شاہ رخ کے ساتھ سیلفی میں نظر آنے والی لڑکی کون ہے؟ پتہ چل گیا

ممبئی (نیوز ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری کے سپر سٹار شاہ رخ خان کے دنیا بھر میں لاکھوں مداح ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دیوانے ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں شاہ رخ خان نے بھارتی شہر پونے کا دورہ کیا تو ہزاروں لوگ اپنے پسندیدہ اداکار کو دیکھنے کیلئے جمع ہو گئے۔اس موقع پر شاہ رخ خان نے اپنے مداحوں کے ساتھ کچھ سیلفیاں بھی بنائیں۔

ان میں سے ہی ایک سیلفی کو سوشل میڈیا پر بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اور اس کی وجہ کنگ خان نہیں بلکہ مداحوں کے ہجوم میں نظر آنے والی ایک خوبرو لڑکی ہے۔ اس تصویر کے پوسٹ ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین دیوانے ہو گئے اور ہر کوئی اس لڑکی کے بارے میں پوچھنے لگا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ہزاروں کے ہجوم میں کھڑی یہ لڑکی ماڈل لگتی ہے۔

کسی دل پھینک صارف نے لکھا کہ اس دوشیزہ نے میرے دل میں گھر کر لیا ہے، میں اس لڑکی کو ڈھونڈ کر اس سے شادی کروں گا۔اس تصویر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انڈین میڈیا نے اس لڑکی کو ڈھونڈنے کا مشکل فیصلہ کیا جس میں وہ آخر کار کامیاب ہو گئے۔ انڈین میڈیا کے مطابق اس لڑکی کا نام صائمہ حسین ہے اور شعبہ فیشن ڈیزائننگ میں تھرڈ ایئر کی طالبہ ہے۔

21 سالہ صائمہ حسین کا تعلق مقبوضہ جموں کشمیر کے شہر سرینگر سے ہے اور اپنی تعلیم کی غرض سے پونے میں قیام پذیر ہے۔صائمہ حسین کا انڈین میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر شہرت کے بارے میں اسے اپنے ایک دوست سے پتہ چلا۔

اس نے جب مجھ سے بات کی تو مجھے لگا کہ شاید وہ مذاق کر رہی ہے تاہم کچھ دیر بعد ہی مجھے سینکڑوں کالیں اور میسجز ملنا شروع ہو گئے۔ صائمہ حسین نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر شہرت اسے ایک خواب لگ رہی ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

مہر عورت کا حق ہے کوئی گالی نہیں

اگر کسی نے بیوی سے کہا کے اگر تم نے فلانا کام کردیا تو تمہے طلاق ہوگی
اگر بیوی نے وہی کام کردیا تو طلاق ہوگئی اگر ہوگئی تو ایک طلاق
ہوگئی یا زیادہ
تاحال نہ تو صاحب مضمون کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے نہ کسی اور صاحب علم کی طرف سے ۔ لیکن ہم نے جواباً جو کمنٹس تحریر کئے تھے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہیں ۔

ویسے تو خالد، بٹگرام کے پوچھے گئے اس سوال کا جواب صاحب مضمون یا پھر کسی عالم دین ہی کو دینا چاہیئے پھر بھی ہم ناچیز کی حاضر معلومات کے مطابق بیان کردہ ایسی صورت میں ایک طلاق واقع ہو جائے گی اور دو کا حق ابھی باقی رہے گا ۔ اور بیوی کو دی جانے والی مشروط دھمکی میں اگر تین طلاق کا ذکر کیا جائے تو اسکی حکم عدولی کی صورت میں تینوں طلاقیں ایک ساتھ واقع ہو جائیں گی یعنی طلاق مغلظہ ۔ اور رجوع کی قطعی کوئی صورت نہیں ہو گی سوائے ایک طریقے حلالہ کے ۔ اور شریعت نے یہ طریقہ عورت کو ذلیل کرنے کے لئے نہیں بلکہ مرد کا دماغ درست کرنے کے لئے رکھا ہے ۔ اور بہت بڑے بیوقوف ہوتے ہیں ایسے مرد جو بیوی پر کوئی پابندی عائد کرتے ہوئے اسے طلاق سے مشروط کر دیتے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں طلاق کا حق مرد کے ہاتھ سے نکل کر عورت کے پاس چلا جاتا ہے ۔ اب وہ جب بھی شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہے گی اس کام کو کر گذرے گی جس سے اسے روکا گیا تھا طلاق کا الزام مرد ہی کے سر رہے گا اور عورت کے واجبات اس کے ذمہ ہونگے ۔ اسی وجہ سے بہت سے “عقلمند” مرد بُری سے بُری صورتحال میں بھی عورت کو لٹکا کر رکھتے ہیں طلاق نہیں دیتے اسے خلع لینے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ حق مہر کی ادائیگی سے بچ سکیں ۔
*****
خالد، بٹگرام کی پوچھی گئی بات کے حوالے سے ہم نے جو تبصرہ تحریر کیا تھاتب تک یہ مضمون نہیں پڑھا تھا ۔ بعد میں پڑھا ۔ صرف ایک اشکال کو چھوڑ کے یہ ایک انتہائی قیمتی اور قابل قدر تحریر ہے ۔ اب معلوم نہیں کہ یہ شریعہ و فقہ کی کسی کتاب سے مکمل کاپی پیسٹ کیا گیا ہے یا چند اقتباسات کو لے کر کچھ اظہار خیال اپنے پاس سے بھی کیا گیا ۔ مصنف نے سورہء نساء کی ایک آیت کا ترجمہ اور اسکے ذیل میں جو تشریح بیان کی ہے تو دونوں کا آپس میں کوئی ربط نظر نہیں آتا ۔ آیت کچھ اور کہہ رہی ہے اور اس کی تشریح بالکل کچھ اور ۔ یہ سراسر ایک بگڑے مرد کی حوصلہ افزائی اور عورت کو ظلم و زیادتی برداشت کئے جانے پر مجبور کرنے والی بات ہے ۔ ناسازگار و دشوار حالات میں عورت کے معاشی لحاظ سے مستحکم اور خود کفیل ہونے کی ضرورت کو ضروری نہیں سمجھا گیا ۔ بلکہ اس کے لئے ایک کم ظرف شخص کی محتاجی کو ہر قیمت پر قبول کرنے پر زور دیا گیا ۔ ایسی ہی تشریحات و تفاسیر نے عوام الناس میں گمراہی پھیلائی ہے ۔ اگر کوئی شخص کمینے پن پر اُتر ہی آیا ہے تو اب عورت کی کوئی قربانی اور اپنے شریعت کے عطا کردہ حقوق سے دستبرداری بھی اس کو راہ راست پر نہیں لا سکتی ۔ خصوصاً مہر معاف کئے جانے کے بعد تو وہ کسی بھی لمحے اسے طلاق کا تمغہ عطا فرما کے چلتا کر دے گا ۔ بعض حالات میں مہر ہی مرد کے پیروں کی زنجیر بنتا ہے اور اگر وہ طلاق کے ساتھ مہر کی بھی ادائیگی پر قدرت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں کم از کم ایک مالی حد تک تو عورت کی اشک شوئی ہو ہی جاتی ہے ۔ اور ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں عورت کا شوہر سے مہر طلب کرنا کسی گالی سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔ بلکہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مرد پر بیوی کے مہر کی ادائیگی صرف طلاق ہی کی صورت میں ضروری ہے ۔ عام حالات میں مرد بیوی کے اس حق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ اور بہت سے خبیث فطرت لوگ بیوی سے جان مفت میں چھڑانے کے لئے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ وہ عاجز ہو کر خلع حاصل کر لے اور یہ بےغیرت اس کا مہر ادا کرنے سے بچ جائیں ۔ اور جہاں شادی کے موقعے پر مہر صرف رسمی طور پر بہت ہی قلیل مقدار میں مقرر کیا جاتا ہے تو آپس میں نبھاؤ نہ ہونے کی صورت میں طلاق عورت کو کسی حلوے کی طرح تھالی میں رکھ کر ملتی ہے ۔ کچھ مشہور زمانہ دینی کتب میں مردوں کی بھی کچھ تربیت سے زیادہ صرف عورت کو غلام بن کر رہنے کے طریقے درج ہیں ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اچھی بیٹیاں کبھی مہر کا لفظ بھی زبان تک نہیں لاتیں ۔ جناب جو اچھے بیٹے ہوتے ہیں وہ انہیں اتنا موقع ہی نہیں دیتے وہ بیوی کو عزت اور محبت دینے کے ساتھ ساتھ ان کا حق مہر ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی خوشدلی سے ادا کرتے ہیں ۔ اور یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے ۔ ختم شد ۔