اللہ کی مخلوق

ایک جج نے اپنا واقعہ سنایا : ” میں ایک جگہ سیشن جج لگا ہوا تھا . ایک کیس آیا ،ایک ملزم میرے سامنے پیش کیا گیا جس پر قتل کا الزام تھا‘ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے .

مگر وہ تھا بہت معصوم شکل ،اور روتا اور چیختا بھی تھا کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا. اس کی معصومیت سے یہ پتہ چلتا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن ثبوت یہ بتاتے تھے کہ اس نے قتل کیا ہے.میری زندگی کا تجربہ تھا ،میرے تجربات اور اس کی معصومیت یہ بتا تی تھی کہ اس نے قتل نہیں کیا. اس لیے میری کوشش یہ شروع ہوگئی کہ اس کو بچالوں.

اسی کوشش میں تقریباً تین مہینے میں نے اس فیصلے کو لمبا کیا لیکن میری کوشش ناکام رہی. میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتا میں سوچتا رہتا تھا. میری زندگی کا کوئی یہ عجیب فیصلہ تھا. آخر کار میں نے اس کو سزائے موت لکھ دی.دوسرے دن اس کو سزائے موت ہونی تھی میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے قتل کیا ہے؟کہنے لگا ،جج صاحب میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا. میں نے کہا ،تم نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ،صاحب جی میں نے ایک گناہ کیا ہے، مجھے یاد آگیا ہے، وہ یہ کہ میں نے ایک کتیا کو بڑی بے دردی سے مارا تھا اور وہ مرگئی تھی، بس وہ قتل میں نے کیا ہے. میں فوراً چونک پڑا، اور اسے کہا، تبھی تو جب سے تمہارا کیس میرے پاس آیا ہے، آج تین مہینے ہوگئے ہیں،

روزانہ جب میں گھر جاتا ہوں تو ایک کتیا میرے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہے اور اپنی زبان میں مجھ سے انصاف کا کہتی ہے.” جج صاحب نے بتایا کہ دوسرے دن اس شخص کو پھانسی ہوگئی اور مجھے سبق ملا ،وہ یہ کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم کرنے والے کو اللہ ضرور سزا دیتا ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں. ہماری نظر میں جو مخلوق حقیر اور نجس ہے لیکن بنانے والے کو وہ مخلوق کتنی پیاری ہے.

اﷲ پاک ان مہلک چیزوں سے بچائے

نبی پاک ﷺ محسن انسانیت ہیں جنہوں نے زندگی بسر کرنے کابہترین طریقہ بتادیا،جن کاموں سے امت کومنع کیااب امت کاکام ہے ان کاموں سے بچناجولوگ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کواپناتے ہیں ان میں انہیں کامیابیاں ہی کامیابیاں ملتی ہیں اور جوعمل کی کوشش نہیں کرتے غیروں کے طریقوں کواپناتے ہیں ناکامیاں پھر ان کامقدر بن جاتی ہیں آپ نے حدیث ذیل میں سات ہلاک کر دینے والی چیزیں بتائی ہیں اب امت کاکام ہیں ان چیزوں سے اجتناب کرے نہیں کرے گی توہلاکت مقدر بن جائے گی آئیے حدیث پاک پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا(1) اﷲ کے ساتھ شرک کرنا(2) جادو کرنا(3) کسی جان کو ناحق قتل کرنا (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا(6) لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور(7)بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا(بخاری ومسلم)
(1) اﷲ تعالی کے ساتھ شرک کرنا
شرک کے معنی ہیں کہ خد اکی ذات یا صفات میں اور اس کی عبادت وبندگی میں کسی دوسرے کو کم وبیش وساجھی ٹھہرانا، شرک توحید کی ضد ہے یہ سب سے بڑا گناہ اور کفر کے مترادف ہے ۔اﷲ پاک کا ارشاد ہے ترجمہ:یعنی بلاشبہ شرک بہت بڑا گناہ ہے(لقمان)
دراصل اسلام میں عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر تمام اعمال کی جزا اور سزا کا انحصار ہے اگر عقیدہ شرک سے پاک وصاف ہے تو اعمال کوتاہیوں اور لغزشوں کی بخشش اور معافی کی پختہ امید اﷲ تعالی سے رکھنی چاہئے ، لیکن اگر عقیدے میں شرک کی آمیزش ہے تو پھر پہاڑوں کے برابر نیکیاں بھی کسی کام نہیں آئیں گی۔شرک کرنے والے یعنی مشرک کی خدا کے یہاں مغفرت ہرگز نہیں ہوسکتی ہے اﷲ تبارک وتعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ: یعنی اﷲ مشرک کو ہرگز نہیں بخشے گا اور ا سکے سوا جس کو چاہے گا بخش دے گا (نسا ء)
الغرض شرک بہت بری بلا ہے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے لیکن شرک ناقابل معافی گناہ ہے مشرک پر جنت حرام ہے اور ا سکا ابدی ٹھکانہ جہنم ہے۔
حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا لوگو!شرک کرنے سے بچو کیونکہ شرک عظیم ترین گناہ ہے (ابوداؤد)
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہاجو اﷲ چاہے اور تم چاہو ۔آپؐ نے فرمایا کیا تم نے مجھے اﷲ کا شریک بنادیا؟ اس طرح کہا کرو، جو اکیلا اﷲ چاہے (احمد)نیز آپ ﷺ نے فرمایا جس نے غیر اﷲ کی قسم کھائی اس نے (کفر یا)شرک کیا۔(ترمذی ، حاکم)
(2)جادو کرنا۔۔۔
اسلام جادو کا سخت مخالف ہے۔ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ:۔ مگر وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو ان کے حق میں مفید نہیں بلکہ مضر تھی(البقرہ )
نبی ﷺ نے جادو کا شمار مہلک اور کبیرہ گناہوں میں کیا ہے جو افراد ہی کو نہیں قوموں کو بھی ہلاک کردیتا ہے اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں تباہی لاتا ہے۔ قرآن نے جادو گروں کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ ترجمہ:۔ اور پناہ مانگتا ہوں میں گرہوں میں پھونکنے والوں (نفوس)کے شر سے(سورۃالفلق)
گرہوں میں پھونکنا جادو کے طریقوں اور اس کی خصوصیات میں سے ہے۔ جادو کے بارے میں اﷲ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ترجمہ:۔ البتہ شیطان ہی کفر کیا کرتے تھے وہ لوگوں کو سحر (جادوگری)کی تعلیم دیتے تھے(سورہ بقرہ )
حضرت ابن عباس سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ حاصل کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کیا (اس حساب سے)جتنا علم نجوم زیادہ سیکھا تو اس نے اتنا ہی جادو کا علم زیادہ سیکھا (ابوداؤد نے صحیح سند سے روایت کیا)نجومیوں ، کاہنوں، اور دست شناسوں کی تصدیق کرنے والے خوب یاد رکھیں کہ ان کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا باتیں فرمائی ہیں۔
حضرت صفیہ بنت ابی عبید ،بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی اعراف (یعنی غیبی امور کے جاننے کے دعویدار)کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کی بابت پوچھے اور اس کو سچ مانے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی(مسلم)
اسلام نے جس طرح نجومی کے پاس غیب اور راز کی باتیں معلوم کرنے کی غرض سے جانا حرام ٹھہرایا ہے اسی طرح جادو سیکھنے یا جادوگروں کے پاس کسی مرض کے علاج یا کسی مشکل حل کرنے کے لئے جانا بھی حرام قرار دیا ہے رسول اﷲ ﷺ نے اس سے اپنی برات ظاہر کرتے ہوئے فرمایا ․ترجمہ:۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو براشگون لے یا جس کے لئے برا شگون لیا جائے یا جس کے لئے کہانت کی جائے یا جادو کرے یا جادو کرائے(البزار)
آج یہ بیماری ہمارے ملک پاکستان میں بہت زیادہ ہوتی جارہی ہے پڑھے لکھے لوگ اس میں مبتلاء ہوتے جارہے ہیں اﷲ پاک سب مسلمانوں کی اس سے حفاظت فرمائے (آمین)
(3)کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔۔۔
ناحق کسی کو قتل کرنے کے بارے میں اﷲ تعالی کا ارشاد ہے
ترجمہ:۔ اور اﷲ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں پکارے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اﷲ تعالی نے منع کردیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا (فرقان )
حق کے ساتھ قتل کرنے کی تین صورتیں ہیں اسلام کے بعد کوئی دوبارہ کفر اختیار کرے جسے ارتداد کہتے ہیں ، یا شادی شدہ ہوکر بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کردے ان صورتوں میں قتل کیا جائے گا۔
ایک مرتبہ حجۃالوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور ہاتھ سے تمام لوگ سلامت رہیں اور تمہارے خون اور مال اور آبرو تم پر سب حرام ہیں۔(بخاری)
اسلام نے انسانی زندگی کو مقدس اور انسانی جانوں کو محترم ٹھہرایا ہے ۔ انسانی جان پر زیادتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ترجمہ:۔ کہ جس نے کسی کو قتل کیا بغیراسکے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کردیا (المائدہ)
یہ بیماری بھی عام ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ قتل وقتال تک نوبت آجاتی ہے آج بھائی بھائی کادشمن بنابیٹھاہے یہ بھی خداکی ناراضگی کی علامت ہے اﷲ پاک حفاظت فرمائے (آمین)
(4)سود کھانا۔۔۔
سود کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے ۔ترجمہ:۔ اے ایمان والو!اﷲ سے ڈرو اور جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم مومن ہو، لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اگر تم توبہ کرلو تو زرِ اصل لینے کا تمہیں حق ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے(سورۃ البقرہ)
رسول اﷲ ﷺ نے سود اور سود خوار دونوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور واضح فرمایا کہ سود سماج کے لئے نہایت خطرناک ہے۔
نبی پاک ﷺ کاارشاد ہے کہ اﷲ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، گواہ بننے والے اور کاتب سب پر لعنت فرمائی ہے۔(احمد ، ابوداؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ)
(5)یتیم کا مال کھانا۔۔۔
اسلام میں کسی کا مال بھی ناحق اور ناجائز طو رپر کھانا حرام ہے اور یتیم کے بارے میں تو اﷲ تعالی کا ارشاد ہے۔ ترجمہ:۔بے شک وہ لوگ جو ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں تو وہ یقینا اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں اور عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے(سورہ نسا ء)
اﷲ تعالی کاایک اور ارشاد ہے ۔ترجمہ:۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو(سورہ انعام )
یتیم کا مال کھانے اور اس کو پینے سے خاص طو رپر بچنے کی تاکید کی گئی ہے کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ ۔ یتیم کا مال کھانا اور پینا تو بہت دور کی بات ہے کیونکہ یتیم کا مال ناحق کھانا جہنم کی آگ کھانے کے برابر ہے۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: ۔ یہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ان سے کہہ دیجئے ان کی اصلاح کرنی بہتر ہے اور اگر تم ان کو (خرچ میں)اپنے ساتھ ملالو تو وہ تمہارے ہی بھائی ہیں اور اﷲ جانتا ہے خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون ؟(سورۃ البقرہ )
(6)لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔۔۔
جہاد کے متعلق اﷲ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ:۔ اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اﷲ تعالی دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا تم اﷲ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اﷲ ہر چیز پر قاد رہے۔(سورۃ توبہ)
اﷲ تعالی کا فرمان ہے۔ترجمہ:۔ تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہارے لئے ناگوار ہے اورکچھ تعجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(سورۃ البقرہ )
حضرت ابوذر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اﷲ کون ساعمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اﷲ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا (بخاری ،مسلم)
آج ہمارء لیے افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان صرف میدان جہاد ہی سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی منہ موڑے ہوئے ہیں۔
(7)بھولی بھالی پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا۔۔۔
ایمان دار اور مومنہ عورتوں پر الزام لگانے کے بارے میں اﷲ تعالی اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ:۔جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے ۔(سورۃ نور)
سابق راوی ہی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنے مملوک (غلام، باندی)پر بدکاری کی تہمت لگائے تو قیامت والے دن اس (مالک)پر حد قائم کی جائے گی مگر یہ کہ وہ (مملوک)ایسی ہی ہو جیسے اس نے کہا (پھر مالک پر حد نہیں ہوگی)(بخاری، مسلم)
یہ سارے کبیرہ گناہ ہیں تاہم ان میں شرک سب سے بڑا ہے کیونکہ وہ کبھی معاف نہیں ہوگا اور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہے گا اس کے برعکس دوسرے کبیرہ گناہ اگر اﷲ چاہے گا تو معاف فرمادے گا ، بصورت دیگر اس کے مرتکب کو جہنم کی سزا بھگتنی پڑے گی، لیکن اس سزا کے بعد اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائیگا اگر وہ مومن ہوگا۔
ان تمام گناہوں سے بچنے کے لیے شاعر کاپیاراکلام میری زبان پر دعاکی صورت میں آگیا
گناہوں کی عادت چھڑامیرے مولا
مجھے نیک انساں بنامیرے مولا
جوتجھ کوجوتیرے نبی کوپسند ہے
مجھے ایسابندہ بنامیرے مولا
اﷲ ہم سب کو ان تمام کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور صغیرہ سے بھی بچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)

اپنا تبصرہ بھیجیں