اللہ سب بہنوں کی عزت کی حفاظت کرے ۔۔ تمام بہنیں ہ خبر ضرور پڑھیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں’گھریلو تشدد‘ کو عمومی طور پر میاں بیوی کے آپسی معاملے کے طور پر لیا جاتاہے اور یہی ایک وجہ ہے جس کے باعث لوگ اس میں مداخلت نہیں کرتے اور ثالثی کا کردار کرنے کے بجائے صرف معاملے کو بڑھتا ہو ا دیکھتے ہیں جوکہ آگے بڑھ کر شدید سے شدید تر ہوتا چلا جاتاہے اور بعض اوقات خواتین کو خودکشی کرنے تک مجبور ہو جاتی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ایسے میں ایک ٹویٹر صارف لڑکی نے جب ایسا ہی واقعہ سرعام سڑک پر ہوتے ہوئے دیکھا تو یہ لڑکی موقع پر اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کو نہ بچا سکی لیکن اس نے اس حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے ایک چھوٹا سا اقدام اٹھاتے ہوئے اس واقعے کو ٹویٹر پر اپنے الفاظوں میں شیئر کیا

جس پر شہریوں کی جانب سے سخت مذمت کی جارہی ہے ٹویٹر صارف لڑکی نے اپنے پیغام میں پیغام میں لکھا کہ ’ایک خاتون کریم ٹیکسی سے میرے کالج کے سامنے اتری اور اس نے مدد کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی اور اسی دوران وہاں ایک اور گاڑی آکر رکی اور اس میں اس کا شوہر اترا اور اس نے اپنی اہلیہ کو سڑک پر ہی مارنا پیٹنا شروع کر دیا ، یہ واقع سینکڑوں افراد کے سامن پیش آیا لیکن کوئی بھی اس کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھا ‘۔

یہ واقعہ ایک یونیورسٹی کے باہر پیش آیا جہاں پر لوگوں کے بارے میں سمجھتا جاتاہے کہ وہ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں تاہم کوئی بھی آگے نہیں بڑھا اور جو لڑکے اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں دوسروں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے ۔ ٹویٹر صارف نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جب وہ شخص اپنی بیوی کو سڑک پر سرعام پیٹ رہاہے تو یہ گھر کا معاملہ ہے ؟

تو پھر کیا ہوگا اگر اس نے اسے ما ر ما ر کر موت کے منہ پہنچا دیا تو ،کیا یہ چیز آپ کو مداخلت پر مجبو رکرے گی ؟“۔اگر ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا ؟کون ہمارے لیے کھڑا ہو گا اور کون ہمارے معاشرے کو بہتری کی طرف لے جائے گا ؟

۔نوجوان ٹویٹر صارف کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے پر لوگوں کی جانب سے اس کی مذمت کی جارہی ہے ۔ اس معاملے میں ایک صاف نے ٹویٹ کیا کہ اس خاتون نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی ہے تاہم اس کی کسی حوالے سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

7ستمبر …… یوم دفاعِ ختم نبوت

یہ1974ء کی بات ہے ، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اﷲ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر جب کہ مولانا شریف جالندھری رحمۃ اﷲ علیہ اس کے جزل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ مولانا محمد یوسف بنوری ؒکے دور میں جماعت کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔ بیرونِ ملک جماعت متعارف ہوئی ۔ اندرونِ ملک کام میں وسعت آگئی ۔ اسی دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم بنے ۔ اس دور میں قادیانوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبہ نے بہت زور پکڑا ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث اور شیعہ چاروں مکاتب فکر کی مجلس عمل تشکیل دی گئی ۔ مجلس عمل کا صدر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو اور جزل سیکرٹری علامہ خالد محمود احمد رضوی صاحب (بریلوی) کو بنایا گیا ۔ حکومت وقت نے تحریک سے مجبور ہوکر علماء کی بات مان لی اور اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کردیا۔

در اصل اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دو باتوں کا مغالطہ لگ گیا تھا اور وہ اسی ادھیڑ پن میں رہے کہ ’’قادیانی اچھے بھلے مسلمان ہیں،انہیں کافر کیوں قرار دیا جائے ؟نیز قادیانیوں کی اتنی بڑی اور منظم جماعت ہے، ان کے پاس اسمبلی میں اپنے دفاع کے لئے بہت مواد ہوگا ، وہ اپنا دفاع خوب کرلیں گے ۔‘‘ انہوں نے اسی غلط فہمی کی وجہ سے ( آنجہانی) مرزا ناصر احمد کو اسمبلی میں مسلمانوں کے جوابات دینے کی دعوت دی اور کہا : ’’ آؤ! اور خوب تیاری کرکے مسلمانوں کے سوالوں کے جواب دو،تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے ۔‘‘ یہ مسلمانوں کے لئے بہت ہی اچھا ہوا ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے دفتر میں مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے ڈیرہ لگالیا ۔ مولانا اﷲ وسایا ، مولانا عبد الرحیم اشعرؒؔ ، فاتح قادیانیت مولانا محمد حیاتؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور قومی اسمبلی کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمود صاحبؒ بھی دفتر سے وابستہ ہوگئے ۔ مولانا مفتی محمودصاحبؒ کو جماعت کی طرف سے قومی اسمبلی میں نمائندہ مقرر کردیا گیا ۔

صبح سے شام تک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں سامنے رکھ کر حوالہ جات پر نشان لگائے جاتے اور کیس تیار ہوتا رہتا اور اسے مفتی محمود صاحب ؒکے حوالے کردیا جاتا ۔
ایک روز (آنجہانی ) مرزا ناصر جب قومی اسمبلی میں داخل ہوا تو بھٹو نے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ کی طرف دیکھ کر کہا : ’’دیکھو ! کیسا بزرگ آدمی ہے ۔ اس کی اتنی اچھی ڈاڑھی اور نورانی چہرہ ہے ،لوگ اس کو کافر کہتے ہیں۔‘‘

مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں اپنا کیس پیش کیا ۔ جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو مفتی صاحب آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے حوالے پڑھتے گئے ، اس وقت قومی اسمبلی کے تمام ارکان مفتی صاحب کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے اور سبھی ہمہ تن گوش تھے ۔ مفتی محمود صاحبؒ فرمانے لگے: ’’بھائی!میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا ، یہ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھی ہیں، جس کو شک ہے وہ آکر دیکھ لے اور مرزا ناصر اسمبلی میں موجود ہے ، اگر یہ میرے کسی حوالے کو جھٹلادے تو میں مان لوں گا ۔‘‘

آنجہانی مرزا ناصر خاموش تھا اور پانی پیئے جارہا تھا ، وہ پسینے میں شرابور ہوچکا تھا اور بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہا تھا ، اس طرح کئی روز بحث چلتی رہی اور مفتی محمود صاحبؒ مقدمہ لڑتے رہے ۔ مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے دفتر میں مصلّٰی بچھا رکھاتھا اور ہر وقت دعاؤں میں لگے رہتے کہ: ’’ اے اﷲ پاک! اپنے محبوب اکے صدقے اپنے محبوب اکی عزت کی حفاظت فرما اور مسلمانوں کو اس فتنہ سے نجات عطا فرما۔‘‘اس اﷲ کے بندے کی دعائیں لگا تار ’’عرشِ عظیم‘‘ تک پہنچ رہی تھیں ۔

ایک روز مفتی محمود صاحبؒ نے بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ہے ، جس میں لکھا ہے کہ : ’’ مجھے نہ ماننے والے’’ کتیوں‘‘ اور’’ سورنیوں ‘‘کی اولاد ہیں ، ان کی عورتیں ’’جنگلوں کی سورنیاں‘‘ ہیں اور یہ خود ’’ولد الحرام‘‘ ہیں ۔‘‘ آپ مرزا ناصر سے پوچھیے کہ یہ عبارت غلط ہے؟۔ بھٹوصاحب! مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی کو معاف نہیں کیا ، اس میں تم بھی آگئے ہو اور ہم بھی۔‘‘

چنانچہ بھٹو نے ( آنجہانی) مرزا ناصر سے پوچھا: ’’ کیا عبارت ٹھیک ہے؟‘‘ مرزا ناصر نے کہا : ’’ جی ہاں!‘‘بھٹو نے پوچھا : ’’ تم بھی اسے مانتے ہو!‘‘ مرزا ناصر نے جواب دیا :’’جی ہاں!‘‘ ۔

مفتی محمود صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اس وقت مرزا ناصر بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پانی بھی پیئے جارہا تھا ۔ بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ’’یہ بہت بے ایمان ہے ، ہمیں صاف گالیاں دی جارہی ہیں ۔‘‘

اب جب بحث شروع ہوئی تو مفتی محمودصاحبؒ نے فرمایا: ’’ اب باقی کیا رہ گیا ہے؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے ۔‘‘ اس طرح مرزا ناصر کو شکست فاش ہوئی اور بھری اسمبلی میں وہ مفتی صاحب کے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہ دے سکا ۔

اس کے بعد مفتی محمود صاحبؒ بر سر مطلب آئے اور فرمایا : ’’ اب سب مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ یہ کافر ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ۔ اب تم بھی مان لو!۔‘‘اس پر کافی لے دے ہوئی ۔ مفتی محمود صاحب ؒ فرماتے ہیں : ’’ رات کا ایک بج گیاتھا ، اور بھٹو صاحب بضد رہے کہ’’ کافر تو لکھوالو مگر غیر مسلم نہ لکھواؤ ‘‘ ہم رات ایک بجے غصہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ : اچھا اب صبح ہونے دو،دیکھو! پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘جب ہم دروازے میں آگئے تو بھٹو نے پیچھے سے بھاگ کر ہمیں پکڑ لیا اور کہنے لگا : ’’ مفتی صاحب! آؤ! جیسا آپ کہتے ہیں ویسا ہی لکھ دیتا ہوں‘‘ بالآخر بھٹو نے ہمارا مطالبہ مان لیا اور قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دے دیا گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرلیا گیا کہ قادیانی کلیدی آسامیوں پر فائز نہیں رہیں گے ، یہاں تک کہ قادیانیوں کو اسامیوں سے الگ کروانے کا کام شروع ہوگیا۔ ہم نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ بھٹو نے دستخط کردیے ، پھر تمام ارکانِ اسمبلی نے باری باری اپنے اپنے دستخط کیے ٗ اوراس طرح متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قومی اسبلی میں قرار داد منظور ہوگئی۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں