سینٹ ویلنٹائن کوجرم محبت پرپھانسی کیوں دی گئی ویلنٹائن ڈے کی شرمناک تاریخ

” 14فروری ” کوبالخصوص یورپ میں یوم محبت کے طور پر منایا جاتا ہے، یوم ویلنٹائن کی تاریخ ہمیں روایات کے انبار میں ملتی ہے اور روایات کا یہ دفتر اسرائیلیات سے بھی بدتر ہے ، جس کا مطالعہ مغربی تہذیب میں بے حیائی ،بے شرمی کی تاریخ کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے ، اس بت پرستی کے تہوار کے بارے میں کئي قسم کی اخباررومیوں اوران کے وارث

عیسائیوں کے ہاں معروف ہیں ۔ انڑنیٹ پر مختلق ویب سائٹ بالخصوص وکیپیڈیا پر اس دن کی حقیقت کے متعلق مسطور ہے : ” شہنشاہ کلاڈلیس دوم” کے عہد میں روم کی سرزمین مسلسل جنگوں کی وجہ سے کشت و خون اور جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہوا کہ ایک وقت کلاڈلیس کی اپنی فوج کیلئے مردوں کی بہت کم تعداد آئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں اور ہم سفروں کو چھوڑ کر پردیس لڑنے کیلئے جانا پسند نہ کرتے تھے اس کا “شہنشاہ کلاڈلیس” نے یہ حل نکالا کہ ایک خاص عرصہ کیلئے شادیوں پر پابندی عائد کردی تاکہ نوجوانوں کو فوج میں آنے کیلئے آمادہ کیا جائے اس موقع پر “سینیٹ ویلنٹائن “نے سینٹ ماریس کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر نوجوان جوڑوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا ان کا یہ کام چھپ نہ سکا اور شہنشاہ کلاڈلیس کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرلیا گیا اور اذیتیں دے کر 14فروری 270ھ کو بعض اخبار کے مطابق 269ء میں قتل کردیا گیا’ اس طرح 14فروری سینٹ ویلنٹائن کی موت کے باعث اہل روم کیلئے معتبر و محترم دن قرار پایا۔ سینٹ ویلنٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا۔ یہ بشپ آف

ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کے جرم میں” 14فروری 269ء “کو پھانسی دے دی گئی تھی قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط’ پیغامات’ کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پا گیا۔ برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منایا جانے لگا، برطانوی کاؤنٹی ویلز میں لکڑی کے چمچ 14فروری کو تحفے کے طور پر دیئے جانے کیلئے تراشے جاتےاور خوبصورتی کیلئے ان کے اوپر دل اور چابیاں لگائی جاتی تھیں جو تحفہ وصول کرنے والے کیلئے اس بات کا اشارہ ہوتیں کہ تم میرے بند دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو۔ ویلنٹائن ڈے کے متعلق یوں بھی مشہور ہے کہ اگر کوئی چڑیا کسی عورت کے سر پر سے گزر جائے تو اس کی شادی ملاح سے ہوتی ہے اور اگر عورت کوئی چڑیا دیکھ لے تو اس کی

شادی کسی غریب آدمی سے ہوتی ہے جبکہ زندگی بھی خوشگوار گزرے گی اور اگر عورت ویلنٹائن ڈے پر کسی سنہرے پرندے کو دیکھ لے تو اس کی شادی کسی امیر کبیر شخص سے ہوگی اور زندگی ناخوش گوار گزرے گی۔ امریکہ میں مشہور ہے کہ 14فروری کو وہ لڑکے اور لڑکیاں جو آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں سٹیم ہاؤس جاکر ڈانس کریں اور ایک دوسرے کے نام دہرائیں جونہی رقص کا عمل ختم ہوگا اور جو آخری نام ان کے لبوں پر ہوگا اس سے ہی اس کی شادی قرار پائے گی ۔ جبکہ زمانہ قدیم سے مغربی ممالک میں یہ دلچسپ روایت بھی زبان زد عام ہے کہ اگر آپ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ یہ جان سکیں آپ کی کتنی اولاد ہوگی تو ویلنٹائن ڈے پر ایک سیب درمیان سے کاٹیں کٹے ہوئے سیب کے آدھے حصے پر جتنے بیج ہوں گے اتنے ہی آپ کے بچے پیدا ہوں گے۔ جاپان میں خواتین ویلنٹائن ڈے پر اپنے جاننے والے تمام مردوں کو تحائف پیش کرتی ہیں۔ اٹلی میں غیر شادی شدہ خواتین سورج نکلنے سے پہلے کھڑکی میں کھڑی ہوجاتی ہیں اور جو پہلا مرد ان کے سامنے سے گزرتا ہے ان کے عقیدے کے مطابق وہ ان کا ہونے والا خاوند ہوتا ہے۔ ڈنمارک میں برف کے قطرے محبوب کو بھیجے جاتے ہیں تحریری طور پر ویلنٹائن کی مبارک باد دینے کا رواج 14صدی میں ہوا ابتدا میں رنگین کاغذوں پر واٹر کلر اور رنگین روشنائی سے کام لیا جاتا تھا جس کی مشہور اقسام کروسٹک ویلنٹائن’ کٹ آؤٹ’ اورپرل پرس ویلنٹائن کا رخانوں میں بننے لگے 19ویں صدی کے آغاز پر ویلنٹائن کارڈز بھیجنے کی روایت باقاعدہ طور پر پڑی جو اب ایک مستقل حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ مذکورہ اخبار کے سرسری مطالعے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنی خوابیدہ تمناؤں کو لفظوں کے کوزے میں کفنا دیا ہے انسانی جذبات کی ناکامیاں’ محرومیاں’ زندگی کے اداس لمحے’ کچلی ہوئی خواہشات’ دبے ہوئے ارمان جنہیں معاشرے کی غلط سلط رسوم و رواج کے باعث فطری نشونما’ ارتقاء اور اظہار کا موقع نہیں ملا اس معاشرے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ویلنٹائن ڈے کے پیرہن میں اپنی تمام شرارتیں لے کر سما گئے ہیں۔ بااثر برطانوی جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق ویلنٹائن ڈے بہار کی آمد آمد پر پرندوں کی مسرت کے اظہار کی علامت ہے۔ انگریزی میں ویلنٹائن پر سب سے پہلی نظم چوسر نے (1382ء میں) پارلیمنٹ آف فاؤلز کے زیرعنوان لکھی تھی۔ اس میں انسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جنس تبدیل کرنے کیلئے کسی نہ کسی پرندے کا انتخاب کریں۔ علم الانسان کے کئی ماہرین کے خیال میں یہ دن سردی کے خاتمے پر منایا جاتا تھا اور لوگ بکری کی کھال اوڑھ کر ہر اس عورت پر پل پڑتے تھے جو انہیں نظر آتی تھی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹیسیکا کے مطابق یوم ویلنٹائن کے بارے میں تاریخ دو مختلف موقف بیان کرتی ہے یہ دونوں موقف ایک ہی شخص سینٹ ویلنٹائن کے حوالے سے مبیّن ہیں۔ valentine was a roman priest and patron of lovers who was martyred during the sack of rome and persecution of christians by claudius ii, and was buried in rome. A bishop of terini (italy) martyred in rome and his remains were taken back to terini. اس کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا معمہ بھی اس یوم کے ساتھ ملحق ہوگیا ہے ۔ that lupercalia was a pagan feast celebrated on february 15 in honour of the pastoral gol lupercalia, who had many love affairs with nymphs and goddesses. During that feast names of young woman were put in a pot and a draw was held. Young men then drew these names and those that matches each other stayed together for the rest of the year, which began in march. The lupercalia was abloished by pope gelasius i in the tate 5th century but the tradition allowed to marge with the celebrations of february 14 st, valentine,s feast day. یوم ویلنٹائن کے حوالے سے یہ تمام خرافات تاریخ کے دفاتر میں موجود ہیں تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے ، آرہے ہیں ‘ 14فروری کا دن وہاں رومن دیوی’ دیوتاؤں کی ملکہ جونو کے اعزاز میں یوم تعطیل کے طور پر منایا جاتا تھا ۔۔۔ اہل روم ملکہ جونو کو صنف نازک اور شادی کی دیوی کے نام سے موسوم کرتےہیں جبکہ 15فروری لیو پرکس دیوتا کا دن مشہور تھا اور اس دن اہل روم جشن زرخیزی مناتے تھے اس موقع پر وہ پورے روم میں رنگا رنگ میلوں کا اہتمام کرتے ۔۔۔۔ جشن کی سب سے مشہور چیز نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے نام نکالنے کی رسم تھی۔۔۔ ہوتا یوں تھا کہ اس رسم میں لڑکیوں کے نام لکھ کر ایک برتن میں ڈال دیئے جاتے تھے اور وہاں موجود نوجوان اس میں سے باری باری پرچی نکالتے اور پھر پرچی پر لکھا نام جشن کے اختتام تک اس نوجوان کا ساتھی بن جاتا جو آخر کار مستقل بندھن یعنی شادی پر ختم ہوتا ۔ ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت: ویلنٹائن ڈے ،یوم محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اورپھر اہل کتاب عیسائيوں کے ساتھ مشابھت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید کی ہے اوریہ تہوار ان کے دین میں نہيں ، اورجب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چيزمیں مشابھت سے ممانعت ہےجوہمارے دین اسلام میں نہیں بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں ہے ، توپھرایسی چيز جوانہوں نے ایجاد کرلی اوربت پرستوں کی تقلید کرنے لگے اس میں مشابھت اختیار کرنا بطریق اولی ممنوع ہے ہمیں ایسے تمام تہواروں سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو، ہرقوم کا ایک علیحدہ خوشی کا تہوار ہوتا ہے ،اور اسلام میں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار واضح طور پر متعین ہیں ۔ ھادی عالم ﷺ نے عید الفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا ۔۔۔۔ ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے (صحیح بخاری ،ابواب العیدین،باب سنۃ العیدین لاھل الاسلام ،۲:۱۷،رقم الحدیث ۹۵۲) ویلنٹائن ڈے منانے کامطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے ۔ اور کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنا اسی قوم میں سے ہونے کے مترادف ہے: اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : من تشبه بقوم فهو منهم۔۔۔۔۔’’جوکسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے ۔‘‘(سنن ابی داؤد کتاب اللباس ،باب فی لبس الشھرۃ،۴:۴۴،رقم الحدیث۴۰۳۱) نیز صحیح البخار ی میں ہے: عن أبي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لتتبعن سنن من كان قبلكم، شبرا شبرا وذراعا بذراع، حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم»، قلنا: يا رسول الله، اليهود والنصارى؟ قال: «فمن» حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بربالشت اورہاتھ برہاتھ پیروی کروگے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے توتم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے ، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم : کیا یھودیوں اورعیسائیوں کی ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورکون ؟ (صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لتتبعن سنن من کان قبلکم،۸:۱۰۳،رقم الحدیث:۷۳۲۰) دور حاضر میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہے ۔ جیسا کہ سورۃ المجادلۃ کی آیۃ۲۲ میں ہے: لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آباءهم أو أبناءهم أو إخوانهم أو عشيرتهم۔۔۔۔۔تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں۔ اس موقع پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑ کے لڑ کیوں کا آزادانہ ملاپ ۔۔۔۔۔تحائف اور کارڈز کا تبادلہ۔۔۔ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بد اخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ ۔۔۔ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے،۔۔۔۔! اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں ۔۔۔۔!اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں ۔۔۔! قرآن کریم ،سورۃ النور کی آیۃ: ۱۹میں ایسوں کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب کی وعید وارد ہے : إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذاب أليم في الدنيا والآخرة وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے نبی ا کرم ﷺ نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ ﷺ کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کیلئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو انکا دل چاہے گا جوکہ یقینا مذموم ہے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :۔ إذا لم تستحي فاصنع ما شئت ۔۔۔۔۔جب تم نے حیا نہ کی تو جو تمہار ا جی چاہے کرو ۔ (صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب إذا لم تستحي فاصنع ما شئت،۸:۲۹، رقم الحدیث :۶۱۲۰،مطبوعہ:دار طوق النجاۃ) ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہئے اور اپنی تہذیب و تمدن ، ثقافت وروایات کو اپنا نا چاہیے ۔اغیار کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں اور جان لینا چاہیےیوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیر مسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جارہی ہے تاکہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیر اسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہو جائیں ۔ نیز اس دن محبت کا اظہار اگر خاوند بیوی سے اوربیوی خاوند سے ھدیہ اورتحفہ تحائف وغیرھما دے کر یا اسکے علاوہ کرے تووہ سارا سال روا ہے اس دن کی تخصیص نہیں، البتہ ایسے ھدایہ و تحائف کہ جن سے کفار سے مشابھت ظاہر ہو ان سے اجتناب لازم ہے ۔ نیز واضح رہے محبت فقط مرد اورعورت کے مابین منحصرنہیں بلکہ اللہ عز اسمہ اوراس کےپیارے رسول ﷺ، صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم اورخیروبھلائي کے کام کرنے والوں اوراصلاح اوردین سے محبت کرنے والوں اوردین کی مدد کرنے والوں سے محبت کرنے کو عام اور اشمل ہے ، اوراسی طرح بہت ساری اوربھی محبتیں ہیں جواسلام ہمیں بتلاتا ہے ان میں کوشاں رہنا ہمارے لیےدارین کی سعادتوں کا باعث اورنجات اخروی کا ذریعہ ہے ۔ خلاصہ کلام یہ کہ ولینٹائن ڈے منانا اورغیر شرعی محبت اور اسکا اظہار ناجائزہے۔ اللہ کریم جل مجدہ سے دعا گوہے کہ وہ کریم مسلمانوں کی ہرگمراہی اورفتنہ وفساد سے حفاظت فرمائے ، اورانہیں ان کے نفسوں کے شرسے اوران کے دشمنوں کی چالوں اورمکروں سے بچاکررکھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں