عاصمہ جہانگیر کو جب دل کا دورہ پڑا تو وہ کس شخص سے فون پر بات کر رہی تھیں کہ اچانک انہوںنے چیخ ماری اور پھر ۔۔ ! عاصمہ جہانگیرکے انتقال سے قبل کیا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ؟

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے عاصمہ جہانگیر ان سے ٹیلیفون پر بات کر رہی تھی۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ لاہور میں ایک شادی میں شرکت نہ کر سکے اس لئے وہ آج دن کے وقت عاصمہ جہانگیر سے فون پر بات کر رہے تھے اور بار کی سیاست پر گفتگو ہو رہی تھی کہ اچانک چند منٹ کی خاموشی ہو گئی اور پھر کچھ لمحوں کے بعد انہوں نے ایک چیخ کی آواز سنی اور بچوں کی آوازیں آئی ۔ جس کے بعد فون منقطع ہو گیا ۔ میں سمجھا شاید کسی بچے کو کوئی مسئلہ ہو گیا ۔

میں اس دوران مسلسل ان کا فون ملاتا رہا ۔ لیکن فون ریسیو نہیں کیا گیاجب کچھ دیر بعد میں نے دوبارہ عاصمہ جہانگیر کے نمبر پر فون کیا تو ان کی ملازمہ نے فون اُٹھایا اور بتایا کہ بی بی جی کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث مقامی ہسپتال میں لے گئے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

بیماریاں اورآزمائشیں گناہ دھونے کا اک بہانہ

اﷲ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت وشفقت والا معاملہ ہے۔انہیں معاف کرنے کے کئی طریقے اس نے اپنے نبی کریمﷺ کی زندگی سے عملی نمونہ کے طور پر بندوں کے لیے پیش کیے۔ان کے دامن کو غلطیوں اورلغزشوں سے پاک صاف کرنے کے کئی طریقے وضع کردیئے۔ تاکہ ان کمزوربندوں کے گناہ جو آگ کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس دنیامیں ہی دھل جائیں اورجب وہ اﷲ کے سامنے پیش ہوں تو گناہوں سے پاک اورصاف ہوں۔ان میں دعا،توبہ،نماز،وضواور کئی امورہیں کہ جن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ناصرف گناہوں کو معاف کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بندے کے درجات کو بلند کردیتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تواس نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ گناہوں کو ناصرف معاف کردوں گا بلکہ انہیں نیکیوں میں بدل دوں گا۔ یہ اس رحیم وکریم رب کی اپنے کمزور بندوں پر رحمت و شفقت اورعنایات کی انتہا ہے۔انسان کو اﷲ تعالیٰ نے صحت جیسی عظیم نعمت عطا کی مگراس کے ساتھ ساتھ اسے کبھی کبھار امراض میں مبتلا بھی کرتا رہتا ہے۔مومن بندے کے لیے یہ امراض بھی فائدہ مند ہیں کیونکہ اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو دھونا چاہتا ہے۔اب ذیل میں قرآن وحدیث سے کچھ دلائل پیش کیئے جائیں گے جن سے ہمیں علم ہوگا کہ بندوں کو بیماری میں مبتلا کرکے بھی اﷲ انہی کا فائدہ سوچ رہا ہوتا ہے تاکہ ان کی غلطیاں اورخطائیں معاف ہوجائیں اوردرجات بلند ہوجائیں۔

سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’مامن مصیبۃ یصاب بھا المسلم الا کفر بہ عنہ حتی الشوکۃ یشاکہا‘‘(صحیح البخاری:5640،صحیح مسلم:2572)کہ کسی مسلمان کو جب بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے حتیٰ کہ اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے ۔‘‘تواس حدیث مبارکہ سے ہمیں اس چیز کا علم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے پہنچنے والی کوئی بھی تکلیف انسان کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:’’مایزال البلاء بالمومن والمومنۃ فی نفسہ وولدہ ومالہ حتی یلقی اﷲ وماعلیہ خطیئۃ‘‘(سنن الترمذی:2579)کہ مومن بندہ اورمومن عورت ہمیشہ اپنی جان،مال اوراولاد میں آزمائش میں رہتے ہیں یہاں تک وہ اﷲ تعالیٰ سے جا ملتے ہیں اوران پر کوئی بھی گناہ نہیں ہوتا۔‘‘تواگر اپنی طرف سے حقوق اﷲ اورحقوق العباد کی ادائیگی کرتا ہواس کے باوجوداس پر کوئی آزمائش آجائے تو اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ اس کے اعمال نامے سے گناہوں کے بوجھ کو دھو رہا ہوتا ہے۔اب آزمائش مختلف طرق سے وارد ہوسکتی ہے۔آزمائش کا آنا لازم امر ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس بارے میں سورہ البقرہ کی آیت نمبر55میں فرمادیا:’’ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشرالصابرین‘‘کہ’’ ہم تمہیں ضرور باالضرورآزمائیں گے خوف کے ساتھ اوربھوک کے ساتھ اورمالوں کی کمی کے ساتھ اورجانوں کی کمی کے ساتھ اورپھلوں کی کمی کے ساتھ اورصبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘آزمائشیں تولامحالہ طور پر آنی ہی آنی ہیں مگران آزمائشوں میں کامیابی وکامرانی ان لوگوں کے لیے ہے کہ جو صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ صبر کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔جیسا کہ سیدنا صہیب رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ سے نے فرمایا:’’عجبا لامرالمومن،ان امرہ کلہ خیر،ولیس ذالک لاحدالاللمومن،ان اصابتہ سراء شکر،فکان خیرالہ،وان اصابتہ الضراء صبر فکان خیرالہ‘‘’’کہ مومن کامعاملہ بڑا ہی عجیب ہے ،اس کے لیے ہر حالت میں خیر ہی خیرہے اوریہ اعزازصرف مومن کو ہی حاصل ہے اس کے علاوہ کسی کو نہیں،کہ اگراسے خوشی پہنچتی ہے تووہ اس پرشکراداکرتا ہے تویہ بھی اس کے لیے بہتر ہے اوراگراسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘اﷲ تعالیٰ انسان کو جس حال میں بھی رکھتا ہے اس میں اس کی کوئی نہ کوئی خاص حکمت ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔البتہ انسان کو اپنی اصلاح کرتے رہنا چاہیے اورہرطرح کے حالات پر صبروشکرکا مظاہرہ کرناچاہیے۔اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آن پڑے تو دعا وصبر کے ہتھیار کو تھامنا چاہیے اور استقامت دکھاناچاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ دیکھنا چاہیے کہ میری زندگی میں کوئی غلطی تونہیں آگئی کہ جس کی وجہ سے اﷲ مجھے متوجہ کرنا چاہ رہا ہے اوراصلاح کی طرف موڑنا چاہ رہاہے۔ اسی طرح آزمائشیں مراتب کے اعتبار سے بھی آتی ہیں کہ جن کاایمان جس قدر پختہ ہوتا ہے اس قدر اس پرآزمائش سخت ہوتی ہے،اس پراس کے صبر کی وجہ سے اسے اجر بھی اسی قدردگنا کردیاجاتا ہے جیسا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا کہ:’’یارسول اﷲ ﷺ ای الناس اشدبلاء؟قال:’’الانبیاء‘‘ثم الامثل فالامثل،یُبتلی العبدعلی حسب دینہ ،فان کان فی دینہ صلبا،اشتدبلاؤہ وان کان فی دینہ رقۃ ابتلی علی حسب دینہ فما یبرح البلاء بالعبد،حتیٰ یترکہ یمشی علی الارض وماعلیہ من خطیئۃ‘‘(سنن الترمذی:4023)اے اﷲ کے رسول ﷺ لوگوں میں سے کن پر سخت آزمائشیں آتی ہیں ؟آپ نے فرمایا:’’انبیاء پر‘‘پھران کے راستے پر چلنے والوں پر جو جس قدران کے راستے پراچھی طرح گامزن ہوتا ہے اس قدر مصیبت بڑی آتی ہے،انسان کواس کے دین کے اعتبار سے آزمائشوں سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اگروہ پختہ ایمان کا مالک ہوتواس پرآزمائش بھی سخت ہوتی ہے اوراگراس کے ایمان میں نقص ہو تواس کے ایمان کے مطابق اس پرآزمائش آتی ہے ،مومن ہمیشہ آزمائشوں سے دوچار رہتا ہے یہاں تک کہ آزمائشیں اسے اس طرح چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر گناہوں سے پاک صاف چل رہا ہوتا ہے۔‘‘اس لیے آزمائشوں کے آنے پر استقامت اختیار کرنا چاہیے ناکہ ناشکری کا مظاہرہ،بعض اوقات تواﷲ تعالیٰ بندے کے ساتھ خیرکا ارادہ کرکے اسے کسی آزمائش سے دوچار کرتا ہے جیساکہ سیدناانس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:’’اذااراداﷲ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبۃ فی الدنیا واذااراداﷲ بعبدہ الشرامسک عنہ بذنبہ حتی یوفی بہ یوم القیامۃ‘‘(سنن الترمذی:2575)کہ جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیرکا ارادہ کرلیتا ہے تواس کی (غلطیوں پر اس کی)آزمائش جلد ہی کرلیتا ہے ،جب کسی کواس کے اعمال کی وجہ سے خیرسے محروم کرنا ہوتواس کی غلطیوں پراسے ڈھیل دے دیتا ہے اورقیامت والے دن اسے پوراپورابدلہ دے دے گا۔‘‘اگرکسی مومن شخص پرآزمائش آجائے تواس پر وہ یہی نیت رکھے کہ اﷲ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرماکراس کے درجات کو بلند کرنا چاہ رہا ہے۔

اسی طرح انسان پر جو آزمائشیں آتی ہیں ان کے ذریعے اﷲ تعالیٰ انسان کواخروی نعمتیں جنت کی صورت میں دینا چاہ رہا ہوتا ہے جیسا کہ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:’’اذامات ولدالعبد قال اﷲ لملائکتہ’’ قبضتم ولد عبدی‘‘فیقولون:’’نعم‘‘فیقول:’’قبضتم ثمرۃ فؤادہ‘‘فیقولون:’’نعم‘‘فیقول’’ماذا قال عبدی؟‘‘فیقولون:’’حمدک واسترجع‘‘فیقول اﷲ ’’ابنولعبدی بیتاً فی الجنۃ وسموہ بیت الحمد‘‘(سنن الترمذی:1037)کہ جب کسی کا لخت جگر فوت ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے:’’کہ تم نے میرے بندے کے لخت جگرکی روح قبض کی ہے‘‘فرشتے کہتے ہیں :’’جی ‘‘اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:’’کہ تم نے میرے بندے کے دل کے ٹکڑے کو فوت کیا ہے‘‘تو فرشتوں کا جواب ہاں میں ہوتا ہے۔پھراﷲ تعالیٰ فرشتوں سے سوال کرتا ہے :’’کہ میرے اس فیصلے پر میرے بندے کا ردعمل کیا تھا؟‘‘تو فرشتے کہتے ہیں :’’کہ وہ تو تیری حمدوثناء ہی میں مگن تھااورتجھ سے اچھی امیدلگائے ہوئے تھا‘‘تواﷲ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ:’’کہ میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک محل تیار کردواوراس کا نام بیت الحمد رکھ دو‘‘

سبحان اﷲ!اﷲ تعالیٰ کی بندے سے شفقت کس قدراعلیٰ اورپختہ ہے کہ اپنے بندے کوآزما کراس کی آخرت بہتر کررہا ہے۔اﷲ اورمومن بندے کامعاملہ بڑا ہی عجیب ہے کہ اﷲ تعالیٰ تواپنے مومن بندے کو نوازنا چاہتا ہے ،اسے دنیاوآخرت میں کامیابی کامرانی کاتاج پہنانا چاہتا ہے،اس کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے مگریاللعجب کہ بندے کی طرف سے اکثر بے وفائی کا معاملہ ہی سامنے آتا ہے ۔بندہ اکثراوقات اپنے رب کی اس آزمائش پرایمان کادامن ہاتھ سے چھوڑبیٹھتا ہے۔اس کی زبان پر یہ اعتراضات آجاتے ہیں کہ یہ کیسا اﷲ ہے عبادت میں ا س کی کروں انعام وہ دوسرے پر کرے،سجدے میں اسے کروں اولاد سے وہ غیروں کونوازے،اپنی ہستی میں اس کے سامنے مٹاؤں اورکرم نوازیاں وہ اغیار پر کرے۔غرض کہ شکووں کا ختم نہ ہونے والا ایک لمبا سلسلہ انسان کی زبان پر جاری وساری ہوجاتا ہے۔اس سے بندہ اپنے اعمال کو ضائع کربیٹھتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے تھوڑی سی آزمائش ڈالی تاکہ میں اس کے درجات کو بلند کردوں مگراس نے اپنی کم فہمی اورعجلت سے اپنے تمام اعمال کوضائع کردیا۔افسوس کہ بندہ کس قدرجلد بازاورناشکرا ہے۔اﷲ قرآن میں بندے کی اس حالت کی طرف کچھ اس انداز سے اشارہ کررہا ہے کہ:’’ان الانسان لربہ لکنود،وانہ علی ذالک لشھید،وانہ لحب الخیر لشدید‘‘(العادیات:6،8)کہ:’’ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے،اوروہ اس پر گواہ بھی ہے،اوروہ بھلائی (یعنی مال)سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ہے۔‘‘اس آیت میں انسان کے حرص کوواضح کیا گیا ہے کہ اکثر لوگوں کی محبت کا منبع و محوردنیا کا مال ہے اس لیے وہ اپنے خالق ومالک کو بھول بیٹھتے ہیں۔اس لیے جب اﷲ کی طرف سے ان پر کوئی آزمائش آن پڑے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے رب کے وعدوں پرپختہ یقین ہونا چاہیے کہ اﷲ کے وعدے سچے ہیں، اگراس نے ہمیں کسی آزمائش سے دوچار کیا ہے تواس میں بھی ہمارے فائدے کے لیے کوئی حکمت مخفی ہے۔ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔اس کے علاوہ بھی آزمائش انسان پرآنے کے فوائد ہیں مگر پھر کبھی ذکر کیے جائیں گے۔اﷲ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔آمین