اور اسے جاب مل گئی

عابد کافی عرصے سے بہت پریشان تھا اور گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر علیحدہ رہ رہا تھا. برا وقت چل رہا تھا کہ اس کی اپنے باس سے بھی لڑائی ہو گئی اور جاب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا.

کافی دنوں سے وہ ایک سستے سے ہاسٹل میں زندگی بسر کر رہا تھا اور اپنے کپڑے تک خود دھو رہا تھا. ایک دن اس کے باس کو خبر ہوئی کہ اس کے حالات اتنے پتلے ہیں کہ بیچارہ گلیوں سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے اور اسے رہ رہ کر عابد کا خیال آنے لگا کہ بیچارہ اللہ جانے کیسے گزارہ کر رہا ہو گا. اس نے عابد کو آفس میں بلوایا اور اسے بتایا کہ وہ پھر سے اپنی جاب شروع کر سکتا ہے. عابد بہت خوش ہوا. اس نے عابد کو سپلائیز کے لیے کچھ پیسے دیے پیسے دیے اور بولا کہ سامان لے کر سیدھا آفس آ جائے. عابد کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے وہ سارے پیسے اپنی ذاتی اشیاء خریدنے پرخرچ کر دیے.

جب وہ رات تک آفس نہ لوٹا تو اس کے باس کو اس پر شدید غصہ آیا. وہ سمجھ گیا کہ عابد اتنا غیر ذمہ دار ہے پھر پیسے کہیں ضائع کر دیے ہوں گے . لیکن وہ ایک نیک آدمی تھا اس نے عابد کو اگلے دن فون کیا، ڈر کے مارے عابد اس کی کوئی کال نہیں اٹھا رہا تھا. لیکن اس کا باس اسے روز کال کرتا رہا اور اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس بے وقوف کو اپنی زندگی برباد نہیں کرنے دینی. اللہ واسطے اس نے عابد کو پھر سے آفس بلایا اور اس سے ان پیسوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور عابد کو مزید پیسے دے کر اس پر اعتبار کر کے اس کو سپلائیز لانے کے لیے بھیج دیا. عابد بہت شرمندہ ہوا اور اس کا ضمیر اسے مسلسل ملامت کر رہا تھا، اس نے جا کر سارا ضروری سامان خریدا اور آفس وقت پر پہنچ گیا. اس کی اس دفعہ کی کارکردگی دیکھ کر اس کا باس بہت خوش ہوا اور سمجھ گیا کہ عابد اب اپنی اصلاح کی راہ پر گامزن ہے اور آئندہ صرف اپنی بہتری کی سعی کرے گا. کہتے ہیں کہ اللہ اس پر رحم کرتا ہے جو اس کی مخلوق پر رحم کرتے ہیں. اپنے دل کو کبھی سخت نہ کرو اور دوسرے لوگوں سے کبھی بھی نا امید مت ہو. اکثر وہ بچے جن کو گھر والے ہر وقت پابندیوں میں جکڑے رکھتے ہیں اور گھر کی چار دیواری میں قید رکھتے ہیں، جب ان کو موقع ملتا ہے تو وہ شدید ترین بغاوت کرتے دکھائی دیتے ہیں

. اسی کے برعکس جو لوگ اپنے بچوں کو مکمل آزادی دیتے ہیں، ان کے بچے ہر طرح کا غلط کام ہوتے دیکھ دیکھ کر خود ایسی چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں. جب آپ یہ جانتے ہیں کہ کسی اور نے آپ پر اعتبار کیا ہوا ہے تو آ پ کا ضمیر آپ کو راہ سے ہٹنے نہیں دیتا. یہ ایک عام سی بات ہے کہ ا نسان جس سے بہت امیدیں لگاتا ہے، وہ اس کی امیدوں پر ہمیشہ پورااتر تا ہی ہے.لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کرنا سیکھیں اوریاد رکھیں کہ اللہ محسن کو بہت پسند کرتا ہے.ا

اسلام کے خلاف خطرناک سازشیں

از افادات:حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

یہ رپورٹ چھپی ہے کہ مسٹر ہمفرے ؛ جس نے عرب میں کام کیا ہے اور سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کی ذمہ داری جس کو سونپی گئی تھی۔ چار ہزار جاسوسوں کے ساتھ لارینس آف عربیہ عرب میں داخل ہوا تھا۔ اور جب ان کو عرب میں بھیجا گیا تو ان کو جو کام دیا گیا کرنے کا اُس کو ذرا غور کیجیے کہ ان کی چالیں کتنی باریک ہوتی ہیں۔

مسٹر ہمفرے نے اپنی یاد داشتیں مرتب کیں؛ لکھیں۔ اور آج بھی کیلیفورنیا کی یونی ور سٹی میں وہ تھیسس موجود ہے؛ پڑی ہوئی ہے۔ اس کا کچھ ترجمہ بھی ہمارے یہاں ہند و پاک میں دستیاب ہے۔ کچھ اس کے Chapter کا ترجمہ یہاں ملتا ہے ۔اس کا عنوان غالباً رکھا ہے ’’مسٹر ہمفرے کی یاد داشتیں‘‘ (ہمفرے کے اعترافات)اس طرح ترجمہ دستیاب ہے۔ آپ کی مارکیٹ سے مل جاتا ہے۔ اس میں وہ کہتا ہے کہ مجھے سولہ ۱۶؍ چیزوں پہ کام کرنے کی ذمہ داری لگائی گئی تھی۔ ان میں سے ایک کام یہ تھا کہ ’’جعلی سادات‘‘ پیدا کیے جائیں۔

اب عام بندہ سوچے گا کہ اس سے کیا ان کو فائدہ تھا؟کہ جعلی سادات پیدا کیے جائیں۔ تو جعلی سادات پیدا کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ … فائدہ یہ ہوگا کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ سادات سے، علما سے جُڑے ہوئے ہوتے تھے۔ اور زیادہ تر علما سادات ہوتے تھے۔ اور لوگ سادات سے، پیرانِ عظام سے، علما سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ اور ان سے جڑنے کی وجہ سے ان کا دین محفوظ ہوتا تھا۔ آج کل تو لوگ علما کو، پیرانِ عظام کو گالیاں دیتے ہیں اور اس کا بہت بڑا سبب ان کے اپنی کرتوتے ہیں۔ چوں کہ لوگ ان کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان کی وابستگی کی وجہ سے دین میں رسوخ اور پختگی ہے۔ تو اب جعلی سادات پیدا ہوں گے تو لوگ ان کے قریب بھی سید سمجھ کے جائیں گے؛ لیکن وہ ہوگا تو سید نہیں۔ تو ظاہر ہے کہ جب لوگوں کی محبتیں ملے گی، پیسہ ملے گا ، عقیدتیں ملے گی، لوگوں کے گھروں میں آنا جانا ہوجائے گا۔ تو چوں کہ اس کا خون تو خونِ رسول نہیں ہوگا ۔ تو ایسی حرکتیں کرے گا کہ پھر لوگ بدظن ہوجائیں گے۔ اور جب لوگ ان جعلی سادات سے بدظن ہوجائیں گے؛ تو پھر دین سے بدظن ہوجائیں گے۔ اور ایک سے بدظن ہوجائیں گے تو پھر باقیوں سے بھی ہوجائیں گے۔ … ہمفرے کہتا ہے کہ میرے ذمہ جو سولہ سترہ کام کرنے کے لیے لگائے ؛ ان میں سے ایک کام یہ تھا کہ جعلی سادات پیدا کیے جائیں۔

یہاں برصغیر میں جب انگریز آیا؛ اس نے دیکھا کہ یہاں کے علما پگڑی باندھتے ہیں ان پر شملہ ہوتا تھا یا مختلف اسٹائل جو پگڑی کے ہیں۔ اور یہاں کے جو سردارانِ قوم تھے وہ بھی باندھتے تھے۔ یہاں پنجاب کا کلچر بھی تھی۔ اب وہ آکے حکم نامہ دے دیں کہ پگڑیاں اتاروں ۔ تو دینی، مسلکی اور مذہبی Issue ہوجائے گا۔ اس کے لیے مشکلات کھڑی ہوں گی۔ اس نے بالکل کسی سے نہیں کہا کہ پگڑیاں اتارو۔ اس نے کیا کیا؟ کہ یہ جو سنتری تھے ان کو کُلاہ بندھوادیا۔ جو باجے بجانے والے تھے ان کو کُلاہ بندھوا دیا۔ جو ڈھول بجانے والے تھے ان کو پگڑی پہنادی۔ شادی کا موقع آیا تو جو بیرے تھے؛ کھانا تقسیم کرتے تھے؛ ان کو پگڑیاں بندھوادی۔ اب مجھے بتاؤ! ایک شادی میں بیروں نے پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں، باہر جو سنتری کھڑا ہے اس نے پگڑیاں باندھی ہیں ، اب کوئی مہمان یا عالم یا کوئی سردار پگڑی باندھ کے آتا ہے تو پھر ان کا شمار تو ان کے ساتھ ہوگا۔ تو وہ محسوس کرے گا کہ یہ میری ہتک ہے؛ تو دوبارہ ایسی تقریب میں آئے گا تو پگڑی اتار کے آئے گا۔

یہ ایک منصوبہ تھا ؛ اسلامی شعار چھیننے کے لیے۔ اس طرح کے کتنے کام کیے ہیں۔ آپ دیکھیں ان نوے سالوں کے اندر وہ ہمارے ساتھ کیا کر گئے۔ ہمارا کلچر برباد کر گئے۔ ہماری تہذیب لوٹ گئے۔ اور سینے حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی کرنے کی سازش کرتے گئے۔ اور کیا کچھ انہوں نے کیا۔ یہ تو اللہ کا کرم ہوا کہ اللہ نے کچھ لوگوں کے دل میں ڈال دیا کہ ان سے جلدی جان چھڑائی جائے۔ اور وہ نوے سال کے اندر اندریہاں سے چلے گئے۔اگر اور کچھ سال ہوتے تو کچھ باقی ہی نہ ہوتا۔

بلکہ ایک وفد آیا تھا انگلستان سے؛ عیسائی مشنریوں کا۔ اور ان کو یہاں ہندستان میں Task دیا گیا کہ یہاں تم لوگوں کو عیسائی بناؤ۔ یہاں انہوں نے کچھ دن کام کیا۔ اور اس زمانے میں ان پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے ۔ واپس جاکے جب ان سے رپورٹ لی گئی کہ تم نے کتنے لوگوں کو عیسائی بنایا؟ تو انہوں نے کہا ایک کو بھی نہیں بنا سکے۔ تو ان سے کہا گیا کہ ہم نے اتنا پیسا تم پر لگایا ہے، تم اتنے سال وہاں رہے بھی ہو۔ اور تم کسی ایک شخص کو بھی عیسائی نہیں بنا سکے! کیا فائدہ تمہارا ؟ انہوں نے کہا مالک ! پوری رپورٹ سن لو نا! ہم کسی ایک شخص کو بھی عیسائی نہیں بنا سکے لیکن کئیوں کو ہم نے مسلمان بھی نہیں رہنے دیا۔ یعنی ہم یہ تو نہیں کرسکے کہ کسی کو عیسائی بنادیں؛ لیکن ہم نے ان کو مسلمان بھی نہیں رہنے دیا۔

اب کتنے لوگ ہیں جو درمیان میں معلق ہوگئے۔ مذہب میں رہتے ہوئے بھی مذہب بیزار۔ دین میں رہتے ہوئے بھی دین بیزار۔ اب وہی کام ہمارے میڈیا کے ذریعے سے کیا جارہا ہے۔ علما کو ادا کار بنایا جارہا ہے؛ اداکاروں کو علما بناکر پیش کیا جارہا ہے۔مجھے بتاؤ اس کا کیا مطلب ہے؟ جو جعلی سادات پیدا کرکے کام حاصل کرنا تھا ؛ اب وہی کام اس طرح کیا جارہا ہے کہ جن کو دین کی ابجد بھی معلوم نہیں ہے وہ وہاں میڈیا پر مسئلے بتارہے ہیں۔ طلاق کے، خلع کے اور دیگر امور پر۔اور پھر علما کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھایا جارہا ہے۔ یہ ساری سازشیں ہیں ۔ بڑی باریک چالیں ہوتی ہیں۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں