غریب دھوبن

علامہ اقبال نے زندگی کے آخری ایام میں اپنے ایک عزیز کو قبول اسلام کے واقعات جمع کرنے اور کتاب ترتیب دینے کا مشورہ دیا اور پھر خود ہی دو نہایت مو¿ثر واقعات بھی سنائے ‘علامہ فرماتے ہیں کہ ممبئی میں کسی خوش حال مسلمان نے اپنے حلقہ تعارف کے کچھ اونچے لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا‘ ان میں ایک عیسائی انگریز بھی تھا‘دستر خوان پر طرح طرح کے کھانے چنے ہوئے تھے اور ان میں پلاﺅ بھی تھا ‘عیسائی انگریز نے پلاﺅ نہایت شوق سے کھایا‘ کھانے سے فارغ ہوگئے

اور گفتگو چھڑی تو انگریز عیسائی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ صاحب خانہ سے درخواست کی کہ مجھے کلمہ توحید پڑھا کر دائرہ اسلام میں شامل کر لیجئے‘ صا حب خانہ حیران تھے عام قسم کی دعوت میں کس چیز نے انگریز کے دل کی دنیا بدل دی‘ بدل دی‘ اس نے حیرت و مسرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سوال کیا‘ آپ کو کس چیز نے اس وقت متاثر کیا؟ پلاﺅ نے‘ اس جھٹ سے جواب دیا‘پلاﺅ کھاتے وقت میرے ذہن نے یہ سوچا کہ جس قوم کا ذوق کھانے کے معاملے میں اتنا اچھا اور اونچا ہے‘ دین کے معاملے میں اس کا ذوق کتنا حسین اور بلند ہوگاچنانچہ میرے دل نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا‘ انگریز نے جواب دیا‘ حاضرین کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوئیں‘ صاحب خانہ نے خوشی میں کہا‘ پلاﺅ زندہ باد‘! انگریز نے جواب دیا‘ نہیں اسلام زندہ باد‘ علامہ اقبال نے اپنے عزیز کو دوسرا واقعہ سناتے ہوئے کہا ‘ایک غیر مسلم کسی اونچے عہدے پر فائز تھے‘ گھر میں عیش و عشرت اورآرام و آرائش کا ہر سامان موجود تھا‘اونچی سوسائٹی میں عزت حاصل تھی‘ ایک دن یہی افسر گھر آئے تو ان کی بیوی نے کہا‘میں نے تو اسلام کا کلمہ پڑھ لیا‘آپ بھی پڑھ لیجیے اور اپنے اللہ سے ہی بندگی کا عہد کیجیے‘ افسر دیر تک بیوی کا منہ تکتے رہے پھر بولے آخر کیوں؟اس انقلاب کی وجہ کیا ہے؟ بیوی نے کہا‘

ہمیں دنیا کی ہر نعمت حاصل ہے‘ زیور کی کمی ہے نہ زرق برق لباس کی پھر جن لوگوں سے ہمارا رابطہ ہے ‘ وہ بھی خوش حال اور دولت مند ہیں‘ میں جس تقریب میں بھی گئی بے فکری کے قہقہے سنے‘ زرق برق لباس دیکھے‘ سونے کے زیور دیکھے‘ عیش کے نغمے سنے لیکن یہ عجیب و غریب بات ہے کہ پھٹے کپڑوں اور ٹوٹی چپلوں میں آنے والی غریب دھوبن کی زندگی میں جو اطمینان سکون اور خوشی میں نے دیکھی‘ وہ مجھے کہیں دیکھنے کو نہیں ملی‘ میں اس سے پریشان حالی کی بات کرتی ہوں

اور وہ نہایت اطمینان کے ساتھ مسکرا کر جواب دیتی ہے‘ اللہ مالک ہے ‘اس کا بڑا شکر ہے‘ وہ بڑا مہربان ہے‘ اس کے شکر کا حق ادا نہیں ہوتا‘ بی بی کوئی فکر کی بات نہیں‘ سب کا اللہ مالک ہے اور میں سوچنے لگتی ہوں کہ جو خوشی اور اطمینان اس غریب اور خستہ حال دھوبن کو حاصل ہے‘ دنیا کی ہر چیز ہوتے ہوئے بھی مجھے وہ حاصل نہیں‘ ضرور یہ اس کے دین کی برکت ہے اور اس کا دین واقعی اللہ کا سچا دین ہے‘اسی لیے میں نے اپنے اللہ کا کلمہ پڑھا اور اس پر ایمان لائی‘آپ بھی اپنے اللہ کا کلمہ پڑھیں اور اس پر ایمان لائیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں