’’ ہم نے رات بھر دیکھا کہ قبر سے ایک نور نکلتا ہے جو آسمان تک جاتا ہے، پھر واپس آتا ہے اور۔۔۔‘‘استنبول میں واقع یہ قبر کس کی ہے ؟ جان کر آپ کا جوش ایمان بڑھ جائے گا

استنبول میں ایوب سلطان مسجد میں میں جانے والے حضرت ایوب انصاریؓ کی مرقد پر تشریف لے جاتے اور دعائے خیر کرتے ہیں ۔آپؓ اللہ کے رسول ﷺ کے میزبان تھے۔جنگ کے دوران جب طاعون کی وبا پھیلی تو آپؓ بھی اسکی لپیٹ میں آگئے ۔اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ آپؓنے مجاہدین کو وصیت فرمائی ’’ جب میرا انتقال ہوجائے تو جنازے کو لشکر کے ساتھ آگے محاذوں پر لے جانا، جہاں تک ہوسکے تاکہ جب اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ ابو ایوب! تو میزبان رسول ﷺ تھا، بتا اللہ کے راستے میں تو نے کیا کیا؟میں کہوں گا، یا اللہ! جب میں زندہ تھا تب بھی تیرے راستے میں جہاد کرتا رہا، جب انتقال ہوگیا تب بھی مجاہدین کے ساتھ میری لاش چلتی رہی ‘‘چنانچہ لشکر اسلام جب قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا اس دوران آپؓ کا انتقال ہواتو جنازہ لشکر کے ساتھ لے جایا گیا۔ قسطنطنیہ (موجود استنبول ) کے ساحل پر آپؓ کی تدفین کی گئی۔ صبح مقامی رومی آبادی کے لوگ مجاہدین کے پاس آئے۔ پوچھا ’’یہ قبر کس کی ہے؟‘‘
بتایا گیا’’ رسول اللہ ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے‘‘
رومیوں نے کہا’’ ہم نے رات بھر دیکھا کہ قبر سے ایک نور نکلتا ہے جو آسمان تک جاتا ہے، پھر واپس آتا ہے، رات بھر یہی کیفیت رہی، یہ دیکھ کر ہمارے دلوں میں اسلام کی حقانیت اترگئی، لہٰذا اب آپ لوگ گواہ رہنا کہ ایمان لاتے ہیں‘‘ پوری بستی مسلمان ہوگئی۔