ابنِ قاسم ۔ لٹیرا یا مسیحا؟

سندھ انسانی تہذیب کے اولین مراکز میں سے ایک ہے۔ بہت سے کھنڈرات شاندار ماضی کے شاہد ہیں۔ یہی تہذیبی ترقی بہ قول جی ایم سید ایرانی، یونانی، عرب ، افغانی اور دیگر حملہ آوروں کو یہاں لے آئی۔

دیبل پرعربوں کا پندھرواں حملہ سترہ سالہ محمد بن قاسم نے کیا۔ دیبل کا محاصرہ دس دن جاری رہا۔ گھر کے بھیدی نے مندر کے سرخ جھنڈے کو منجنیق سے داغنے کا مشورہ دیا اور قلعہ فتح ہو گیا۔

دیبل کی بندرگاہ اپنے وقت کے معروف تجارتی روٹ پر تھی۔ یہ کب اور کس نے قائم کی، اس کے بارے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دیبل اور بھنبھور ایک ہی جگہ کے دو نام ہیں؟ اگر ہاں تو دیبل کب بھنبھور بنا؟ اس حوالے سے بھی کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔

میں چشم تصور سے دیکھنے لگا کہ کبھی یہاں کتنی رونق ہوتی ہوگی۔ ایرانی، یونانی، سیتھن، پارتھی، رائے، چچ، کسں کس نے اس مدفون شہر پر حکومت کی ہو گی۔ مختلف ممالک کے بادبانی جہاز سمندر سے یہاں آتے ہوں گے۔ گیارہویں صدی نے دریا نے اپنا رخ کیا تبدیل کیا کہ حالات کے صرصر نے ہنستا بستا شہر سرد کر دیا۔ اب یہاں ایک تباہ حال شہر کے نشانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

بھنبور میوزیم میں موجود ماڈل اور نقشے کے مطابق قلعے کے شمال میں صدر دروازے کے سامنے سے دریائے سندھ گزرتا تھا۔ دریائی رستے سے منجنیقیں لائی گئیں۔ اب یہاں گھارو کریک کا پانی ہے۔

داہر اور قاسم کا مقابلہ اروڑ کے قلعے کے باہر ہوا۔ چچ نامہ کے مطابق داہر کے پاس مختلف آپشنز موجود تھے لیکن اس نے سرِعام جنگ کرنے اورغیرت مند مفتوح بننے کو ترجیح دی۔ دس دن جنگ جاری رہی۔ داہر کی فتح قریب تھی لیکن اپنوں نے وفا نہ کی۔ بے پناہ خون ریزی ہوئی۔ داہر کا سر قلم کر دیا گیا۔ بہنوں نے جوہر کی رسم کا احیا کیا۔ بیٹیاں باپ کے کٹے سر کے ساتھ دمشق روانہ کر دی گئیں۔ جہاں چند روایتوں کے مطابق انہیں دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا۔

محمد بن قاسم مسلسل فتوحات کرتا ملتان جا پہنچا جہاں سے اسے اچانک واپس بلا لیا گیا۔ سلیمان بن عبدالملک نے حجاج سے اپنا انتقام لینے کے لیے دوسرے جرنیلوں کی طرح ابنِ قاسم کو بھی عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا ۔

قاسم قزاق تھا یا نجات دہندہ؟ ابنِ قاسم نے مہرانیوں کو موالی بنایا یا انہیں غلامی سے چھڑایا؟ اس حوالے سے بحث اب تک جاری ہے۔ حامی انہیں غازئ اسلام، عمادالدین، ابوالبہاراور دیگر کئی القابات سے نوازتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ارضِ مہران خورشید اسلام سے منور ہو گئی اور مظلوموں کو قزاقوں سے نجات ملی۔ یہ نجات دہندہ نہ آتا تو ہم اب تک سندھی لنگ اور یونی پوجا میں پڑے ہوتے۔ اس لیے ہر سال دس رمضان المبارک کو یومِ باب الاسلام منایا جاتا ہے۔

مخالفین ابنِ قاسم کو قزاق اور راجہ داہر کو فخرِ مہران کہتے ہیں کہ وہ دھرتی کے دفاع کے لیے سامراج کے سامنے جھکا نہیں اور ہر سال دو جولائی کو ان کا دن مناتے ہیں۔ اپنے موقف کی حمایت میں کتابوں، حوالوں، تجزیوں اور مضامین کے انبار لگا دیے ہیں۔ ان کے مطابق عورتوں کو چھڑانے کے لیے دیبل پر حملہ محض ایک بہانہ ہے۔ حملے کی وجوہات سیاسی اور معاشی تھیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک درجن سے زائد حملے سندھ فتح کرنے کے لیے ہو چکے تھے۔

اگر اس معاملے پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو اصل مجرم حجاج بن یوسف اور ولید بن عبدالملک بنتے ہیں جنہوں نے سندھ پر حملے کا پروگرام بنایا۔

محمد بن قاسم کی خوش نصیبی کہیے کہ گیارہ سو سال بعد وہاں پاکستان بن گیا جہاں اس نے فتوحات کے جھنڈے گاڑے تھے۔ تاریخِ پاکستان کا پہلا باب ابنِ قاسم کے نام سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے نام پر کراچی میں بندرگاہ، کلفٹن میں ایک باغ اور ملتان سٹیڈیم سمیت بہت سی اور یادگاریں ہیں۔ برصغیر میں اقوام نے صاحبِ عزت بننے کے لیے اپنے اجداد کا تعلق قاسم کی فوج کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ عرب نسبت قائم ہو سکے۔ بہت سی قبریں اور مزارات ایسے ہیں جن پر لکھا ہے کہ یہ ولی اللہ محمد بن قاسم کے ساتھ جہاد کے لیے یہاں آئے اور شہید ہوئے۔