چیف جسٹس ثاقب نثار کو توآپ جانتے ہی ہیں لیکن ان کا اپنا آبائی گھر کہاں ہے اور ان کے چچا ، بھتیجے اب کیا کام کرتے ہیں؟ تفصیلات ایسی کہ جان کرآپ کیلئے آپنی انکھوں پر یقین کرنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اپنے عوامی فیصلوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں لیکن ان کے خاندان کے بارے میں بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے ۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کا آبائی گھر بھی لاہورشہر کے علاقے اندرون بھاٹی میں موجود ہے اور اس حلقے سے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ سلمان رفیق اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز منتخب ہوئے لیکن ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے بھتیجے اندرون بھاٹی گیٹ مچھلی کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ چیف جسٹس کے چچا بھی اسی دکان میں بیٹھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں”باباقصوری فش کارنر“ پر کام کرنیوالے چیف جسٹس کے باریش بھتیجے نے بتایاکہ وہ محنت مزدوری اور حق حلال کی کمائی پر یقین رکھتے ہیں، چچا کے چیف جسٹس ہونے کی وجہ سے بدمعاشی نہیں کرتے بلکہ محنت کرتے ہیں، ہم شریف لوگ ہیں ، بدمعاشیوں کی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس کے چچا نے بتایاکہ ان کا بھتیجانیک آدمی ہے ، اللہ اسے مزید ترقیاں دے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

اسلامی تعزیرات…… چند غلط فہمیوں کا ازالہ

مغربی مصنّفین اسلامی تعزیرات اور اسلامی سزاؤں(رجم ، قصاص اور ’’قطع ید‘‘ وغیرہ )کا ببانگ دہل اورسر عام ٹھٹھا ، تمسخر اورمذاق اڑاتے ہیں اور انہیں دقیانوسی اور قدامت پسندی خیال کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگراسلامی اور مغربی معاشرہ کا باہمی تقابل کرایا جائے تو جن اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی درجہ میں بھی اسلامی قوانین نافذ ہیں وہاں پر اسلامی تعزیرات ٗ رجم ، قصاص اور ’’ قطع ید ‘‘ کے نفاذ کی وجہ سے بہ نسبت مغرب و یورپ کے زنا ، قتل ، اغواء اور غنڈہ گردی کی شرح میں کافی حد تک کمی ہے ،جب کہ اس کے مقابلہ میں مغربی و یورپی ممالک کہ جن میں کھلی آزادی کا رجحان اور جدید کلچر کا غلبہ ہے وہاں ان برائیوں کی شرح میں روز بروز ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملتاہے۔

مغربی مصنّفین جن اسلامی تعزیرات کا بر سر عام مذاق اڑاتے ہیں ان میں سے ایک تعزیر ’’حد زنا‘‘ بھی ہے۔ وہ اس سزا کو وحشت و جہالت کے دور کی یاد گار قرار دیتے ہیں ۔ حالاں کہ اسلام میں اسلامی تعزیرات کے حوالہ سے وحشت و جہالت کے دور کی کوئی بھی چیز یادگار کے طور پر نہ موجود ہے اور نہ ہی منائی جاتی ہے ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی تعزیرات انسانی معاشرہ کے لئے زحمت نہیں بلکہ رحمت ہیں ۔ مثال کے طور پر آپ ’’حد زنا‘‘ ہی کو لے لیجئے ، یہ محض ایک تعزیر نہیں بلکہ سوسائٹی کے لئے ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس کا بنیادی مقصد سوسائٹی کوہر قسم کی غلط آلودگی سے پاک و صاف رکھنا ہے ۔جب کہ مغرب کے وضع کردہ قوانین کے مطابق ’’زنا‘‘ ایک معمولی قسم کی مباح چیزہے جس کے گناہ ہونے کا تصور تک مغربی تہذیب میں ہے۔

اسلام میں اﷲ تعالیٰ نے عورت کوجو مقام و مرتبہ دیا ہے وہ اسے تاریخ کے کسی دور میں بھی حاصل نہیں رہا ۔ جہاں تک عورت اور مرد کے درمیان تقابل کی بات کا تعلق ہے ٗ تو اسلام نے حقوق و احترام کے معاملہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی ۔ البتہ دونوں کے مزاجوں اور دونوں کی فطری ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دونوں کی ذمہ داریوں میں فرق ضرور رکھاہے ، اسی وجہ سے دونوں کا مقام عمل ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے ۔ اور یہ کوئی افضلیت اورعدم افضلیت یا برتری و کم تری کی بات ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک ناگزیر معاشرتی ضرورت ہے ۔لہٰذا عورت اور مرد کے فرائض کے معاملہ میں احکامات شرعیہ کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

میاں بیوی جب دونوں رشتۂ ازدواج کے ساتھ منسلک ہوجاتے ہیں تو اس کے بعد سے لے کر آخری لمحہ تک شریعت اسلامیہ دونوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتتی اور نہ ہی ایک کے دکھ درد کو دوسرے کے دکھ درد سے ہلکا تصور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان نااتفاقی کی صورت میں جس طرح مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے اسی طرح عورت کو بھی ’’خلع‘‘ کا حق دیا گیا ہے ۔ جب کہ دوسرے مذاہب میں اس طرح کی کوئی سہولت میسر نہیں ۔ آپ ایک چھوٹی سی مثال لے لیں کہ ’’ہندو ازم‘‘ یا ’’سناتن دھرم ‘‘ ہندوستان کا ایک قدیم ترین مذہب ہے ، جس کی انسان دوستی اور روا داری نظریاتی سطح پر ہی سہی ٗ زبان زد عام ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کے نازک معاملات میں ہندو دھرم کوئی واضح رہنمائی نہیں دے پاتا ۔ طلاق و خلع جیسے عین فطری اصول ’’ہندو دھرم‘‘ میں نہیں ملتے ۔ خلع کا تصور تک اس دھرم کے گرنتھوں میں نہیں پایا جاتا ۔ عورت نے جس مرد کے ساتھ اگنی کے سات پھیرے لگالیے اسی کے دامن کے ساتھ اسے آخری سانس تک بندھے رہنا ہے ۔ خواہ عائلی زندگی میں کیسا ہی اتار چڑھاؤ کیوں نہ آجائے اور میاں بیوی کی زندگی زہر سے بھی تلخ تر کیوں نہ ہوجائے ۔ اور بیوہ کے مسائل تو اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں ۔ چنانچہ اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو اسیگھر سے باہر بن ٹھن کے نکلنا اور بناؤ سنگھار وغیرہ کرنا تو درکنار ٗمیک اپ کا سامان تک اسے اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ دوسری شادی کا حق تو بہت دور کی بات ہے ۔ جب کہ اس کے عکس اسلام میں عورت کے حقوق کی کتنی ٹھوس ضمانت ہے اور وہ عورت کی عظمت کا کتنا اونچا تصور رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس ایک مسئلہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کی پاک دامنی پر انگلی اٹھائے تو اسے اپنے اس الزام کے ثبوت میں چار مردوں کو گواہ کے طور پر پیش کرنا پڑے گا ۔ اگر وہ چار مردوں کی گواہی پیش نہ کرسکا تو اس کی ننگی پیٹھ پر اسی (۸۰) کوڑے مارے جائیں گے ۔ اس لئے کہ اس بارے میں اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ کسی عورت پر انگشت نمائی کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ میں اس عورت پر جو زنا کی تہمت لگا رہا ہوں آیا میرایہ الزام یقینی ہے یا سنا سنایا، نیز اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ تو نہیں ہے؟۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عائلی اور معاشرتی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا پر جب زنا کی تہمت لگائی گئی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کامل تحقیق کیے بغیر اس پر اپنی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی ردّ عمل ظاہر نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ اس وقت کے اسلامی معاشرہ نے بھی حسن ظن سے کام لیا اور صبر و انتظار کی پالیسی پر چلتے ہوئے حد درجہ قوت و برداشت اور ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی برأت میں قرآن مجید کا پورا ایک رکوع نازل ہوا اور منافقین کی جھوٹی افواہیں دم توڑنے لگیں۔

آپ اسے جدید قوانین کہہ لیں یا مغربی تہذیب ٗ اس میں صرف’’ زنا بالجبر‘‘ ہی کو جرم شمار کیا جاتا ہے۔ یا بالفاظ دیگر مغرب کا’’ تصور آزادی‘‘ یہ ہے کہ آزادی اس وقت جرم ہوتی ہے جب کہ وہ دوسرے کی آزادی کے متصادم ہو ۔ لیکن اسلام میں آزادی کا تصور اس سے یکسر مختلف ہے ۔ اسلام اسی کے ساتھ ایک اور قید بھی لگاتا ہے۔ وہ یہ کہ آزادی کا استعمال ایسا ہونا چاہیے کہ اس سے نہ انسانی معاشرہ آلود ہو اور نہ ہی اس پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں ۔ گویا یورپ و مغرب میں براہِ راست مداخلت کو آزادی سمجھاجاتا ہے اور اسلام آزادی کا دائرہ کار فرد سے لے کر معاشرہ تک وسیع کرتا ہے۔ براہِ راست مداخلت کے ساتھ وہ بالواسطہ مداخلت کو بھی آزادی کے خلاف مانتا ہے اور اسے انسانی سماج کے لئے انتہائی ضرر رساں قرار دیتا ہے۔

آج ہمارے معاشرہ میں اسلامی تعزیرات کا نفاذ مفقود ہے جس کے نتیجہ میں دوسرا انسان شتر بے مہار کی طرح اِدھر اُدھر منہ مارتا پھر رہا ہے ۔ خصوصاً مغربی ممالک میں کہ جہاں اسلامی افکار و نظریات کا بر سر عام مذاق اڑایا جارہا ہے۔ وہاں اعلیٰ انسانی اوصاف اور روحانی و اخلاقی اقدار خواب میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتے ۔اور وہاں مبنی بر روحانیت سوچ کو رجعت پسندی اور دقیانوسی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ جب کہ اس کے برعکس آپ اسلامی ممالک میں جاکر دیکھ لیجئے! جہاں کسی نہ کسی درجہ میں اسلامی قوانین و تعزیرات نافذ ہیں یا جہاں کے عوام میں اسلامی قوانین اور اسلامی افکار و نظریات کو فکری و نظریاتی سطح پر برتری حاصل ہے، وہاں وہ حیا سوز اور شرم ناک مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے جو لندن وپیرس یا دیگر یورپی ممالک میں بر سر عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔