برطانوی انٹیلی جنس ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا، امریکی صدر کا اب تک کا سب سے بڑا سکینڈل سامنے آگیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی تحقیقاتی ادارے گزشتہ صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت پر تفتیش کر رہے ہیں اور اب اس حوالے سے سب سے بڑا تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔

دی نیویارکرنے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ”امریکہ کے صدارتی انتخابات سے دو ماہ قبل ہی برطانوی خفیہ ایجنسی نے سی آئی اے کو بتا دیا تھا کہ روسی حکومت کے ڈونلڈٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والے منتظمین سے رابطے ہیں اور وہ الیکشن پر اثرانداز ہونے جا رہی ہے۔“

رپورٹ کے مطابق برطانیہ خفیہ ایجنسی نے روسی حکومت اور صدر ٹرمپ کی مہم چلانے والوں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا سراغ لگالیا تھا اور برٹش انٹیلی جنس کے اس وقت کے سربراہ رابرٹ ہینیگن یہ اطلاع دینے کے لیے خود واشنگٹن گئے

اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن سے ملاقات کرکے انہیں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔رابرٹ ہینیگن نے جو دستاویزات سی آئی اے سربراہ کو دی ان میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے براہ راست امریکی صدارتی مہم پر اثرانداز ہونے کے ثبوت موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن سے دوماہ قبل یہ اطلاع مل جانے کے باوجود امریکی الیکشن میں روسی مداخلت روکنے کے لیے انٹیلی جنس کمیونٹی نے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی ایجنسیوں میں روسی مداخلت کی نوعیت پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا۔

امریکی خفیہ ایجنسیاں 2016ءمیں ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ای میل سرورز ہیک ہونے کے واقعے سے آگاہ تھیں اور ایف بی آئی ڈونلڈٹرمپ کے روس کے ساتھ مبینہ تعلقات پر تحقیقات شروع کر چکی تھی۔

Axiosنے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر اوباما بھی کو بھی صدارتی الیکشن سے ایک ماہ قبل معلوم ہو گیا تھا کہ روس ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے ستمبر 2016ءمیں جی 20کانفرنس میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے کہا بھی تھا کہ وہ امریکی الیکشن میں مداخلت سے باز رہیں