میں دینی گھرانے کی لڑکی تھی لبرلز کے ہتھے چڑھ گئی

ایکسکیوزمی !میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ،برقعے میں ملبوس خاتون نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا جی فرمائیے !میں نے نہایت شائستگی سے کہا میرے پاس وقت بہت کم ہے وہ لوگ مجھے مار دینا چاہتےہیں ،کون لوگ آپ کو مار دینا چاہتے ہیں

میں نے نہایت نرمی سے پوچھا۔اب اس کا وقت گزر چکا وہ بہت جلد مجھ تک پہنچ جائیں گے میں آپ کو کچھ اہم باتیں
بتانا چاہتی ہو ں براہ مہربانی ان باتوں کو غور سے سنیں اور اسے امانت سمجھ کر آگے بڑھا دیجیے گا ۔ جی ! فرمائیے میں نے اُن سے کہایہ میری زندگی کی داستان ہے میں نے صوم و صلوۃ کے ایک پاکیزہ خاندان میں آنکھ کھولی تھی میری تربیت مکمل ایک مشرقی ماحول میں ہوئی وقت گزرتا یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی ،عام مسلم گھرانوں کی طرح ہی ہمارا خاندان تھا نہ زیادہ مذہبی ا ورنہ زیادہ ماڈرن میٹرک کے امتحان کے بعد کالج جانے لگی تو گھر میں انٹر نیٹ کی سہولت موجود تھی جلد ہی فیس بک پر دانش نامی ایک لڑکے سے محبت ہوگئی ۔کالج کے بہانے ریسٹورینٹس میں ملاقاتیں طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئیں دانش بلاشبہ ان وجیہ لڑکوں میں شمار ہوتا تھا جن پر کوئی بھی لڑکی مر مٹے ۔آہستہ آہستہ دانش مجھے اپنے دوستوں جن میں مردو خواتین دونوں شامل تھا

ملوانے لگا گاڑی بنگلہ اور اونچے خواب جو میں نے دیکھے تھےدانش کے پاس میرے ہر خواب کی تعبیر تھی اونچے اسٹیٹس کا بخار مجھے بھی چڑھ چکا تھا اپنے گھر کا ماحول مجھے دقیانوسی سالگنے لگا تھا نقاب سے مجھے الجھن ہوتی تھی۔جب میں پہلی دفعہ عبایا میں دانش کے دوستوں سے ملی تو مجھے اپنا آپ بہت میلا سا دکھائی دیا اس کے بعد میں گھر سے تو عبایا پہن کر جاتی لیکن نقاب لینا چھوڑ دیا تھا اور امی نے پوچھا تو میں نے کہا مجھے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے اور امی میرے اس بہانے سے مطمئن ہو گئیں ۔دانش کے دوستوں سے جب میں ملنے جاتی تو عبایا دانش ہی کی گاڑی میں اتار پھینکتی تھی وقت کی گاڑی گزرتی رہی ،

میں دانش سے شادی کے لیے کہنا چاہتی تھی مگر اس کا طرزِ عمل بہت عجیب تھا وہ مجھے ایک دوست کی حیثیت سے ٹریٹ کررہا تھا ۔میرا حلقہ احباب دانش کے توسط سے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا اور پھر اسی سول سوسائیٹی میں میری ملاقات نوید سے ہوئی اور آہستہ آہستہ میں دانش سے دور اور نوید سے قریب ہوتی چلی گئی اور پھر یہ ماڈرن صحبت رنگ لائی اور میں نے نے حدود و قیود کو توڑ ڈالامیں نے اپنے اللہ کا ناراض کر دیا ۔لیکن اس وقت مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی میں خدا کا انکار کر چکی تھی اس دنیا میں کوئی خدا نہیں یہ کیسا خدا ہے جو لوگوں کو امیر غریب میں تقسیم کرتا ہے (معاذاللہ )اور ملحدین کے تمام افکار میرے دل و دماغ میں بس چکے تھے لبرل ازم کا نشہ سر پر سوار تھا ۔اس مصنوعی آزادی کی فضا میں سانس لینا بہت اچھا لگ رہا تھا

نوید کے بعد پھر کوئی گنتی نہیں رہی میں مکمل ملحدہ ہو چکی تھی گھر بار کو خیر باد کہہ کر ایک اور دوست کے ساتھ اس کا کمرہ شئیر کر لیا تھا ان کی ایک آرگنائزیشن تھی ۔جس کا کام الحاد کی نشرو اشاعت تھی انہوں نے مجھے اس آرگنائزیشن میں ایک اچھا عہدہ دیا اچھی تنخواہ دی اور میں نے اس آرگنائزیشن میں رہتے ہوئے تقریبا تمام ہی دنیا کی سیر کی کبھی ہالینڈ ، کبھی انگلیڈ ، سنگا پور ، ترکی وہ کون سا ملک ہوگا جو میں نے نہیں دیکھا ہو اس

آرگنائزیشن کے تحت ہی میں نے متعد دحقوقِ نسواں کانفرنسز کرائیں اور خود بھی شرکت کی ۔ان خواتین کو ہم اس بات پر بر انگیختہ کرتے تھے کہ مرد کی غلامی سے نکلو تم زندگی بھر بچے ہی پالو گی ، اپنے ٹیلنٹ کو آزماؤدنیا بہت وسیع ہے ۔کسی کے گھر میں اگر کوئی معمولی خانگی مسئلہ ہوتا تو ایسی عورت تو ہمارا اولین شکار ہوتی بجائےاس کو سمجھانے کے ہم اس کو خوب ورغلاتے اور پھر طلاق کے بعد وہ ہماری اس بے حیا سوسائٹی کی ایک روشن خیال ممبر بن جاتی تھی ناجائز پیسہ اور عیاشی کی راہ میں ہمارا سب سے بڑا مخالف مذہب اور وہ بھی بالخصوص اسلام ہے ہم نے اپنے اس راستے کے کانٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا نہ ہم خدا کو مانتے اور نہ ہی کسی اخلاقی شرم کو محسوس کرتے ہیں۔

مولویوں ،ڈاڑھی ، برقع اور اسلام پر تنقید میرا پسندیدہ موضوع تھا۔اخلاقیات کو مجھ سے رخصت ہوئے زمانہ ہو چکا تھا اب تو میں یہ سوچتی تھی کہ ایک وہ لڑکی ہوتی تھی جو صبح فجر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھی رمضان کے روزے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔میں آزاد تھی اب ،اور چاہتی تھی دنیا کی ہرلڑکی اس آزاد فضا میں سانس لے میں کسی لڑکی کو جینز اور شرٹ میں دیکھتی تو بہت خوش ہوتی اور اس کو اپنی فتح قرار دیتی اور بر ملا کہتی تھی آج کی لڑکی بیدار ہو رہی ہے یہ اس دنیا کی خوبصورتی ہے اس چمن کی رونق اسی سے ہے میں دن بدن ان الحادیوں میں رہتے رہتے اخلاقیات کا ہر سبق بھول چکی تھی خواہشاتِ نفس میری زندگی کا اولین مقصد تھا سائنس میرا خدا اور آٓزادی میرا ایمان تھا گروپ ڈسکشن میں بے حیائی کی تمام حدود کو میں نے توڑا تھا ۔

مجھے یاد ہے پہلی دفعہ جب گروپ میں ایک بے حیائی کے عنوان پر بات ہورہی تھی میں نے چاہاکہ اس عنوان پر ان باکس میں بات ہو تو میرے سینیئر نے مجھ سے کہامہمل ! تم مکمل atheist ہو تمہیں شرمانا نہیں چاہیے اگر تم ایساکرو گی تو اور عام لوگ کیا کہیں گے اور پھر اس دن رہی سہی جھجھک بھی ختم ہو گئی میں اس آرگنائزیشن کی سب سے زیادہ فعال ممبر تھی میں نے کئی لڑکیوں کو اس آرگنائزیشن کا ممبر بنایا تھا گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں کے لیے ہماری آرگنائزیشن خصوصی سہولت فراہم کرتی تھی جب بھی کسی ایسی لڑکی کا ذکر ہوتا آرگنائزیشن کے صدر خصوصی دلچسپی لے کر اس معاملے کو ہینڈل کرتےتھے اور یہ مجھے ہی معلوم تھا کہ وہ ایساکیوں کرتے ہیں۔