آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کھل کر اعلان جنگ کردیا، نوازشریف کے پیروں تلے سے زمین نکال دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں مقدمات اور کشمالہ طارق کے دفتر میں روکے جانے کی وجہ سے شہرت پانیوالے اینکرپرسن مطیع اللہ جان نے لکھا کہ ہے کہ طبل جنگ بج چکا ہے،اس کی آواز صرف ان تیس صحافیوں کو سنائی دی ہے جنھیں خصوصی طور پر جی ایچ کیو میں طلب کر کے بریفنگ دی گئی۔سینئر صحافی شاہین صہبائی نے چار گھنٹے پر محیط اس “آف دی ریکارڈ” بریفنگ کے بارے میں سوشل میڈیا پر انکشاف کیا، صہبائی نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کے اینکرز اور ایڈیٹرز آرمی چیف کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے بارے میں خاموش کیوں ہیں۔
مطیع اللہ جان کے مطابق راقم کسی جی ایچ کیو کی میٹنگ میں مدعو ہونے کے لئے “صداقت اور امانت ” کے کڑے معیار پر پورا تو شاید نہیں اترتا مگر پھر بھی بطور صحافی شاہین صہبائی کے اٹھائے گئے سوال کو جائز سمجھتا ہوں،آرمی چیف سے چار گھنٹے کی بریفنگ لینے والے خوش قسمت صحافیوں میں ایسے ایسے نام بھی شامل ہیں جن کی صحافتی ساکھ پر یقیناً کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اسی لئے اتنی طویل اور اہم ترین”آف دی ریکارڈ” بریفنگ سے متعلق شہریوں کے جاننے کے آئینی حق کو عارضی طور پر نظر انداز کر نا ان کے نزدیک ایک پیشہ ورانہ اخلاقی مجبوری ہو گی۔ مطیع اللہ جان کے بقول بطور صحافی ہم میں سے کوئی بھی ہمارے سامنے ہونے والی “آف دی ریکارڈ” گفتگو کو کبھی بھی بطور خبر نشر کرنا نہیں چاہے گا۔”آف دی ریکارڈ” گفتگو سے مراد کسی اہم اور مجاز عہدیدار کا صحافی کے ساتھ رازداری کی شرط پر اہم معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے “آف دی ریکارڈ” کے اس تسلیم شدہ صحافتی اصول کا کبھی کبھی ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے، صحافیوں کو ایسی معلومات دینے کے تین مقصد ہوتے ہیں۔
پہلا مقصد صحافی کو مخصوص اہم معلومات دوسرے ذرائع سے حصول کی امکان کی صورت میں اس خبر کو اشاعت سے روکنے کے لئے اسے پاس بلا کر “آف دی ریکارڈ” کی شرط کے ساتھ وہی خبر شئیر کر دی جاتی ہے۔
دوسرا مقصد صرف مخصوص حلقوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے صحافی یا صحافیوں کو ایک ڈاکیے کے طور پر استعمال کرنا اور تیسرا سب سے اہم مقصد تمام میڈیا اور صحافیوں کو خبردار کرنا پیار سے دھمکی دینا ہوتا ہے کہ اس ایسی بحران میں ادارے کی یہ سوچ ہے جو ملکی مفاد میںہے اور اس سوچ کے خلاف جانے والے کسی صحافی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔
مطیع اللہ جان کے مطابق جی ایچ کیو میں آرمی چیف کی ملک کے نامور صحافیوں کو چار گھنٹے کی بریفنگ کے بعد چوبیس گھنٹے تک عوام کو اندھیرے میں رکھا جانا یقیناً ایک خبر ہے اور اس بریفنگ میں کیا باتیں ہوئی لیکن چونکہ راقم الحروف اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا تو “قابل اعتماد ” صحافتی ذرائع کا سہارا لیتے ہوئے اس اجلاس کا محض اتنا خلاصہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ آرمی چیف نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کھل کر اپنامو¿قف بیان کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مو¿قف “آف دی ریکارڈ” نہ ہوتا اور پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا ہوتا تو پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کا رہا سہا بھرم بھی نہ رہتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی در نااہلی کے اور آنے والے عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل کروانے کے لئے تمام ضروری اقدامات بلا جھجک اٹھائے جانے کا فیصلہ سنایا گیا اور دلیل یہ ہے کہ ہر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد لازمی ہو گا کیونکہ ایک شخص کے پیچھے پورے ملک کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا، وہ ایک شخص نواز شریف ہے۔عدالتیں جو فیصلہ بھی کریں گی، فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے۔ کسی سیاسی غیر یقینی کی صورت میں فوج عدلیہ کا ساتھ دیگی اور اس حکم مانے گی۔
مطیع اللہ جان نے مزید لکھا کہ اگر ایسی باتیں اس بریفنگ میں ہوئی ہیں تو فوج کی جیگ برانچ کا ایک معمولی افسر وکیل بھی آپکو بتائے گا کہ یہ ایک “سیاسی سرگرمی” تھی، یہ کہنا کہ فوج عدلیہ کے ساتھ ہے۔
مطیع اللہ جان نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ بریفنگ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نیب کا ادارہ سب کا بلا امتیاز، بلاتفریق احتساب کرے گا۔ جنرل مشرف کو حکومت نے خود بھیجا اور حکومت اور عدالتی طرف سے اس معاملے کو آئین کے مطابق چلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ مشرف غداری کیس میں دس ماہ کی حالیہ پھرتیاں بھی شائد اس حوالے سے منفی تاثر کو زائل کرنے کی ایک خال خولی کوشش ہی لگتی ہے، ملک کی معیشت کی حالت دگرگوں ہے اور ہماری پالیسیاں ناکام، فوج ملکی سالمیت کی خاطر تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔امریکہ میں حال ہی میں مقرر کئے گئے نوجوان سفیر علی صدیقی کی قابلیت اور تجربے پر سوال اٹھایا گیا۔ چار گھنٹے کی اس ملاقات میں جو کچھ بھی ہو ا، اس کو کسی صورت بھی غیر سیاسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اینکر کے مطابق یہ “آف دی ریکارڈ” تاریخی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکی جماعت عدالتی فیصلوں کے باوجود اور ان کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے میں بظاہر کامیاب نظر آ رہی ہے، کچھ لوگ آئندہ انتخابات کو ملکی عدلیہ کے ان فیصلوں سے متعلق ریفرنڈم بھی قرار دے رہے ہیں۔آرمی چیف کی صحافیوں سے اس طویل ترین ملاقات کا وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور انکی حکومت کو علم ہو نہ ہو مگر ایک بات واضح ہے کہ یہ آئین اور جمہوری اداروں کی بالادستی ہر گز نہیں۔ اگر آئندہ انتخابات کے بعد بھی ایسی ہی کمزور سیاسی حکومت وجود میں آنی ہے کہ جس کے ماتحت ادارے “آف دی ریکارڈ” میٹنگوں میں اپنے پیشہ وارانہ اور آئینی حلف سے روگردانی کرتے ہوئے سیاسی بیان بازی کریں تو پھر پاکستان کے “عوام لنڈورے ہی بھلے”۔ ایسی ہی بریفنگوں سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ فوج اور عدلیہ مل کر ایسا ماحول بنا رہے ہیں کہ جس سے عوام کے ذہنوں کو کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف پراگندہ کیا جائے اور بلوچستان میں “سیاسی ” تبدیلی کے بعد اب سینیٹ چیئرمین کے انتخابات کے معاملات بھی ایسے ہی خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔ اصولی طور پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو جی ایچ کیو میں ہونے والی اس میٹنگ کا نوٹس لینا چاہیے اور آئندہ کے لئے صحافیوں کو بھی ایسی غیر آئینی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
مطیع اللہ جان نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان کے صحافیوں نے جمہوریت کے لئے طویل جنگ لڑی ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ ہماری ماضی کی قربانیوں کا سودا ایسی غیر آئینی “آف دی ریکارڈ” بریفنگوں میں شریک ہو کر اور پھر خاموش رہ کر کریں، وگرنہ تاریخ ایسے پاکستانی صحافیوں کوان الفاظ میں یاد کرے گی”شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے”۔

ضرور پڑھیں:آفریدی نے بدتمیزی کی تمام حدیں پار کر دیں، 19 سالہ نوجوان کو آﺅٹ کر کے اسے ایسا اشارہ کر دیا کہ سوشل میڈیا صارفین بھی غصے سے آگ بگولہ ہو گئے، نوجوان کا کیا حال ہوا؟ دیکھ کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے