہر چیز کی رعنائی مانند پڑ چُکی تھی۔میرا رابطے کا دوست پہلے سے میرے استقبال کے لیے مو جو د تھا جو مجھے اپنے فلیٹ میں لے گیا۔ دو چار دن تک مجھیمیرا ضمیر احساس ِ ندامت دلانے کی کو شش کرتا رہا لیکن ضمیر جو ٹھہرا جسے میں نے “اچھا ٹھیک ہے ” کی تھپکی دے کر احمق بچے کی طرح سُلا دیا۔پھر میری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہو ا۔یہاں کی مشینی زندگی میں خود کو ڈھالنے میں،میں نے چنداں دیر نہ لگا ئی۔میں پیسہ کمانے کی مشین بن گیا۔ ایک دن میری اس زندگی میں جولیا کا اضافہ ہوا۔میں نے امریکا میں مستقل قدم جمانے کے لیے جولیا سے شادی کا فیصلہ کیا۔میرے دوست نے مجھے سمجھانے کی بہت کو شش کی مذہب، یہاں کا کلچر،مادر پدر آزاد معاشرے کی برائیاں غرض ہر طرح سے اُس نے مجھے اس اقدام سے روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں،میں اُس سے بھی لڑ پڑا اور اُس کے تمام احسانات کو یکسر فرامو ش کرتے ہو ئے خود غرض، میری ترقی سے حاسداور نہ جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا۔وہ بیچارہ خامو شی سے سب سُنتا رہا اور کہا تو فقط اتنا کہ میرے دوست میں تمھاری ترقی سے خائف نہیں لیکن تمہاری جلد بازی اور تباہی کی طرف بڑھتے قدم سے خوفزدہ ہوں۔مجھے ڈر ہے کہ ترقی کی عمارت کی آخری منزل پر تم تنہا ہی کھڑے ہو گے تب تم جب پیچھے دیکھو گے تو خلا ء کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔
میں نے محض اپنے مُخلص دوست کو حقارت بھری نگاہ سے دیکھا اوراپنا بوریا بستر سمیٹ کر جولیا کے فلیٹ منتقل ہو گیا۔پھر جیسے وقت پر لگا کر اُڑنے لگا۔جولیا سے شادی ہو ئی،دو بچے ہو ئے،میں نے ڈرائیوری سے ٹیکسیاں
چلانے والی کمپنی بنالی۔بزنس ایسا چلا کے ساتھ ہی ساتھ کئی اسٹورزکھول لیے،کپڑوں کی بوتیک کھول لی کاروبار تھا کہ پھیلتا ہی چلا گیا اور میں مصروف سے مصروف تر ہو تا گیا۔اس مصروفیت میں نہ جولیا کو دیکھنے کا وقت تھا نہ بچوں سے محبت کی فُرصت۔میں دولت کی بڑھتی رفتار سے مطمئن اور اسے ہی زندگی کا حاصل بنائے ہو ئے تھا جبکہ تقدیر کہیں دور کھڑی مجھ پر ہنس رہی تھی۔میری خودساختہ مطمئن زندگی کی پُرسکون جھیل میں تلاطم پیدا کرنے والا پہلا کنکر اُس دن گرا جب میں اپنی طبیعت کی ناسازی کی بناء پر دوسرے شہر کی فلائٹ کو چھوڑ کر گھر آگیا۔گھر میں داخل ہو تے ہی بیٹے پر نگاہ پڑی جو پھٹی جینز کے ساتھ بالوں کی کی لمبی سی چُٹیا باندھے کہیں باہر جانے کی تیاری میں مصروف تھا۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اُس نے ہیلو پوپ کہا جو مجھے “پاپ “لگا۔
مجھے ایسا لگا کہ شاید آج میں نے پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو دیکھا ہو جو بیٹے سے زیادہ بیٹی جیسا حُلیہ بنائے ہو ئے تھا۔اس سے پہلے کہ میں اُس سے کچھ کہہ پاتا وہ یہ جا اور وہ جا۔میں ہکا بکا سا دروازے میں ہی کھڑا رہ گیا اور سوچنے لگا کہ شاید واقعی یہ میرا پا پ ہے۔ سر آپ واپس آگئے۔ہماری پاکستانی خانساماں نے پو چھا۔ہاں! میں نے تھکے ہو ئے لہجے میں کہا۔ بیگم صاحبہ کہاں ہیں۔جی وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔اچھا زونیہ کہاں ہے۔زونیہ میری بیٹی کا نام تھا جو میں نے بڑے پیارسے رکھا تھا مجھے شروع سے ہی بچیاں بہت پسند تھیں۔بھائی کی بیٹی کو بھی میں گھنٹوںکا ندھوں پر بٹھائے گھومتا رہتا تھا۔امی اکثر کہتی تھیں کہ سلمان دیوانہ ہو تو،لوگ تو خواہش کرتے ہیں کہ پہلی اولاد لڑکا ہو اور تُو تو بیٹیوں کا دیوانہ ہے۔سر زونیہ اپنے کمرے میں ہیں۔خانساماں کی آوازنیمجھے سوچ کی لہروں میں مزید بہنے سے رُوک دیا۔میں اُٹھ کر اپنی بیٹی کے کمرے کی طرف چل دیا۔سر وہ آپ مت جائیں خانساماں نے مجھے رُوکنے کی کوشش کی۔ کیا مطلب میں غُصے سے اُس کی طرف مُڑا۔اب تم مجھیبتاؤگی کہ مجھے کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں یہ میرا گھر ہے یا تمھارا
نہیں وہ سر اُس سے کوئی بات نہیں بنی۔میں نے اُسے نظر انداز کر دیا میں مزید خود کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔آہ آج میں سوچتا ہوں کاش اُس دن میں خانساماں کی بات مان لیتا۔۔۔لیکن نصیب کالکھا کون ٹال سکا ہے۔ کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی میں نے قدم اندر رکھا تو اندر کے منظر نے مجھے پتھر کے بُت میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔زونیہ…….. میں غصے سے دھاڑا۔کیا بے
ہودگی ہے یہ کو ن ہے یہ میں کا نپتی آواز سے بولا۔پوپ اتنا شور کرنے کی کیا ضرورت ہے he is my boyfriend .(یہ میرا بوائے فرینڈ ہے)غلطی آپکی ہے آپکو دروازہ ناک (knock)
کر کے آنا چاہیے تھا۔میں ہکا بکا رہ گیا اور پھر میرے اندر میرا آبائی پٹھان خون نے جو ش مارا میں سب بھول کر آگے بڑھا اور ایک زور دار تھپڑ اپنی بیٹی کے رسید کیا۔میرا ہاتھ رُکا نہیں،ایک میری آنکھوں سے آنسو ؤں کی برسات جاری تھی اور دوسری طرف میرے ہاتھ سے میری بیٹی کی پٹائی
مجھے نہیں معلوم کب اُس کے بوائے ٖ فرینڈ نے پو لیس کو فون کیا ،کب پولیس آئی،کب میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالیں گئیں۔جب میریحواس قابو میں آئے تو میں نے خو د کو لاک اپ میں پایا۔تین دن میں لاک اپ میں رہا مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ میں نے اپنی بیٹی کو مارا ہے یا خود کی روح کو گھائل کیا ہے۔ان تین دنوں میں مجھ سے ملنے کو ئی نہ آیا۔نہ میری بیوی، نہ بیٹی نہ ہی بیٹا۔اگر کو ئی آیا تو وہی دوست جس کے دامن میں،میں حقارت کے پتھر بھر آیا تھا اور کبھی پلٹ کر میں نے اُس کی خبر نہ لی تھی۔اُس نے آکر مجھے سنبھالا۔آفرین ہے اُس پر کے ایک مرتبہ بھی اُس نے میرے گزشتہ رویے کی شکایت نہ کی۔حالات کی سنگینی کا احساس دلایا،میری غلطیاں مجھے بتائیں۔اور یہ بھی سمجھایا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔میں خوب سمجھ رہا تھا کہ یہ سب میرے اعمال کا نتیجہ ہے۔آج پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں ایک سراب کے تعاقب میں تھا۔میں نے دولت کی خاطر جو کچھ کھویا ہے وہ اب اس دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔آج مجھے ماں باپ،دوست سب یاد آرہا تھا لیکن شاید اب بہت دیر ہو گئی تھی اس دولت سے کا ش میں وقت خرید سکتا تو سب کچھ واپس پلٹا لیتا۔
میں ایک لُٹے ہو ئے جواری کی مانند گھر پہنچا ایک ایسا جواری جو ایک ہی بازی میں سب کچھ لُٹا بیٹھا ہو۔ڈرا ئینگ روم سے آتی آوازوں نے میرے قدم رُوک لیے۔mom dad gone mad.(مام ابو تو پاگل ہو گئے ہیں) یہ میرے بیٹے کی آواز تھی۔yes my son I know that now we have to get rid of him in such a way that all his assets, should come to us.(ہاں میرے بیٹیمیں جا نتی ہوں، اب ہمیں کچھ ایسا کرنا ہے کہ اس سے ہماری جان بھی چھوٹ جائے اور ساری دولت،پیسہ بھی مل جائے)۔یہ میری بیگم کی آواز تھی۔اس سے زیادہ سُننے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔میں انھی قدموں سے واپس چل دیا۔خود بخود میرے قدم اُسی دوست کے گھر کی جانب اُٹھے جہاں سے میں آج سے 15 برس قبل نکلا تھا۔وقت بھی کیسا بے رحم ہے خود کو دُہراتا ہے۔میں اپنے دوست کے گھر پہنچا نہ اُس نے کچھ پو چھا نہ میں نے کچھ بتایا۔اگلے چند دن میرے نہایت مصروف گُزرے میں نے کچھ بہت اہم فیصلے لیے اپنے دوست کو ہمراز بنایا۔اپنا سارا سرمایہ پاکستان مُنتقل کیا۔اپنی بیوی اور بچوں کے نام بس وہ گھر کر دیا اور اپنے فیصلے سے بذریعہ نو ٹس اُنھیں آگاہ کر دیا جس پر میری بیوی بہت سیخ پا ہو ئی۔مجھ سے ملنے کی کو شش بھی کی گئی پرمیں نہ ملا۔میں نے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ایک وہ ہی تو سرزمین تھی جو ہم جیسے بھٹکے ہوئے اور دُھتکارے ہو ؤوں کو اپنی آغوش میں لے لیتی تھی۔پاکستان آمد کی میں نے کسی کو بھی اطلا ع نہ کی تھی۔ میرا دوست ایئرپورٹ چھوڑنے آیا۔میں نے 20 لاکھ کا چیک اپنے دوست کو دیا اُسے پیسے کی ضرورت تھی میں یہ بات جانتا تھا۔ اُس خود دار شخص نے لینے سے انکار کر دیا بہر حال اس شرط پر لیا کہ جب دینے کے قابل ہو گا تو لوٹادے گا۔جہاز نے اپنے وطن کی جانب جب اُڑان بھری تو ایک انجانی سی عجیب سی خوشی محسوس ہو ئی جسے کوئی نام دینے سے میں قاصر تھا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کے جیسے سراب سے حقیقت تک کا سفر اب اختتام کو ہے۔کراچی ائیرپورٹ پر قدم رکھتے ہی دل یوں دھڑکنے لگا جیسے کوئی عاشق اپنی محبوبہ سے پہلی مر تبہ ملنے جا رہا ہو۔جانی پہچانی ہوا کے تھپیڑوں نے بالوں کو بکھرا دیا اپنے لو گ،اپنا مُلک،اپنی سرزمین، اپنا گھر یہ ایک الگ ہی منطق ہے جس کی کوئی وجہ بیان کے قابل نہیں دیا ر غیر میں سب کچھ ہو کر بھی اپنا کچھ نہیں ہو تا گر کو ئی محسوس کرے تو۔۔۔۔
25 سال بعد گھر کے دروازے پر دستک دیتے ہو ئے ہزاروں سوچوں نے حملہ کیا۔ابو کی وفات کی خبر کے باوجود میں پاکستان نہ آسکا تھا۔اب مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ امی اکیلی رہتی تھیں یا بہن کے پا س منتقل ہو گئی تھیں۔کون دروازہ کھولے گا مجھے پہچانے گا بھی یا نہیں۔خوش ہوں گے یا باتیں سُننے کو ملیں گی میں نے کبھی واپسی کا نہ سو چا تھا۔دروازہ کُھلا اور سوچوں کی قید سے آزادی ملی۔آہ ……… بھیا آپ۔امی سلمان بھائی آگئے امی بھیا آگئے۔بہن نے دروازہ کھولا اورمارے خوشی کے ممجھ سے لپٹ کر چلانے لگی۔پھر امی سے ملاقات،آنسوؤں کا سیلاب،گلے شکوؤں کا دور،
رشتہ داروں کی آمد اور میری وضاحتیں یہ سب ایک الگ اور طویل کہانی ہے۔اب اُن دوستوں سے ملاقات کی جن سے بحث و مباحثے چلتے تھے۔اُنھیں اپنے منصوبے سے آگا ہ کیا۔اب وقت آگیا تھا اس دھرتی کو لو ٹانیکا۔بات اب سمجھ میں آئی تھی کہ ہم نے کیا دیا اس مُلک کو۔اب میں دینے آیا تھا۔میرا ارادہ مضبوط اور ہمت جواں تھی۔اس مُلک میں چند خود غرض اور جمع تفریق کرنے والوں نے تعلیم جیسے مقدس پیشے کو کاروبار کا ذریعہ بنا رکھا ہے جس کی بدولت تعلیم کاحصول بھی طبقاتی فرقوں میں بٹ چکا ہے جو نہ صرف مُعاشرتی نا ہمواری کا باعث بن رہا ہے بلکہ ایک بہت بڑی تعداد میں افراد میں احساسِ محرومی پیدا کر رہا ہے۔میں نے اسی پیشے کو واپس اُس کی جگہ پہنچانے اور تعلیم بلکہ معیاری تعلیم کی منصفانہ تقسیم کا بیڑہ اُٹھا نے کا فیصلہ کیا ہے کیو نکہ یہ ہی وہ کُنجی ہے جو ترقی کے دروازے کو کھولے گی اور نوجوانوں کو صحیح سمت پر گا مزن کرے گی۔قوموں کی تا ریخ سے ثابت ہے کہ تعلیم کے ذریعے ہی اُنھوں نے اپنی منزل کو پایا۔میں خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس نظریاتی اور مُلک و قوم سے ہمدردی رکھنے والے ایسے افراد موجو دہیں جو بے لو ث کام کرنے کو تیار ہیں سرمائے کی میرے پا س کمی نہیں۔بس اب آپ سے بھی التجا ہے کہ میری کامیابی کی دُعا کریں کہ جو سپنا میری آنکھوں نے دیکھا ہے وہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔آمین۔
دیا رِ غیر سے لو ٹے تو اپنے دیس آئے
لباس اپنا تھا،سو پہن اپنا بھیس آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں