تانبے کے برتنوں میں پانی پینے کے ایسے فوائد کے آپ بھی

پہلے زمانہ سے لوگ چمڑے کے برتنوں ، مٹی تانبے ، میں پانی کو جمع کرتے اور اس سے پانی استعمال کرتے تھے لیکن آج اس کی جگہ آجکل پلاسٹک کے برتنوں نے لے لی ہیں ۔ پرانے زمانہ کے برتنوں میں رکھا پانی میٹھا و ٹھنڈا ہونےکے ساتھ جراثیم سے پاک ہوتا تھا کیونکہ اس میں قدرتی اجزاء کی موجودگی جراثیم کش ہوتی تھی ۔ شہروں میں تو ایسے برتنوں کا رواج ختم ہو چکا ہے لیکن گاؤں کے ماحول میں اب بھی ان برتنوں کا استعما ل کیا جاتا ہے

موجودہ زمانہ میں نئی ٹیکنالوجی کے بدولت پانی کو ٹھنڈا کرنا اور جراثیم سے پاک کرنا ممکن ہو چکا ہے لیکن ہمارے آباء و اجداد تابنے سے بنے ہوئے برتن استعمال کرتے اور اسی دھات کے بنے برتن سے پانی پیتے تھے کیونکہ قدرتی طور پر اس میں جراثیم کی افزائش نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں مضر صحت پھپوندی لگنے کا خطرہ ہوتا ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

قرآن و حدیث کی روشنی میں داڑھی کی شرعی حیثیت اور مقدار !

داڑھی مسلمانوں کا مذہبی اور معاشرتی شعار اور پہچان ہے اور داڑھی بڑھانے کے احکامات قرآن وحدیث میں جگہ جگہ وضاحت کے ساتھ موجود ہیں اور نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے واضح ارشادات اور ان کا اپنا طرز عمل اور حلیہ اور آنحضرت کے بعد چاروں خلفائے راشدین اورصحابہ کرام کے علاوہ تبع تابعین نے بھی داڑھی کو مرد کا زیور اور اسلامی شعار قرار دے کر خود بھی داڑھیاں رکھیں اور عام مسلمانوں کو بھی داڑھی رکھنے کا حکم دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ داڑھی کا شمار ان شعار اسلام میں کیا جاتا ہے جن کو پورا کیئے بغیر کوئی شخص خود کو سچا مسلمان نہیں کہلوا سکتا کیونکہ داڑھی منڈوانے کو مشرکین سے مشابہہ اور داڑھی رکھنے والوں کومشرکین کا مخالف گردانہ جاتا ہے ۔لیکن کیا کیا جائے کہ اس فتنہ کے دور میں اسلامی شعار کے حوالے سے جس کا جو جی چاہے کہتا پھرتا ہے حال ہی میں داڑھی کے حوالے سے مصر کے ایک عالم دین نے یہ فتویٰ دیاہے کہ ’’داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘۔ اس فتویٰ کا علم ہوا تو یہ ضرورت محسوس ہوئی کے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس بات کی تحقیق کی جائے کہ اسلامی شریعت میں داڑھی کی حیثیت،اہمیت اور مقدار کیا ہے۔

آنحضرت محمدﷺ نے داڑھی کو اسلام کا شعا ر اورتمام انبیائے کرام کی متفقہ سنت فرمایا ہے۔احادیث مبارکہ کی مشہور کتاب صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق ابن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ’’مشرکین کی مخالفت کرویعنی داڑھیوں کوبڑھاؤ اور مونچھوں کو کاٹو‘‘۔ اور ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ رویت کیئے گئے ہیں کہ’’ مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو اور داڑھیوں کو چھوڑ دو‘‘۔

ان احادیث میں داڑھی کو بڑھانے ااوراور چھوڑدینے کا حکم ہے اور رسول اﷲ ﷺ کا امر فرضیت اور واجب ہونے کے لیئے ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ کرام اور تابعین نے داڑھی رکھی اوررکھنے کا حکم دیا۔لیکن اس کے باوجود اگر ہم آج مسلمانوں کی وضع قطع اور حلیے پر نظر ڈالیں تو ہمیں داڑھی کی سنت پر عمل کرنے والے کم اور مشرکین سے مشابہت رکھنے والے ’’کلین شیو‘‘ مسلمان زیادہ نظر آئیں گے۔اس کے علاوہ جو مسلمان داڑھی کی سنت پر عمل کربھی رہے ہیں ان میں بھی داڑھی کی مقدار کے حوالے سے اختلاف پایا جاتاہے ،شعیہ فرقہ کافی چھوٹی داڑھی رکھتا ہے جو عام طور پر ایک انچ سے زیادہ لمبی نہیں ہوتی جبکہ تبلیغی جماعت والے جو ڈاڑھی رکھتے ہیں وہ بہت زیادہ لمبی ہوتی ہے جبکہ وہ اپنی مونچھوں کو بھی بلیڈ یا قنچی سے مکمل طور پر صاف کردیتے ہیں ،کچھ لوگ داڑھی اور مونچھیں کافی بڑٰی رکھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ داڑھی تو ایک مشت رکھتے ہیں لیکن مونچھیں بہت ہی ہلکی اور چھوٹی کردیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جوسنت پر عمل کرتے ہوئے ایک مشت بڑی داڑھی رکھتے ہیں اور ان کی مونچھیں چھوٹی ہوتی ہیں۔داڑھی کے ساتھ بہت زیادہ بڑی مونچھیں رکھنے کو ابھی اسلام میں منع کیا جاتاہے جس کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ ایسی مونچھیں جن کے بال اتنے بڑے ہوں کہ پانی پیتے ہوئے گلاس میں ڈوبنے لگیں وہ اسلامی شعار کے خلاف ہیں۔داڑھی منڈانا یا کتروانا اس طرح کہ وہ ایک مشت سے کم رہ جائے یا مونچھیں بڑھانا( جو اس زمانے میں ایک فیشن بن گیا ہے) حرام ہے۔

داڑھی اسلام کی پہچان اور نشانی ہے جیسے ختنہ مومن کو کافر سے ممتاز اور علیحدہ کردیتا ہے لہذا جب ختنہ جو کہ ایک مخفی امر ہے شعاد دین میں شامل ہے اور اس سے کافر اور مسلمان کے درمیان تفریق ہوتی ہے یہاں تک کہ ختنہ کو ہندوستان میں مسلمانی کہا جاتا ہے تو پھر داڑھی جو ایک ظاہری عمل ہے اور سب سے پہلے انسان کی نظر اس پر پڑتی ہے تو پھر داڑھی تو شعائر اسلام کا لازمی جز اورمسلمان کی ایک نمایاں ترین پہچان ہے جسے اپنانا مسلمانوں کی ایک مذہبی ضرورت اور مومن کو کافر سے ممتاز کرنے والی چیز ہے۔گھر گھر پڑھی جانے والی مشہور کتاب ’’بہشتی زیور‘‘کی جلد 11 ،صفحہ نمبر115 میں بھی درج ہے کہ ’’ ایک مٹھی داڑھی رکھنا صرف سنت ہی نہیں بلکہ واجب ہے اور داڑھی کا منڈانا یا ایک مٹھی سے کم پر کترانا دونوں حرام ہیں‘‘۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی مشہور کتاب’’اشعتہ اللمعاتــ‘‘ کی جلداول صفحہ 212 میں فرماتے ہیں کہ’’ داڑھی منڈانا حرام ہے اور یہ انگریزوں،ہندوؤں اور قلندریوں کا طریقہ ہے اور داڑھی کو ایک مشت تک چھوڑ دینا واجب ہے۔داڑھی میں اس قدر طوالت سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے جولوگوں کی کراہت اور انگشت نمائی کا سبب بن جائے۔داڑھی کو ضرورت سے زیادہ بڑھانا گنواروں کا طریقہ ہے‘‘۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو فرمایا’’اﷲ تعالیٰ نے شرا ب پینے اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مونچھوں کو کاٹو اور داڑھیوں کو چھوڑو اور بغیر تہ بند کے بازاروں میں نہ چلا کرو اور جو ہمارے غیر کے طریقے پر عمل کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔

شرجیل بن مسلم نے ایک جگہ بیان کیا کہ ’’میری رسول اﷲ ﷺ کے پانچ صحابہ سے ملاقات ہوئی اور میں نے دیکھا کہ وہ سب مونچھیں کاٹتے اور داڑھیاں بڑھاتے تھے‘‘۔

قارئین! ان احادیث کے علاوہ بھی بہت سے احادیث داڑھی کے حوالے سے موجود ہیں لیکن سمجھدار مسلمان کے لیئے یہ ہی کافی ہیں اور جب حضرت محمد ﷺ کی اتنی احادیث سامنے آجائیں تو پھر کبھی بھی آپﷺکے حکم اور سنت کی مخالفت نہیں کرنی چاہیئے۔کہ ایسا کرنااﷲ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا سبب ہوگا۔داڑھی کٹوانے والوں کے لیئے بہت سی تنبیہات موجود ہیں جن میں سے چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے۔اسلام کے شعائر کی توہین کرنا،مذاق اڑانا اور رسول اﷲﷺکی کسی بھی سنت کی تحقیر کرناکفرہے جس سے آدمی ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔آنحضرت محمد ﷺ نے داڑھی کو اسلام کاشعار اور تمام انبیائے کرام کی متفقہ سنت فرمایاہے لہذا جولوگ داڑھی سے نفرت کرتے ہیں یا اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں یا ان کے عزیز واقارب میں سے اگر کوئی داڑھی رکھنا چاہے تو اسے روکتے ہیں یا بعض لوگ دولہا کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ پہلے اپنی داڑھی منڈائے پھر اس کی شادی کی جائے گی اور اسی طرح بہت سی عورتیں بھی اپنے بیٹوں اور شوہروں کو داڑھی رکھنے پر طعنہ زنی کرتی ہیں یا ان سے اپنی یہ خواہش ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی داڑھی منڈوادیں ا وربہت سی عورتیں اپنے مردوں کو مجبور بھی کرتی ہیں تووہ درحقیقت اپنے بیٹوں اور شوہروں کے چہروں کورسول اﷲ ﷺ کے چہرے جیسا دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔اس قسم کے تمام مردوں اور عورتوں کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیئے ۔داڑھی منڈانے والے مردوں پر لازم ہے کہ وہ توبہ کریں اور اپنی شکل و صورت کو اﷲ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق بنادیں اور عورتوں کو بھی داڑھی کے معاملے میں مردوں کا ساتھ دینا چاہیئے۔

اسلام میں داڑھی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو حافظ داڑھی منڈاتے ہیں کا شرعی مقدار سے کم رکھتے ہیں اور کترواتے ہیں وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب اور فاسق ہیں یہی وجہ ہے کہ تراویح کی نماز میں بھی ان کی امامت جائز نہیں ہے اور داڑھی منڈے کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی اور عملاً حرام ہے اور بعض حافظ جو صرف رمضان میں داڑھی رکھ لیتے ہیں اور بعد میں صاف کروادیتے ہیں ان کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اور ایسے شخص کو فرض نماز اور تراویح میں امام بنانے والے بھی فاسق اور گناہ گار ہیں۔داڑھی اور مونچھ رکھنامردانگی کی علامت اور اسلامی شعار ہے۔ اسلام نے مونچھوں کو کاٹنے کا حکم دیا تاکہ مونچھ کے بال پانی میں نہ ڈوبیں لیکن مونچھیں منڈوانے کو منع کیا کیونکہ مونچھیں منڈوانے سے نامردی آتی ہے ایک حکیم کے مطابق داڑھی کے بالوں میں قوت مردانگی ہوتی ہے، داڑھی کا تعلق مرد کی قوت اور مادہ منویہ سے ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ عورتوں کے چہرے پر داڑھی نہیں آتی اور نابالغ بچہ اور ہیجڑہ کو جس میں مادہ منویہ نہیں ہوتا اس کو بھی داڑھی نہیں آتی بلکہ اگر کسی مرد کی داڑھی ہو اور اس کے فوطے نکال دیئے جائیں تواس کی داڑھی خود بخود جھڑ جاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ داڑھی کا تعلق براہ راست مرد کی قوت مردانگی سے ہے۔

داڑھی کی شرعی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیئے تاریخ اسلام کا ایک مشہور واقعہ قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کے پیش نظر یہاں تحریر کیا جارہا ہے۔

مشہور واقعہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں کسریٰ بادشاہ کے دو قاصد آئے ،ان دونوں کی داڑھیاں منڈی ہوئی تھیں،رسول اﷲ ﷺ نے ان کی طرف سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور ان کی صورتوں کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور ان سے پوچھا’’تمہیں داڑھی منڈانے کا حکم کس نے دیا؟وہ بولے کہ’’ ہم کو یہ حکم ہمارے رب کسریٰ نے‘‘(عجمی لوگ اپنے بادشاہ کو رب کہا کرتے تھے)رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے تو میرے رب نے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم فرمایا ہے(البدلیتہ والنہایتہ وغیر ھما)ایک روایت میں اس واقعے کے حوالے سے یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ آپ ﷺ نے ان دونوں قاصدوں سے فرمایا کہ :’’اﷲ کی قسم اگر قاصدوں کو قتل کرناجائز ہوتا تومیں تمہاری گردنیں اڑا دیتا،یہ تم نے کیسی شکلیں بنا رکھی ہیں‘‘۔اس واقعے کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی شریعت میں داڑھی کا کیا مقام اور حیثیت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے ان چہروں کو دیکھنا بھی پسند نہیں فرمایا جن کی داڑھی نہیں تھی اور ان کی طرف سے آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیرلیا۔اور کیا دنیا میں کسی شخص کا چہرہ نبی آخرالزماں ﷺ کے چہرہ پر نور سے زیادہ اچھا ہوسکتا ہے ؟ یہ وہی چہر ہ مبارک ہے جس کے بارے میں خلیفہ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ:’’مجھے ان کی طرف دیکھنا دنیا ومافیہ سے زیادہ پسند ہے‘‘۔ اور یہ انہوں نے رسول اﷲ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کہا تھا جن کا چہرہ مبارک داڑھی سے سجا ہوا تھا۔اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ تمام انبیائے کرام کی داڑھیاں بڑھی ہوئی تھیں اور خود حضرت محمد ﷺ کی داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی اوردونوں طرف سے سینہ بھرتی تھی جس کا تذکرہ شمائل ترمذی شریف میں شامل ہے۔

چاروں خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ،حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ،حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت علیرضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بھی بڑی داڑھیاں تھیں اور ویسے بھی داڑھی کا مونڈنا یا کاٹنا مجوسیوں اور مشرکین سے مشابہت اختیار کرنا ہے اس لیے اس سے بچنا مسلمانوں کے لیئے فرض کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ ایک حدیث میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں کہ: جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔چنانچہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘۔

داڑھی کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کا اظہار ان باتوں سے ہوتا ہے کہ ایک جماعت کہتی ہے کہ احادیث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ داڑھی کو بالکل ہاتھ نہ لگایا جائے خواہ داڑھی کتنی ہی بڑی ہوجائے بلکہ احادیث کا منشاء یہ ہے کہ مجوسیوں کی مخالفت کی جائے جواپنی داڑھیاں منڈاتے اور چھوٹی کرواتے ہیں اسی لیئے اس جماعت کے کچھ لوگ جن میں احناف بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ اگر داڑھی ایک مٹھی سے زائد ہوجائے تو زائد حصہ کاٹ دینا چاہیئے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ، حضرت ابوہریرہرضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت محمدﷺ اور ان کے رفقاء اپنی داڑھی کو ایک مٹھی سے بڑی ہونے پرزائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔

امام بخاری کا رجحان بھی یہی تھا کیونکہ وہ اپنے حلقہ میں داڑھی کو چھوڑنے اور مونچھ کو کاٹنے کی تلقین کیا کرتے تھے اور اس موقع پر وہ حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ ا کایہ فعل ذکر کیا کرتے تھے کہ جب وہ حج یا عمرہ کو جاتے تو اپنی مٹھی کو پکڑتے اور جو داڑھی اس سے زائد ہوتی اور اس کو کاٹ دیا کرتے تھے۔(صحیح بخاری جلد2 ،صفحہ875 )جبکہ ایک دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ داڑھی کو ہاتھ ہی نہیں لگانا چاہیئے اور اسے بڑھنے دیا جانا چاہیئے البتہ عمرہ یا حج کے وقت داڑھی کو ایک قبضہ کے بعد کاٹا جاسکتا ہے ۔ابوداؤد میں حضرت جابرسے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سبال کو(لمبی داڑھی کو) چھوڑ دیتے تھے مگر صرف حج یاعمرہ پر جاتے وقت اس کوکم کردیتے تھے اور اس موقف کے حامی یہ کہتے ہیں کہ داڑھی کو صرف عمرہ یا حج کے وقت کم کرنا چاہیئے لیکن دوسرے وقت میں نہیں۔(فتح الباری صفحہ350 )

بہت سے لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھنا صرف سنت ہے اور واجب نہیں ہے اور اگر نہ بھی رکھی تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ داڑھی رکھنا ہر مکتبہ فکر کے نزدیک ایک واجب شرعی شعار ہے جس کا رکھنا ہر مسلمان مر د کے لیئے واجب ہے البتہ داڑھی کی شرعی مقدار کیا ہونی چاہیے اس پر معمولی اختلاف پایا جاتا ہے لہذا داڑھی بالکل صاف کردینا تو ہر لحاظ سے ایک غلط فعل ہے جس سے تائب ہوکر ہر مسلمان مرد کو داڑھی رکھنی چاہیئے اور حال ہی میں مصر کے عالم دین کا جو نیا فتویٰ سامنے آیا ہے کہ :’’داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے جس کی بیخ کنی کی جانی چاہیئے اور علما ء کو بھی اسلامی شعائر سے متعلق کوئی بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا چاہیئے۔

راقم الحروف نے داڑھی کے حوالے سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ داڑھی رکھنے پر تو تمام علماء کا اتفاق ہے البتہ داڑھی کی مقدار کتنی ہونی چاہیئے اور اس کی ہئیت پر اختلاف پایا جاتا ہے ۔

داڑھی صرف اسلام کا شعار ہی نہیں ہے بلکہ مردانہ فطرت کا ایک جزو ہے ،مردانگی کی علامت ہے اس کے مقابل داڑھی نہ ہونایا اس کا منڈانا زنانہ پن کی علامت ہے ۔تاریخ اٹھا کر دیکھئے ،صرف دو تین صدیوں سے پہلے مسلم،غیرمسلم،مغربی اور مشرقی اقوام کے لیڈروں اورسائنس دانوں کی تصاویر میں بھی ان کی لمبی داڑھی نظرآتی ہے۔مغرب کی اندھی تقلید میں جہاں ہم نے ان کے لباس،ان کی زباناور ان کی معاشرتی اقدار کو اپنا کران کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیا،وہیں ہم نے داڑھی جیسے مقدس شعار کو رخصت کردیا ۔
داڑھی رکھنا صرف شریعت کا حکم ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسلام اور مسلمانوں کی شناخت ہے،اس کا منڈانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اس موقف سے تمام فقہا متفق ہیں۔آنحضرت محمدﷺ کایہ عام حکم ہے کہ داڑھی بڑھاؤاور مونچھیں کٹواؤ۔اس حکم کی مخالفت رسول اﷲ ﷺ کے ایک صریحی حکم کی خلاف وارزی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ،تمام صحابہ کرام،تمام اولیائے کرام ،محدثین،فقہا اور صالحین سب داڑھی والے تھے۔داڑھی سے نفرت کرنے والا کیا ان تما م مقدس ہستیوں کا ماننے والا کہلائے گا؟’’آنحضرت محمد ﷺ نے داڑھی کے رکھنے کا حکم فرمایا۔داڑھی منڈانے والے کے لیئے ہلاکت کی بد دعا فرمائی اور اس کی شکل دیکھنا گوارہ نہیں فرمایا،اس لیئے داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے اور اس کامنڈانا اور ایک مشت سے کم ہونے کی صورت میں اس کا کاٹنا تما م آئمہ دین کے نزدیک حرام ہے‘‘(آپ کے مسائل اور ان کا حل۔مولانا یوسف لدھیانوی رحمتہ اﷲ علیہ،جلد7 صفحہ 89 )اسی طرح صحیح مسلم کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں داخل ہیں،مونچھوں کا کٹوانا اور داڑھی کا بڑھانا۔انی آخرہ (حوالہ بالا92 )

صحیح بخاری کی اس سخت وعید پر غور فرمائیے ۔’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ کی لعنت ہو ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں اور اﷲ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں‘‘۔(حوالہ بالااز مشکوات صفحہ 280 ) اﷲ تعالیٰ معاف فرمائے ۔آج امت مسلمہ کے مرد اور عورتیں ان دونوں لعنتوں کو اپنائے ہوئے ہیں ۔مرد داڑھی منڈانے کے علاوہ ہاتھوں میں کنگن،کانوں میں بندے اور سر پر چوٹیاں لٹکائے پھر رہے ہیں اورعورتیں کوٹ پتلون پہنے ہوئے ہیں اور ان کے سرکے بال مردوں کی طرح کٹے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں اور کانوں میں نظر آنے والے زیورات مردوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔جس عمل کے لیئے آنحضرت محمدﷺ نے ہلاکت کی بددعا کی ہو ،اس کی شکل دیکھنا گواراہ نہ کیا ہو اس کو اپنی زندگی میں داخل کرکے اﷲ کی لعنتوں کا لباس پہننا کتنا بڑا جرم ہے اس کا اندازہ خود کرلیجئے۔اب داڑھی کی مقدار کا معاملہ لیجئے۔اسلام نے مجوسیوں اور یہودیوں سے مخالفت کے لیئے اس کی ایک مقدار متعین کی ہے جو ایک مشت یعنی ایک قبضہ ہے اس سے کم کٹاناکہ وہ ایک مشت سے کم رہ جائے حرام ہے جبکہ ایک مشت سے زائد حصہ کٹوانا جائز ہے۔حضرت مفتی محمد شفیع رحمت اﷲ علیہ نے ایک آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ’’وہ اﷲ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے اور یہ اعمال فسق میں سے ہے۔جیسے داڑھی منڈانا اور بدن گدوانا وغیرہ (معارف القرآن جلد2 صفحہ549 )یعنی داڑھی منڈانا مفتی صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے نزدیک اعمال فسق میں سے ہے اور داڑھی منڈانے والا فاسق ہے۔اس عام ابتلا ء کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھناایک ایسی سنت ہے کہ اگر کوئی رکھے تو اچھی بات ہے اور نہ رکھے تب بھی کوئی گناہ نہیں ہے ،یہ غلط فہمی ایک شیطانی فریب ہے اس سے بچنا ضروری ہے‘‘۔

مذکورہ بالاتحقیق کی روشنی میں معلوم ہوا کہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب اور محبوب ترین عمل ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اپنی عاقبت نااندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے رحمت عالم حضرت محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی بجائے مجوسیوں کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو بے غیرتی کی واضح دلیل ہے اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ داڑھی منڈے ،داڑھی رکھنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کو بری نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں جو یقیناً اﷲ تعالیٰ کے غیض وغضب کا باعث ہے ایسے لوگوں کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیئے کہ اس داڑھی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیئے جوآقائے کائنات حضرت محمد ﷺ کی محبوب ترین سنت ہے۔

بہت سے لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھنا صرف سنت ہے اور واجب نہیں ہے اور اگر نہ بھی رکھی تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ داڑھی رکھنا ہر مکتبہ فکر کے نزدیک ایک واجب شرعی شعار ہے جس کا رکھنا ہر مسلمان مر د کے لیئے واجب ہے البتہ داڑھی کی شرعی مقدار کیا ہونی چاہیے اس پر معمولی اختلاف پایا جاتا ہے لہذا داڑھی بالکل صاف کردینا تو ہر لحاظ سے ایک غلط فعل ہے جس سے تائب ہوکر ہر مسلمان مرد کو داڑھی رکھنی چاہیئے اور حال ہی میں مصر کے عالم دین کا جو فتویٰ سامنے آیا ہے کہ :’’داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے جس کی بیخ کنی کی جانی چاہیئے اور علما ء کو بھی اسلامی شعائر سے متعلق کوئی بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا چاہیئے۔اﷲ تعالیٰ ہم سب کو شریعت کے مطابق داڑھی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)