پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پٹھا نوں کو نسوار کا کاروبار بند کرنے کے لیے 31مارچ کی ڈیڈ لا ئن دے دی

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پٹھا نوں کو نسوارکا کاروبار بند کے لیے 31مارچ کی ڈیڈ لا ئن دے دی تفصیل کے مطا بق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے نسوار سمیت تمبا کو سے بننے والی مضر صحت اشیاء کے بنا نے اور فروخت پر مکمل پا پندی لگا دی نسوار کا کاروبار کر نے والوں کو 31مارچ تک کی ڈیڈ لا ئن نسوار کے ایجنسی ہولڈرز اور بنا نے والے اپنے اس کاروبار کو کسی دوسرے کارو بار پر منتقل کر لیں تمام بڑے ڈیلر اور فیکٹر یوں کو نوٹس جا ری فوڈ اتھارٹی کی طرف سے نسوار پر لگا ئی جا نے والی اس پابندی سے لا کھوں پٹھان اس کی زد میں آئیں گے پٹھان اتحاد کے ذمہ داروں نے پنجاب حکو مت سے مطا لبہ کیا کہ الیکشن کی آمد آمد ہے ایسے فیصلوں پر نظر ثا نی کی جا ئے اور لا کھوں پنجاب کی رہا ئشی پٹھا نوں کو بے روزگار ہو نے سے بچا یا جا ئے اور نہ ہی پختو نوں کو اس نعمت سے محروم کیا جا ئے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

13 صفریوم وفات ……امام نسائی رحمۃ اﷲ علیہ

’’نساء‘‘ سرخس کے قریب خراسان کا ایک مشہور شہر ہے جس کو کسی زمانے میں فیروز بن یزدجر نے آباد کیا تھا ۔ امام نسائیؒ ۲۰۵ ؁ھ کو اسی شہر میں پیدا ہوئے ۔ بعض علماء نے آپ کا سن پیدائش ۲۱۴ ؁ھ بتایا ہے مگر ’’تہذیب‘‘ میں خود امام نسائیؒ کی زبانی منقول ہے کہ : ’’میرے اندازے کے مطابق میری پیدائش ۲۱۵ ؁ھ میں ہوئی ۔

امام نسائیؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر کے نامور علماء اور مشائخ سے حاصل کی اور اس کے بعد ۳ ۲۰ ؁ھ میں جب کہ آپ کی عمر مبارک ۱۵ برس کی ہوئی تو آپ سب سے پہلے سعید بن قتیبہ کی خدمت میں طلب علم کی غرض سے سفر کرکے گئے اور ان کی خدمت میں ایک سال اور دوماہ قیام کیا ، اس کے بعد دوسرے شیوخ و اساتذہ سے استفادہ کرنے کے لئے دنیائے اسلام کے مختلف حصوں ٗ خراسان ، عراق ، حجاز ، جزیرہ ، شام اور مصر وغیرہ بہت سے شہروں کی خاک چھانی اور دسیوں ارباب علم و فضل ٗ اسحاق بن راہویہ ، محمد بن نصر ، علی بن حجر ، یونس بن عبد الاعلیٰ محمد بن بشار ، امام ابو داؤد سجستانی وغیرہ جیسے ارباب علم و فن حدیث سے استفادہ کیا ۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے امام بخاریؒ کو بھی آپ کے اساتذہ کی فہرست میں شمار کیا ہے ، نیز امام ابو زرعہ دمشقیؒ اور امام ابو حاتم رازی ؒسے بھی آپ کی روایت حدیث ثابت ہے۔

امام نسائیؒ نے مصر کو اپنے علوم و و فنون کی نشر و اشاعت کا مرکز بنایا اور مصر ہی میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرلی ۔ چنانچہ آپ کی تصانیف دیارِ مصر ہی میں پھیلیں اور بہت سے لوگوں نے آپ سے کسب فیض کیا اور حدیث کی روایت کی ۔چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے آپ کے تلامذہ کی ایک طویل فہرست نقل کرنے بعد لکھا ہے کہ : ’’ آپ کے تلامذہ کی تعداد ضبط تحریر میں لانا مشکل ہے ۔‘‘ تاہم چند مشہور تلامذہ کے نام یہ ہیں: ’’ صاحب زادہ عبد الکریم ، ابوبکر بن احمد ابن السنی ، ابو علی حسن بن خضرا سیوطی ، حسن بن شبق عسکری ، ابو القاسم حمزہ بن محمد بن علی کنانی ، ابو الحسن محمد بن عبد اﷲ ، محمد بن معاویہ ، محمد بن قاسم اندلسی ، علی بن جعفر طحاوی ، احمد بن محمد بن مہندس اور ابو بشر دولابی وغیرہم ۔( ظفر المحصلین باحوال المصنفین)

قدرت نے جس طرح امام نسائیؒ کو باطنی خوبیوں سے مالا مال کررکھا تھا اسی طرح ظاہری خوبیوں سے بھی آپ کو وافر حصہ عطاء فرما رکھا تھا ۔ چنانچہ ایک طرف جہاں آپ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت اور خشیت و ﷲیت میں ضرب المثل تھے ۔ صوم داؤدی ( یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے ) پر کاربند رہتے ، رات دن کا اکثر و بیشتر حصہ عبادت میں گزار دیتے اور اکثر و بیشتر حج بیت اﷲ کیا کرتے تھے۔تو دوسری طرف آپ بڑے وجیہ و شکیل بھی تھے ۔ چہرہ نہایت پر شکوہ اور روشن تھا اور رنگ سرخ و سفید ( گلابی) تھا ، یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی آپ کے حسن اور آپ کے بدن اور چہرے پر شادابی اور ترو تازگی کے آثار نمایاں طور پر جھلکتے دکھائی دیتے تھے ۔

کھانا نہایت ہی عمدہ قسم کا تناول فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ مرغ لاتے ، اسے پالتے، اسے خوب کھلا تے پلاتے اور پھر اسے ذبح کرکے تناول فرماتے تھے ۔ بلکہ حافظ ابن کثیر نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ : ’’ ہر روز (دیسی) مرغ کھاتے تھے اور اس کے بعد نبیذ ( کھجوروں کا شربت) پیتے تھے۔‘‘ آپ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں اور ہر ایک کے پاس ایک رات گزارتے تھے ۔ ان کے علاوہ دو لونڈیاں بھی تھیں ۔لیکن آپ کی اولاد میں صرف ایک صاحب زادے ’’عبد الکریم‘‘ کا نام معلوم ہوسکا۔

امام نسائیؒ کے علم و فضل اور مقام و مرتبہ کا اعتراف چوٹی کے علماء کو رہا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن خلکان فرماتے ہیں کہ : ’’آپ اپنے زمانے میں فن حدیث کے امام مانے جاتے تھے ۔‘‘ ابو سعید عبد الرحمن تاریخ مصر میں لکھتے ہیں کہ : ’’ فن حدیث میں آپ ٗ امام ، ثقہ ( معتبر ) اور حافظ الحدیث کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔‘‘ امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ : ’’ امام نسائی( بجز شیخین کے) اپنے زمانے کے باقی تمام محدثین سے بلند اور اونچے درجے کے تھے ۔‘‘ امام حاکمؒ فرماتے ہیں کہ : ’’ میں نے امام دار قطنی ؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ’’ امام نسائیؒ ٗ جرحِ رُواۃ ، فن حدیث ، فن تنقید اور احتیاط میں اپنے معاصرین سے کہیں زیادہ فائق تھے ۔‘‘ علامہ ابن الحداد شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں اپنے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان امام نسائی ؒ کو واسطہ بنا چکا ہوں ۔‘‘

ناقدین فن علم حدیث کے نزدیک جلالت علمی کے اعتبار سے امام نسائیؒ کا پایہ امام مسلم ؒ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’فن رجال میں ماہرین فن کی ایک جماعت کی ان (امام نسائیؒ ) کو امام مسلم بن حجاجؒ پر بھی فوقیت دی ہے اور دار قطنیؒ وغیرہ نے ان کو اس فن اور دیگر علوم حدیث میں امام ائمہ ابوبکر بن خزیمہؒ صاحب الصحیح پر بھی فوقیت دی ہے۔‘‘( ہدی الساری مقدمہ فتح الباری)

مشہور حافظ الحدیث علامہ شمس الدین ذہبی ؒ امام نسائیؒ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ : ’’امام نسائی ٗحدیث ، علل حدیث اور علم الرجال میں امام مسلمؒ ، امام ترمذی ؒ اور امام ابو داؤدؒ سے زیادہ ماہر ہیں اور امام بخاریؒ اور امام ابوزرعہ دمشقی ؒ کے ہم سر ہیں۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء)

علامہ تاج الدین سبکی شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے اپنے شیخ حافظ ابو عبد اﷲ ذہبیؒ سے سوال کیا کہ آیا امام مسلم بن حجاج ؒ حدیث کے زیادہ حافظ ہیں یا امام نسائیؒ؟ ‘‘ تو انہوں نے فرمایا کہ : ’’ امام نسائیؒ ۔‘‘ پھر شیخ ( حافظ تقی الدین سبکیؒ ) سے اس کا ذکرہ کیا تو انہوں نے اس کی موافقت کی۔‘‘ ( طبقات الشافعیہ الکبریٰ)

امام نسائیؒ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں : (۱) سنن کبریٰ یعنی نسائی شریف (۲) کتاب الضعفاء و المتروکین (۳) کتاب الجمعہ (۴) عمل الیوم و اللیلۃ (۵) کتاب المدلسین (۶) کتاب الاسماء والکنٰی (۷) مسند علی ؓ (۸) مسند منصور بن زاذان (۹) خصائص علی ؓ (۱۰) سنن صغریٰ (۱۱) اغراب شعبہ علیٰ سفیان و سفیان علیٰ شعبہ ۔

نسائی شریف میں امام نسائی نے امام بخاری ؒ و مسلمؒ کی طرح صرف صحیح الاسناد روایات ہی کو لیا ہے ۔ آپ کی یہ تصنیف بخاری و مسلم دونوں کے طریقوں کو جامع سمجھی جاتی ہے اور علل حدیث کا بیان اس پر مستزاد ہے ۔ اس کے ساتھ حسن ترتیب اور جودت تالیف میں بھی ممتاز ہے ۔( ظفر المحصلین باحوال المصنفین)

کہا جاتا ہے کہ امام نسائیؒ نے مؤرخہ ۱۳ صفر المظفر ۳۰۳ھ کو پیر کے روز مکہ معظمہ پہنچنے پر جب کہ ایک دوسری روایت کے مطابق مکہ معظمہ جاتے ہوئے راستہ میں بہ مقام شہر ’’رملہ‘‘ (موجودہ فلسطین) میں بہ عمر ۸۸ سال داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور پھر وہاں سے آپ کی نعش مبارک مکہ معظمہ پہنچائی گئی اور پھر وہیں مکہ معظمہ میں آپ کا جسد خاکی ’’صفا مروہ ‘‘ کے درمیان سپردِ خاک کیا گیا ؂
مقدور ہوتو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
تونے وہ ’’گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟؟