رائل پام اینڈ کنٹری کلب کے خلاف نیب کی تحقیقات شروع،سابق ڈی جی آئی ایس آئی جاوید اشرف قاضی وغیرہ کے نام ای سی ایل میں شامل

لاہور (ویب ڈیسک) قومی خزانے کو دو ارب روپے سے زائد کا ٹیکہ لگانے، رائل پام گالف کلب کو ریلوے کی 140 ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر لیز پر دینے کے خلاف سابق وفاقی وزیر ریلوے اور آئی ایس آئی کے سابق چیف لیفٹیننٹ (ر) جاوید اشرف قاضی، سابق ڈائریکٹر مارکیٹنگ ریلوے خالد نقی، ڈائریکٹر حسنین کنسٹرکشن کمپنی شیخ رمضان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے نیب نے وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا جس کے بعد تمام افراد کے نام ای سی ایل پر ڈال دیئے گئے ، مذکورہ افراد کے غیر قانونی اقدامات کے باعث قومی خزانے کو دو ارب روپے سے زائد کا ٹیکہ لگایاگیا ۔

روزنامہ خبریں کے مطابق 2001ءمیں ریلوے گالف اینڈ کنٹری کلب کی ایک سو چالیس ایکڑ انتہائی قیمتی اراضی کو نہایت سستے داموں حاصل کرنے کے لئے حسنین کنسٹرکشن کمپنی کے ڈائریکٹر شیخ رمضان نے سابق وفاقی وزیر ریلوے لیفٹیننٹ (ر) جاوید اشرف قاضی، سابق ڈائریکٹر مارکیٹنگ ریلوے خالد نقی سے ملی بھگت کرکے رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب کے لئے غیر قانونی طور پر حاصل کی تھی جس سے قومی خزانے کو اس وقت کے حساب سے دو ارب سے زائد جبکہ اب تک کے نقصان کا تخمینہ اربوں لگایا گیا ہے۔ نیب نے رمضان شیخ کی جانب سے ریلوے حکام کے ساتھ ساز باز کرکے غیر قانونی اراضی کلب کو دینے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جس سلسلہ میں اس کیس میں مطلوب مذکورہ تین افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے وزارت کو درخواست ارسال کردی۔

ضرور پڑھیں:سری دیوی کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں ہوئی بلکہ۔۔۔فارنزک رپورٹ سامنے آگئی
اخبار کے مطابق اس کے بعد نیب کی جانب سے قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے پر تحقیقات کی جائیں گی جس میں سب سے پہلے انہیں نوٹسز جاری کرتے ہوئے نیب بلایا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی اس کیس کے حوالے سے تحقیقات کرتی رہی ہے جہاں سے کیس نیب کو منتقل ہوا تھا۔ 2015ءمیں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ زمین کے کرایہ کی مد میں 52 روپے 43 پیسے کی بجائے صرف چار روپے فی گز کے حساب سے معاہدہ کیا گیا تھا جس کے حساب سے رقم دس ارب روپے بنتی ہے۔

بعدازاں صباح نیوز نے بتایاکہ نیب کی سفارش پر تمام افراد کے نام ای سی ایل پر ڈال دیے گئے ہیں ۔